BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 April, 2006, 07:24 GMT 12:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیرالا میں انتخابی مہم زوروں پر

بائیں بازو کے اتحاد کی کامیابی کے آثار زیادہ ہیں
ہندوستان کی جنوبی ریاست کیرالا میں اسمبلی انتخابات ہورے ہیں اور فی الوقت پوری ریاست ڈیموکریٹک فیسٹیول میں ڈوبی ہوئی ہے۔ پہلے مرحلے کی پولنگ ختم ہوچکی ہے اوروسرے مرحلے کی پولنگ کے لیئے انتخابی سرگرمیاں اپنے شباب پر ہیں۔

ویسے تو کئی سیاسی جماعتیں انتخابی اکھاڑے میں ہیں لیکن اصل مقابلہ حکمراں جماعت کانگریس کی قیادت والے یو ڈی ایف یعنی یونائٹیڈ ڈیموکریٹک محاذ اور مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت والے ایل ڈی ایف یعنی لیفٹ ڈیموکریٹک محاذ کے درمیان میں ہے۔

آزادی کے بعد سے یہی دو محاذ اس ریاست پر حکمرانی کرتے رہے ہیں اور پانچ برس حکومت کرنے کے بعد تاریخ میں صرف ایک بار ہی ایسا ہوا ہے کہ حکمراں محاذ نے مسلسل دو بار انتخاب جیتا ہو۔ اس بار بھی حکمراں محاذ کوسخت حکومت مخالف رجحان کا سامنا ہے لیکن کانگریسی وزیر اعلی اومن چانڈی کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت دوبار اقتدار حاصل کرکے نئی تاریخ رقم کرےگی۔

لیکن ایل ڈی ایف کے کارکنان کی انتخابی مہم پوری ریاست میں چھائی ہوئی ہے اور اب تک کے تمام تجزیے اور جائزوں میں یہی کہا گيا ہے کا اس کی کامیابی یقینی ہے۔ معروف صحافی گوری داسن نائر کا کہنا ہے کہ اس بار بائیں کے محاذ کے جیتنے کےآثار زیادہ ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’اِگزٹ پول اور سروے میں کچھ باتیں صحیح ہیں اور اس محاذ کے جیتنے کے امکانات بھی زیادہ روشن ہیں۔ لیکن یہ کہنا درست نہیں ہے کہ انہیں بڑی کامیابی ملےگی، بلکہ میرے خیال سے واضح اکثریت کے لیئےانہیں بڑی محنت کرنی پڑےگی۔‘

یوں تو ریاست کے سبھی بڑے سیاسی رہنما آج کل انتخابی مہم میں مصروف ہیں تاہم حکمراں محاذ کی قیادت وزیراعلی اومن چانڈی کے ہاتھ میں ہے اور کمیونسٹ رہنما اچھوتا نندن نے بائیں بازو والے محاذ کی باگ ڈور سنبھال رکھی ہے۔

مرکز میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ریاست کیرالا میں کبھی بھی کھاتا نہیں کھولا ہے۔ بی جے پی اس بار پوری کوشش میں ہے کہ وہ اس بار کم سے کم اسمبلی میں اپنا کوئی امید وار بھیج سکے۔ اسے ریاست میں دس فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل ہوتے ہیں لیکن وہ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ اپنا کوئی خاص اثر چھوڑ سکے۔

ایک سو چالیس رکنی اسمبلی کے لیئے انسٹھ سیٹوں کے انتخابات گزشتہ ہفتے ختم ہوئے ہیں۔ دوسرے مرحلے کے انتخابات کے لیئے انتخابی مہم تیز ہوگئی ہے جس کے لیئے پولنگ انتیس اپریل کو ہوگی۔ پہلے مرحلے میں وزیراعلئی اومن چانڈی سمیت انکے گیارہ کابینی رفقاء میدان میں تھے۔

دوسرے مرحلے کی انتخابی سرگرمیاں اپنے شباب پر ہیں جس میں چھ ضلعوں کی 66 نشستوں کے لیے آئندہ انتیس تاریخ کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اس میں کالی کٹ،ارناکلم وائناڈ، پالگھاٹ، تریچو اور `مالاپلّم جیسیے شمالی اضلاع شامل ہیں۔ دوسرے مرحلے میں کمیونسٹ رہنما اچوتا نندن بھی انتخابی میدان میں ہیں جنکے متعلق پیشین گوئیاں کی جارہی ہیں کہ ریاست کی اگلی حکومت کی باگ ڈور انکے ہاتھ میں ہوگی۔

ملاپلپم اور کالی کٹ میں مسلمان ایک بڑی تعداد میں ہیں اور روایتی طورپر یہاں کانگریس کی ایک حلیف جماعت انڈین مسلم لیگ کو کامیابی ملتی رہی ہے۔ لیکن اس بار مسلم تنظیموں میں اختلافات کے سبب ملا پلّم میں بائیں بازو کے محاذ سے مقابلہ کافی سخت ہے۔

آخری مرحلے کے انتخابات تین مئی کو ہونگے جس میں پندرہ نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ووٹوں کی گنتی پندرہ مئی کو ہوگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد