انتخابات: ایک دن باقی، ہلچل میں کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی پولنگ میں اب صرف ایک دن باقی ہے لیکن ریاست کی دارالحکومت کلکتہ میں انتخابی ہلچل نظر نہیں آرہی ہے۔ شہرمیں انتخابی پوسٹروں کی تعداد بھی کافی کم ہے اور عوام سے ووٹ کی اپیل کرتے ہوئے سیاسی رہنماؤں کی بڑے بڑے ہورڈنگز بھی کم نظر آرہے ہیں۔ کلکتہ میں تیسرے مرحلے کے ووٹ ستائیس اپریل کوڈالے جائیں گے۔ شہر کے پرانے علاقوں کی تنگ گلیوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن لاؤڈ اسپییکر پر تقریریں کرنے میں مصروف ہیں لیکن انہیں سننے والے لوگوں کی تعداد کافی کم ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابات کے دوارن اس صورت حال کی وجہ انتخابی کمیشن کا سخت رویہ ہے۔ کمیشن نے مغربی بنگال میں انتخابات کے دوران سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے دیواروں پرانتخابی نعرے لکھنے، پوسٹر، ہورڈنگز اور بینرز لگانے پر پابندی عائد کی ہے۔ منٹو پاترو ان لوگوں میں شامل ہیں جنہیں اسمبلی انتخابات کا بے صبری سے انتظار رہتاہے لیکن اس باراسمبلی انتخابات ان کے لیے اچھی خبر لے کر نہیں آئے۔
پیشے کے اعتبار سے رنگ ریز منٹو پوسٹر، بینر اور ہورڈ نگز بناکر اچھی کمائی کرتے تھے لیکن اس بار جب انہیں انتخابی کمیشن کی ہدایات کا پتہ چلا تو ان کے چہرے پر مایوسی چھا گئی۔ گزشہ چار دہائی سے یہ کام کرنے والے منٹو پاترو بتاتے ہیں کہ’مختلف سیاسی جماعتوں کے انتخابی مہم کے لیے پوسٹرز، بینرز اور ہورڈنگز کی رنگائی سے تقریبا دس ہزار روپے کی آمدنی ہو جاتی تھی لیکن اس مرتبہ صرف چار سے پانچ ہزار روپے ہی بہ مشکل کمائی ہوسکی ہے‘۔ ایک نوجوان اندرجیت بینرجی کا تعلق بھی اسی پیشے سے ہے لیکن ان کے خیال میں ’لوگوں کو نقصان تو ضرور ہو رہا ہے لیکن اگر انتخابی کمیشن نے کوئی فیصلہ کیا ہے تو اس ميں عوام کا فائدہ ہی ہوگا‘۔ کمیشن کی پابندی کے پیش نظر انتخابی مہم میں نئے نئے طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ مختلف پارٹیوں کے حامیوں نے اپنے بال پارٹی کے انتخابی نشان کی طرح کٹوائے ہیں اور بعض نے اپنے جسم پرانتخابی نشان کا ’ٹٹو‘ پینٹ کیا ہے۔ صحافی سومون چٹوپادھیائے کا کہنا ہے کہ ابتدائی جائزے اور تجزئیے ایک بار پھر مغربی بنگال میں مارکسوا دی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت والی بائيں بازو کی حکومت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ مارکسوا دی کمیونسٹ پارٹی نے گزشتہ چھ اسمبلی انتخابات میں فتح حاصل کی ہے۔ چٹوپادھیائے کا کہنا ہے کہ’اس مسلسل جیت کی سب سے بڑی وجہ کمزور اور منقسم حزب اختلاف ہے‘۔ | اسی بارے میں انتخابات کے لیے رقم حکومت دےگی23 December, 2005 | انڈیا پانچ ریاستوں میں انتخابات 01 March, 2006 | انڈیا آسام کے انتخابات میں پولنگ شروع03 April, 2006 | انڈیا آسام کے انتخابات میں پولنگ مکمل04 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||