دکن ڈائری: اگادی، حزب اختلاف کے بھی نجومی۔۔۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک برہمن نے کہا ہے یہ سال اچھا ہے۔ ’اگادی‘ تلگو زبان بولنے والوں کےلیۓ سال نو کے آغاز کا تہوار ہے جو آندھرا پردیش میں بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ اس دن کی ایک بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس موقع پر نجومی اور پنڈت آئندہ ایک برس کےلیۓ اپنی پیشین گوئیاں سناتے ہیں اور ستاروں کی چال اور زائچہ دیکھ کر بتاتے ہیں کہ ان کے خیال میں سال نو میں کیا اچھا اور کیا برا ہونے والا ہے۔ اسی طرح کی سب سے بڑی تقریب ریاستی حکومت کے زیراہتمام حیدرآباد میں منعقد ہوتی ہے جس میں خود وزیراعلی شرکت کرتے ہیں اور اس موقع پر ایک سرکاری پنڈت اپنی پیشین گوئیاں کرتا ہے جسے لوگ بڑی دلچسپی سے سنتے ہیں۔ خوش خبری پر خوش اور بری پیشین گوئی پر پریشان ہوتے ہیں۔ لیکن حالیہ کچھہ عرصے سے یہ سارا معاملہ ایک مضحکہ خیز رخ اختیار کرگیا ہے کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ یہ پنڈت، ویدوں اور شاستروں کے ماہرین یہ دیکھ کر پیشین گوئی کرنے لگے ہیں کہ ان کے سننے والے کون ہیں۔ اس سال حکومت کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کی اصل جماعت تلگو دیشم نے بھی اگادی کی تقاریب کا بڑے پیمانے پر اہتمام کیا۔ جہاں سرکاری تقریب میں موجود پنڈت مگاڑی چندر شیکھر شاستری نے حکومت نواز پیشن گوئیاں کیں تو تلگو دیشم کی تقریب میں شریک پنڈت نے کہا کہ ہوا تو اپوزیشن کے قائد چندرا بابو نائیڈو کے حق میں چل رہی ہے۔ شاستری صاحب نے بتایا کہ اس برس خوب اچھی بارش ہوگی، فصلیں لہلہائیں گی، وزیراعلی راج شیکھر ریڈی کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی اور وہ سکون سے حکومت کریں گے اور اگر کچھہ گڑبڑ ہو بھی گئی تو حکومت کا فائدہ ہوگا- دوسری طرف تلگو دیشم کے پنڈت سرینواس گرگیا کا کہنا تھا کہ وزیراعلی ریڈی کے لیۓ معاملہ گڑبڑ ہی گڑبڑ ہے۔ بارش ہوگی لیکن اتنی زیادہ کہ سیلاب اور طوفان سے زبردست تباہی ہوگی۔ سیاسی اعتبار سے حالات تلاطم خیز ہوں گے۔ درمیانی مدت کے اِنتخابات ہوں گے۔ تلگو دیشم کے صدر چندرا بابو نائیڈو مرکز میں کئی سیاسی جماعتوں کو ساتھ لیکر ایک تیسرا محاذ تشکیل دیں گے، خود ہی اس کی قیادت کرینگے اور اسے کانگریس اور بی جے پی دونوں کے متبادل کے طور پر پیش کریں گے۔
سن 2005 میں کئی برسوں کے بعد معمول سے کہیں زیادہ بارش ہوئی، تمام ذخائر آب بھرگۓ اور فصل بھی بہت شاندار رہی۔ تو کیا یہ پنڈت بھی آج کل سیاستدانوں کی طرح ہوا کا رخ دیکھ کر بات کرنے لگے ہیں؟ تلنگانہ کا شور جب سے قومی اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے تلنگانہ کے مطالبے کی تائید کا اعلان کیا ہے تب سے تلنگانہ ریاست کی تحریک چلانے والی سیاسی جماعت تلنگانہ راشٹر سمیتی (ٹی آر ایس) کا رنگ ہی بدل گیا ہے۔ ٹی آر ایس کے سربراہ چندر شیکھر راؤ پرامید ہیں کہ اب ان کی منزل دور نہیں ہے، وہ تو اس اعلان کے ساتھہ دہلی گئے ہیں کہ اب کی بار تلنگانہ ریاست لیکر ہی لوٹیں گے۔ انہوں نے یہ دھمکی بھی دے ڈالی ہے کہ اگر کانگریس کی زیر قیادت مخلوط یو پی اے حکومت نے نئی ریاست کے قیام کا بل پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا تو ان کی جماعت یو پی اے حکومت سے علیحدگی اختیار کرلےگی۔ جو قارئین ہندوستان کی گنجلک سیاست سے واقف نہیں ہیں انہیں بتاتے چلیں کہ ٹی آر ایس ایک چھوٹی سی علاقائی جماعت ہے۔ پارلیمنٹ میں اس کے صرف پانچ ارکان ہیں لیکن یو پی اے حکومت کئی جماعتوں نے مل کر بنائی ہے اسی لیۓ ٹی ار ایس بھی اس طرح کی دھمکیاں دیتی رہتی ہے۔ منموہن سنگھ کی حکومت میں اس کے دو وزیر ہیں جن میں سے ایک چندر شیکھر راؤ ہیں۔ چندرشیکھر راؤ کہہ رہے ہیں کہ تلنگانہ ریاست کا قیام صرف کچھ وقت کی بات ہے۔ جبکہ نجومی چندر شیکھر شاستری اور سرینواس گرگیا کا کہنا ہے کہ تلنگانہ کبھی نہیں بنے گا۔ اب تلنگانہ کے عوام حیران ہیں کہ سچ کون بول رہا ہے چندر شیکھر راؤ یا چندر شیکھر شاستری؟ ویسے چندر شیکھر راؤ بھی ستاروں کی چال کو اپنے حق میں کرنے کےلیۓ اپنی سی کوشش کررہے ہیں۔ خصوصی یگیہ اور پوجا کے بعد اب وہ درگاہوں کی چوکھٹ بھی چوم رہے ہیں۔ ملک کا سب سے بڑا سافٹ ویئر کیمپس دوسری طرف انفوسس کے سربراہ نارائن مورتی نے اعلان کیا کہ اس پراجیکٹ میں پچیس ہزار لوگوں کو ملازمتیں ملیں گی اور یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا سب سے عصری سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ سنٹر ہوگاجس پر کمپنی ایک ہزار دو سو پچاس کروڑ روپے خرچ کرےگی۔
ریاست کے حکام کا کہنا ہے کہ انفوسس کے کیمپس کے قیام سے انہیں سن 2009 تک سافٹ ویئر کی برآمدات کو چودہ ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ انفوسس ہندوستان کی سب سے بڑی ملٹی نیشنل آئی ٹی کمپنی ہے جس کےلیۓ تیس ملکوں میں پچاس ہزار سے زیادہ لوگ کام کرتے ہیں اور جس کی سافٹ ویئر کی برآمدات دو ارب ڈالر سے زیادہ ہیں۔ اور اب انٹیل بھی یہ پلانٹ جسے میگا فیب بھی کہا جاتا ہے جنوبی کوریا کے ایک صنعتکار جون من قائم کررہے ہیں جو پہلے مرحلے میں چھ سو پچاس ملین ڈالر اور دوسرے مرحلے میں ڈھائی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ رکھتے ہیں اور آئندہ پندرہ برسوں میں وہ بارہ ملین ڈالر کے سرمائے سے اس میں مزید توسیع کرنا چاہتے ہیں۔ یہ نینو ٹیکنالوجی پارک اس فیب سٹی کے علاوہ ہے جو امریکہ کی ایک اور کمپنی سیم انڈیا تین ارب ڈالر کے خرچ سے حیدرآباد میں قائم کررہی ہے اور اس کےلیۓ انٹیل کی حریف اے یم ڈی کمپنی ٹیکنالوجی فراہم کرے گی۔ ان دونوں کمپنیوں میں 25 ہزار افراد کو روزگار ملنے کی امید ہے۔ ویسے اربوں ڈالر کے یہ دونوں پراجیکٹ ایک ہی کام کرینگے۔ کمپیوٹر، سیل فون، ٹیلی ویژن، ڈی وی ڈی اور دوسری الیکٹرانک اشیاء کےلیۓ مائیکرو پراسیسرس اور سلیکن چپ کی تیاری، اسی طرح حیدرآباد دکن نہ صرف سافٹ ویئر بلکہ الیکٹرانک ہارڈویئر کا بھی ایک بڑا مرکز بننے کی طرف رواں دواں ہے۔ |
اسی بارے میں بش ریلی، مادھوری، امرسنگھ اور جسیکا26 February, 2006 | انڈیا مصوری، شاہی شادی اور صدر بش کے کھانے 19 February, 2006 | انڈیا حکومت کی خارجی مصیبت 12 February, 2006 | انڈیا ہوائی اڈوں کی نج کاری کا مسئلہ05 February, 2006 | انڈیا ہندوستان تیسری بڑی معیشت29 January, 2006 | انڈیا عدلیہ و پارلیمنٹ دلی میونسپلٹی اور بندر22 January, 2006 | انڈیا موت کے اسباب جاننے کیلیے سروے15 January, 2006 | انڈیا غیر محفوظ دِلی، تاج محل کےلیے ابٹن اور کار میں ٹی وی08 January, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||