 | | | ڈی ایم کے کے رہنما ایم کرونانیدھی |
اس ڈائری کے قارئین گزشتہ کئی ہفتوں سے حیدرآباد میں آنے والی ڈرامائی تبدیلیوں اور ترقی کی کہانیاں سن کر اکتا چکے ہوں گے لہذا اس ہفتہ ہم آپ کو حیدرآباد کے باہر جنوب کی دوسری ریاستوں میں لیئے چلتے ہیں جہاں اس وقت ریاستی اسمبلی کے انتخابات کی ہوا زور و شور سے چل رہی ہے اور انتخابی ڈرامہ بازیاں اپنے عروج پر ہیں۔ ووٹروں کے لیئے کلر ٹیلی ویژن تامل ناڈو کی سیاست کبھی بھی گلیمر اور رنگین کرداروں سے خالی نہیں رہی ہے۔ سیاست دانوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ اقتدار کے لیئے کچھ بھی کرسکتے ہیں- حزب اختلاف کی اصل جماعت ڈی ایم کے کے رہنما ایم کرونانیدھی نے اپنی کٹر حریف وزیراعلی جۓ للیتا کے خلاف ایک بڑی ہی دلچسپ چال چلی ہے۔ انہوں نے دو ایسے انتخابی وعدے کیئے ہیں جو مخالفین کے لیئے حیران کن اور مبصرین کے لیئے بڑے ہی دلچسپ ہیں۔ ڈی ایم کے نے یہ انتخابی وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ برسراقتدار آتی ہے تو غریبوں میں رنگین ٹیلی ویژن سیٹ تقسیم کرے گی۔ ڈی ایم کے کے اس وعدے سے خط غربت کے نیچے زندگی گزارنے والے 53 لاکھ خاندانوں کو چھوٹے کلر ٹیلی ویژن سیٹ ملیں گے جن کی قیمت دو ہزار روپے ہے۔ اس طرح ڈی ایم کے اگر برسراقتدار آتی ہے تو صرف ٹیلی ویژن کی تقسیم سے سرکاری خزانے پر ایک ہزار ساٹھ کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا۔ دوسرا دلچسپ وعدہ کرونانیدھی نے یہ کیا ہے کہ وہ سرکاری راشن شاپس پر فروخت ہونے والے چاول کی موجودہ قیمت ساڑھے تین روپے فی کلو سے گھٹاکر دو روپے فی کلو کردیں گے۔ اس وقت تامل ناڈو کے تقریبا ڈیڑھ کروڑ خاندانوں کو ہر مہینہ فی کس بیس کلوگرام چاول ملتے ہیں۔ اگر رعایتی قیمت مزید گھٹ کر دو روپے کلو ہوجاتی ہے تو اس سے سرکاری خزانے پر مزید 540 کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا۔  | | | تامل ناڈو کی وزیراعلی جۓ للیتا | تاہم کرونانیدھی کو اس کی زیادہ فکر نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تامل ناڈو جیسی خِوشحال ریاست کے لیۓ اس غریب نوازی کا بوجھ اٹھانا زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔ دراصل کروناندھی اس بار ہر قیمت پر برسراقتدار آنا چاہتے ہیں۔ جۓ للیتا اس صورتحال سے پریشان ضرور ہیں لیکن وہ اسے ظاہر نہیں کرنا چاہتیں۔انہوں نے کرونانیدھی پر پلٹ کر وار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے وعدے ریاست کی معیشت کےلیئے بہت مہنگے پڑیں گے اور اس سے خزانے پر 15 ہزار کروڑ کا بوجھ پڑے گا۔یہ تو محض شروعات ہے۔ آٹھ مئی کو الیکشن ہونے تک اس ریاست میں بہت کچھ دیکھنے اور سننے کو ملے گا اور اس پر فلمی رنگ غالب رہے گا- جماعت اسلامی کمیونسٹوں کے ساتھ تامل ناڈو کی پڑوسی ریاست کیرالا میں سیاست نے ایک بہت بڑی قلابازی کھائی ہے۔ اس ریاست میں جہاں تین کروڑ بیس لاکھ کی آبادی میں 24 فیصد مسلمان ہیں، کئی مسلم تنظیموں نے حکمران کانگریس پارٹی کو زبردست دھکا دیا ہے اور آئندہ مہینے کے اسمبلی انتخابات میں حزب اختلاف کی جماعت مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے زیرقیادت محاذ کی تائید کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس میں سب سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ پہلی مرتبہ مسلم مذہبی تنظیم جماعت اسلامی نے بھی کمیونسٹ محاذ کی تائید کا اعلان کیا ہے۔ کیرالا کی جماعت اسلامی کے امیر عارف علی نے یہ کہہ کر اس فیصلے کی حمایت کی ہے کہ کئی مسائل پر جماعت اسلامی اور سی پی آئی ایم کے درمیان ہم آہنگی ہے جن میں ماحول کا تحفظ بھی شامل ہے۔ وہ خاص طور پر اس بات سے خوش ہیں کہ کمیونسٹ محاذ نے مسلمانوں اور دوسرے پسماندہ طبقات کے لیئے محفوظ کوٹے کی آٹھ ہزار سرکاری ملازمتوں پر بھرتی کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔  | مسلم کمیونسٹ اتحاد  کیرالا میں سیاست نے ایک بہت بڑی قلابازی کھائی ہے۔ اس ریاست میں جہاں تین کروڑ بیس لاکھ کی آبادی میں 24 فیصد مسلمان ہیں، کئی مسلم تنظیموں نے حزب اختلاف کی جماعت مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے زیرقیادت محاذ کی تائید کرنے کا اعلان کیا ہے  |
