BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 April, 2006, 07:27 GMT 12:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مغربی بنگال:تیسرے مرحلے کی ووٹنگ

ووٹنگ
بنگال میں تیسرے مرحلے کے لیئے ووٹنگ ہو رہی ہے
انڈیا کی ریاست مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے تیسرے مرحلے کے لیئے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔

دارالحکومت کولکتہ اور اس کے اطراف کے شمالی اور جنوبی پرگنہ ضلوں کے چھہّتر اسمبلی حلقوں میں ووٹنگ شروع ہوگئی ہے۔

جمعرات کو ہونے والی ووٹنگ میں حکمران بائيں محاذ کے دس وزراء کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ ان میں وزیرِاعلٰی بدھا دیو بھٹاچاریہ بھی شامل ہیں جو کولکتہ کے جادھو پور حلقے سے انتخاب لڑ رہے ہیں اور ان کا مقابلہ حزبِ اختلاف کی جماعت ترینامول کانگریس کے دیپک گھوش سے ہے۔

مقامی نامہ نگاروں کے مطابق بڑی تعداد میں لوگ ووٹ ڈالنے پہنچ رہے ہیں اور ووٹنگ کے دوران کسی بھی گڑبڑ سے نمٹنے کے لیئے پوری ریاست میں ہزاروں کی تعداد میں نیم فوجی دستے اور پولیس اہلکار تعینات کیئے گئے ہیں۔

ریاست کی 294 اسمبلی نشستوں کے لیئے پانچ مرحلوں میں ووٹنگ ہو رہی ہے اور پہلے اور دوسرے مرحلوں میں ریاست میں ستّر فیصد کی شرح سے ووٹ ڈالے گئے ہیں۔

چوتھے مرحلے میں ستاون اور پانچویں اور آخری مرحلے میں انچاس سیٹوں کے لیئے مئی کی تین اور آٹھ تاریخ کو ووٹ ڈالے جائیں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 11 مئی کو ہوگی۔

ان انتخابات کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیئے گئے ہیں

مغربی بنگال میں گزشتہ انتیس برسوں سے مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت میں بایاں محاذ اقتدار میں ہے۔ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی ساتویں بار فتح حاصل کرنے کی پر زور کوشش کر رہی ہے جبکہ حزب اختلاف کی جماعت ترینامول کانگریس بائيں محاذ کی مبینہ ناکامیوں کی بنیاد پر عوام سے ریاست میں ’تبدیلی‘ کی اپیل کر رہی ہے۔

مرکز میں بایاں محاذ کانگریس کی حمایت کرتا ہے لیکن مغربی بنگال میں یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی حریف ہیں۔

ماضی میں بایاں محاذ زمین کی اصلاحات، زرعی پالیسی اور سماجی بہبودی کی بنیاد پر انتخابات لڑتا آیا ہے لیکن اب تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں کمیونسٹ پارٹیوں نے تبدیلی کی ضرورت محسوس کی ہے اور پچھلے چند برسوں میں وزیرِ اعلٰی بدھادیو بھٹاچاریہ نے صنعت کاری اور بنیادی وسائل کی ترقی پر توجہ دی ہے۔

اسی بارے میں
’اب تبدیلی ضروری ہے،
21 April, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد