ضمنی انتخابات میں سنیل دت کی بیٹی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی مہاراشٹر ریاست میں اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کے لیے ضمنی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ یہ انتخابات ممبئی کے شمال- مشرقی پارلیمانی حلقہ اور ملوان ضلع کے اسمبلی حلقے کے لیے ہوئے ہيں۔ موجودہ انتخابات میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ووٹروں نے شمال۔مشرقی ممبئی حلقے سے مشہور بالی ووڈ اداکار سنیل دت کی بیٹی اور اداکار سنجے دت کی بہن پریادت اور ملوان اسمبلی حلقے سے ریاست کے روینیو کے وزیر نارائن رانے کے مستقبل کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں کانگریس کے اہم رہنما ہیں۔ ممبئی کی شمال-مشرقی پارلیمانی حلقہ کی نشست کھیل کے مرکزی وزير سنیل دت کے انتقال کے بعد خالی ہو گئی تھی جس کے بعد وہاں سے اب ان کی بیٹی پریا دت نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا ہے۔ دونوں حلقوں میں یہ مقابلہ ریاست کی حکمراں جماعت کانگریس اور ہندو نظریاتی جماعت شیو سینا کے درمیان ہے۔ ان انتخابات میں ملوان حلقے ميں شیو سینا نے اپنے باغی رہنما نارائن رانے کو ہرانے کی ہر ممکنہ کوشش کی ہے۔ نارائن رانے کانگریس سے قبل شیو سینا میں شامل تھے لیکن جولائی میں شیو سینا نے رانے پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ پارٹی کے خلاف جاری سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ اس کے بعد رانے کو ملوان کی اسمبلی سیٹ سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔ نارائن رانے گزشتہ چار بار سے ملوان کی یہ سیٹ جیت رہے ہیں اور اس مرتبہ بھی انہیں امید ہے کہ وہ جیت حاصل کریں گے۔ لیکن اس بار مقابلہ آسان نہیں رہا ہے۔ اس بار شیو سینا کی جانی مانی ہستیوں نے موجودہ انتخابی مہم میں حصہ لیا ہے۔ ان میں بال ٹھاکرے اور انکے بیٹے اودھو ٹھاکرے جسی اہم شخصیات شامل تھیں۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ رانے اور پریاد دونوں کی جیت کی امید نظر آرہی ہیں۔ رانے جب کانگریس پارٹی میں شامل ہوئے تو ان کے ساتھ شیو سینا کے کئی حامی بھی کانگریس کی طرف آگئے تھے۔ | اسی بارے میں سنیل دت الیکشن میں تُرپ کے پتے21 April, 2004 | انڈیا ابو سالم، سنجے دت اور پریا دت15 November, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||