جماعت اسلامی اور دوسری مسلم تنظیموں کے اس موقف کی ایک وجہ یہ بھی سمجھی جارہی ہے کہ مارکسی کمیونسٹ پارٹی نے کھل کر ایران نواز موقف اختیار کیا ہے اور حکومت ہند پر اس بات کےلیئے دباؤ ڈالا ہے کہ وہ ایٹمی پروگرام کے معاملے میں ایران کے خلاف امریکہ کا ساتھ نہ دے۔ جماعت اسلامی کے علاوہ عبدالناصر مدنی کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی کمیونسٹ محاذ کی تائید کا اعلان کیا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عبدالناصر مدنی کوئمبتور میں سلسلہ وار بم دھماکوں کے واقعات کی پاداش میں جیل میں قید ہیں۔جہاں مارکسی پارٹی کا ایک دھڑا مسلم جماعتوں کی تائید سے خوش ہے وہیں دوسرے کو اس بات کی تشویش ہے کہ اس سے ہندوؤں میں ان کے خلاف ردعمل بھی پیدا ہوسکتا ہے۔ ان میں کون صحیح ثابت ہوگا یہ آئندہ ماہ کے انتخابات کے نتائج واضح کردیں گے۔ آئی ٹی کے میدان میں ہند-پاک تعاون انفارمیشن ٹیکنالوجی کے محاذ سے تازہ خبر یہ ہے کہ پاکستان کی دو بڑی کمپنیاں شاہین گروپ اور کریسنٹ گروپ لاہور کراچی اور اسلام آباد میں کال سنٹرز قائم کرنے کے لیئے ہندوستانی کمپنیوں سے مدد کی خواہش مند ہیں۔ آئی ٹی صنعت کے ذرائع کے مطابق یہ کمپنیاں چاہتی ہیں کہ ہندوستان کے تجربے کارماہرین پاکستانی نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو کال سنٹرز چلانے کی تربیت دیں۔ اس کے لیئے نہ صرف ہندوستانی کمپنیوں کو اچھے معاوضے کی پیشکش کی جارہی ہے بلکہ ویزا کے معاملہ میں ان کے لیۓ قواعد کو نرم کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔  | | | کال سنٹر میں کام کرنے والی ایک خاتون | دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلے ہی سے کوئی دو درجن ہندوستانی اس وقت پاکستان میں ان پراجکٹس پر کام کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں ہندوستان کی ایک کمپنی ایسٹرانیٹ کام دو پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کررہی ہے۔ اس وقت پاکستان میں کال سنٹر کی صنعت بالکل ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کا کل کاروبار 50 ملین ڈالر تک محدود ہے جبکہ ہندوستان اس معاملہ میں بہت آگے نکل چکا ہے اور آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس کے میدان میں اس کی برآمدات 15 ارب ڈالر سے بڑھ چکی ہیں۔ آسمان سے باتیں کرتی ہندوستان کی معیشت جب ہندوستان کی معیشت کا ذکر چل ہی نکلا ہے تو کچھ اعداد و شمار اور سہی۔ ہندوستان کی تیز رفتار اقتصادی ترقی اور معاشی خوشحالی اس وقت پوری دنیا میں مرکز توجہ اور موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ ممبئی اسٹاک ایکسچنج کا حساس اشاریہ برابر بڑھتا ہی چلا جارہا ہے اور آثار یہ ہیں کہ آئندہ ہفتے کے دوران یہ 12 ہزار پوائنٹس کا نشانہ پار کرجائے گا اور کیوں نہ ہو جبکہ بیرونی سرمایہ کار ہندوستانی منڈی سے ہونے والے منافع سے بہت خوش ہیں- ریزرو بینک آف انڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران ہندوستان میں لگائے گئے سرمایہ پر ملٹی نیشنل کمپنیوں، غیر مقیم ہندوستانیوں اور قرض دینے والی بیرونی کمپنیوں کو کل ملا کر 10 ارب ڈالر کا فائدہ ہوا ہے جو کہ ملک کی تاریخ میں ایک ریکارڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ برس یہ منافع تقریبا سات ارب ڈالر تھا۔ اسی طرح ہندوستان میں ایک اور معاشی ریکارڈ یہ قائم ہوا ہے کہ سال 2005 کے دوران دنیا بھر میں پھیلے غیرمقیم ہندوستانیوں نے 23 ارب ڈالر سے زیادہ کا زرمبادلہ وطن بھجوایا ہے جو کہ کسی بھی ملک کے بیرونی شہریوں کی جانب سے اپنے وطن بھجوائے گئے زرمبادلہ کے مقابلہ میں زیادہ ہے۔اس معاملے میں دو سال قبل تک چین سب سے آگے تھا لیکن اب ہندوستان کو دنیا بھر میں پھیلے اپنے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ غیرمقیم شہریوں نے نمبر ایک پوزیشن پر پہنچادیا ہے۔ |