BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 April, 2006, 10:52 GMT 15:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیرالا میں مسلم ووٹ تقسیم ہوگیا

 کیرالا انتخابات
دونوں محاذ مسلم ووٹوں پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔
انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالا ایسی ریاست ہے جہاں بیس فیصد عیسائیوں کے ساتھ ساتھ تقریباً چوبیس فیصد مسلمان آباد ہیں۔

کیرالا میں مسلمانوں کی کئی چھوٹی چھوٹی مذہبی تنظیمیں ہیں جو عام طورپر کانگریس کے زیر قیادت یو ڈی ایف یعنی یونائٹیڈ ڈیموکریٹک محاذ میں شامل جماعت انڈین یونین مسلم لیگ کے حامی رہی ہیں لیکن اس بار جماعت اسلامی نے مسلمانوں سے مارکسی کمیونسٹ پارٹی کی رہنمائی والے ’لیفٹ ڈیموکریٹک
فرنٹ‘ کو ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔


اگرچہ بیشتر تنظیمیں اب بھی کانگریس اتحاد کے ساتھ ہیں لیکن اختلافات کے سبب مسلم رائے دہندگان دو حصّوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔ کیرالا میں جماعت اسلامی کمیونسٹوں کی روایتی حریف رہی ہے لیکن اب اس کا کہنا ہے کہ چونکہ ’لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ‘ امریکی سامراجیت کے خلاف ہے اس لیئے نظریاتی طور پر وہ جماعت کے فطری اتحادی ہیں۔

کالی کٹ میں جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ قومی اور بین الاقوامی سیاست کے پس منظر میں ’لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ‘ کی حمایت کا اعلان کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’امریکی سامراجیت پوری دنیا کے لیئے ایک بڑا چیلنچ ہے اور ہندوستان میں اس کے خلاف لیفٹ ڈیموکریٹک
فرنٹ نے آواز اٹھائی ہے‘۔

ملاّ پورم میں مسلم لیگ کئی نشستوں پر کامیابی حاصل کرتی رہی ہے

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ سیاسی مقاصد کے لیئے مسلم ووٹ بینک استعمال کرتی ہے مگر ان کے لیے فلاحی کام نہیں کرتی لیکن انہوں نے تسلیم کیا کہ شمالی کیرالا کے بعض علاقوں میں لیگ کافی مقبول ہے اورانتخابات میں اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔

سینئر صحافی ایم پی پرشانت کا کہنا ہے کہ کیرالا میں مسلمانوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیئے ’لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ‘ کافی دنوں سے کوشاں تھا اور ایران جیسے مسئلے سے اس بار ان کا کام آسان ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ’لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ کے قریباً بیالیس فیصد روایتی ووٹ ہیں وہ چاہتا ہے کہ اس میں اور اضافہ کرے تاکہ مغربی بنگال کی طرح وہ کیرالا میں بھی مسلسل جیت حاصل کر سکے‘۔

مسٹر پرشانت کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اور ’پی ڈی پی‘ کی بائیں محاذ کی حمایت سے مسلم ووٹ منقسم ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ’ایسے علاقے جہاں مسلم لیگ آسانی سے انتخاب جیتا کرتی تھی اس بار وہاں سخت مقابلہ ہے اور ایسا لگتا ہے کہ بایاں محاذ مسلم رائے دہندگان کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوا ہے‘۔

مسلم رائے دہندگان دو حصّوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔

اس سلسلے میں مسلم لیگ کے جنرل سیکریٹری کنیا علی کٹّی کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی اور پی ڈی پی کی اپیل کا انتخابات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ بی بی سی سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ’جماعت کا اپنا خفیہ ایجنڈا ہے وہ خود ایک سیاسی جماعت بن کر ابھرنا چاہتی ہے۔ کیرالا میں بیشتر مسلم تنظیمیں ہمارے ساتھ ہیں اور ایک دو کے الگ ہونے سے انتخابات پر کوئی خاص اثر نہیں پڑےگا‘۔

ملاّ پورم میں مسلمانوں کی اکثریت ہے جہاں مسلم لیگ کئی نشستوں پر کامیابی حاصل کرتی رہی ہے لیکن علاقے کےلوگوں سے بات چیت کے بعد پتہ چلا کہ اس بار مسلم دو حصوں میں تقسیم ہیں۔ سیّد علی کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نے مسلمانوں کی تعلیم کے لیے کافی انتظامات کیے ہیں اس لیئے’ میں اسی کا حامی ہوں‘ لیکن جعفر کو اس سے اختلاف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ’مسلم لیگ ہمیشہ مسلمانوں کے ووٹ سے کامیاب ہوتی ہے لیکن انہیں اپنی مٹھی میں سمجھ کر ان کے لیے کوئی فلاحی کام نہیں کرتی ہے اس لیے میں تبدیلی چاہتا ہوں‘۔

محمد رفیق کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ کے مقابلے بایاں محاذ کے امیدوار زیادہ بہتر ہیں اس لیے وہ اس بار بائیں محاذ کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ عبدالقادر کا کہنا تھا کہ مسلمانوں میں اختلافات کو میڈیا نے کچھ زیادہ ہوا دی ہے۔

جہاں مسلم لیگ آسانی سے انتخاب جیتا کرتی تھی اس بار وہاں سخت مقابلہ ہے

ان اختلافات کے نتائج کیا مرتب ہوں گے یہ تو وقت ہی بتائےگا لیکن فی الوقت دونوں محاذ اپنی کشتی پار لگانے کے لیے مسلم ووٹوں پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔

کیرالا میں سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ‘ نے ایک سوچی سمجھی پالیسی کے تحت یہ کوششیں کی ہیں اور وہ اس میں کچھ حد تک کامیابی بھی ہوا ہے۔

اگر’ لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ‘ کیرالا کے مسلمانوں کو اپنا روایتی حلیف بنانے میں کامیاب ہو گئی تو یہ ریاست بھی اس کے لیئے مغربی بنگال ثابت ہو سکتی ہے جہاں اس کی انتیس برسوں سے حکومت ہے لیکن بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ فرنٹ نے مسلمانوں کو لبھانے کے لیے جن مسلم تنظیموں کا انتخاب کیا ہے وہ سیاسی نقطہ نظر سے صحیح نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد