انتخابات کے لیے رقم حکومت دےگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں حکومت نے اس تجویز کی منظوری دے دی ہے کہ ملک میں انتخابات کے لیے فنڈز حکومت فراہم کرے۔ جمعرات کو رات گئے تک چلنے والی ایک میٹنگ میں کیبنٹ نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ اس مسئلے پر سیاسی جماعتوں سے بات چیت کرے۔ نامہ نگاروں کے مطابق حکومت کا حالیہ قدم ملک میں انتخابی اصلاحات کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ انتخابی مہموں پر آنے والے اخراجات بہت بڑھتے جا رہے ہیں اور بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت کی جانب سے انتخابی عمل میں فنڈز کی فراہمی سے انتخابی مہموں کے لیے غلط طریقوں سے رقموں کے حصول یعنی کرپشن میں کمی آئے گی۔ بھارت کے وزیراطلاعات و نشریات پریا رانجن دسمنشی نے صحافیوں کو بتایا کہ حکومت نے انیس سو اٹھانوے میں قائم کی جانے والی اندرجیت گپتا کمیٹی کی رپورٹ کو تسلیم کیا ہے جس میں یہ تجویز دی گئی تھی۔ اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ انتخابی عمل کے لیے حکومت کی جانب سے رقوم کی فراہمی بالکل منصفانہ قدم ہے لیکن الیکشن کمیشن ملک کی قومی یا سرکاری پارٹیوں کو ان فنڈز کے جائز استعمال کے حوالے سے پابند کرے۔ کمیٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن آزاد امیدواروں کو الیکشن کمیشن کی منظوری حاصل نہیں انہیں فنڈز فراہم نہیں کیے جائیں۔ ملک کے موجودہ قانون کے تحت پارلیمنٹ کے انتخابات میں حصہ لینے والے ہر امیدوار کو انتخابی مہموں کے لیے ایک ملین سے دو اعشاریہ پانچ ملین روپے تک استمال کرنے کی اجازت ہے۔ اس مختص کردہ رقم کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس امیدوار کاحلقہ انتخاب کتنا بڑا ہے لیکن عام طور پر رقم کی یہ مقرر کردہ حد غیر حقیقی سمجھی جاتی ہے اور انتحابی مہوں پرجو رقم خرچ کی جاتی ہے وہ اندازً اس مقررہ رقم سے کہیں زیادہ ہے۔ | اسی بارے میں بہار انتخابات میں بھاگلپور اور گودھرا 02 February, 2005 | انڈیا تین ریاستوں کے انتخابات مکمل 23 February, 2005 | انڈیا شدت پسندانتخابات سے آئیں: منموہن21 August, 2005 | انڈیا بہار میں انتخابات کا اعلان 03 September, 2005 | انڈیا بہار میں انتخابات کا تیسرا مرحلہ13 November, 2005 | انڈیا ضمنی انتخابات میں سنیل دت کی بیٹی 19 November, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||