مغربی بنگال، انتخابی مہم زور پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست مغربی بنگال میں کمیونسٹ جماعتوں کی فتح کا سلسلہ سنہ 1977 سے شروع ہوا تھا اور گزشتہ انتیس برسوں سے کوئی دوسری جماعت اقتدار حاصل نہیں کر سکی ہے۔ کسی بھی جماعت کی یہ ایک تاریخ ساز کامیابی ہے۔ ریاست کے وزیر اعلی بدھادیو بھٹا چاریہ کا کہنا ہے کہ بائیں محاذ نے مغربی بنگال کے کمزور طبقے کے لیئے نمایاں کام کیئے ہیں اسی لیئے انہیں عوام کی حمایت ملتی رہی ہے۔ مسٹر بھٹاچاریہ کا کہنا ہے کہ ’لینڈ ریفارمز‘ یعنی زمینی اصلاحات کا عمل صرف ان ہی کی ریاست میں پورا کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کی 72 فیصد زرعی اراضی غریب اور کمزور کاشتکاروں کی ہے۔’یہ وہ کاشتکار ہیں جو ہمیشہ سے ہمارے ساتھ تھے اور ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گے یہ ہی ہماری کامیابی کا اصل راز ہے۔‘ لیکن حزب اختلاف کی جماعت ترینامول کانگریس کے مطابق سی پی ایم نے گزشتہ تمام انتخابات اپنی طاقت کے زور پر جیتیں ہیں۔ ترینامول کانگریس کے رہنما شوگاتا روؤے کا کہنا ہےکہ ’اگر انتخابات میں کوئی گڑ بڑ نہ ہو تو مستحکم حزب اقتدار ہونے کے باوجود سی پی ایم کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
مغربی بنگال میں تقریباً 27 فیصد تعداد مسلمانوں کی ہے اور ریاست میں گزشتہ تین عشروں میں فرقہ وارانہ فسادات کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔ لیکن آل انڈیا یونائیٹڈ مسلم مورچہ سے تعلق رکھنے والے غلام سرور آزاد کے خیال میں ’سی پی ایم مذہبی جذبات کے نام پر اقلیتوں کو صرف بےوقوف بنا رہی ہے۔‘ کلکتہ کے معروف صحافی شومن چٹوپادھیائے کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف بکھرا ہوا ہے اور تنظیمی سطح پر بھی بہت کمزور ہے۔ ان کے خیال میں ’وزیر اعلی بدھا دیو بھٹاچاریہ نے ریاست کی ترقی کے لیئے بعض نئی پالیسیاں اختیار کی ہیں۔ ریاست میں انتخابی مہم زوروں پر ہے اور تمام سیاسی جماعتیں ووٹروں کو لبھانے کی پر زور کوششیں کر رہی ہیں۔ یہ تو گیارہ مئی کے روز ہی پتہ چل سکے گا کے عوام نے کسے منتخب کرتے ہیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||