مغربی بنگال میں ووٹنگ شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مغربی بنگال میں انتخابات کے لیے پہلے مرحلے کی ووٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ انتخابات کے پہلے مرحلے میں تین اضلاع کے پینتالیس حلقوں میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ اس مرحلے میں دو سو ستائیس امیدواروں کا مستقبل طے کیا جائے گا۔ مدنا پور، بنکوڑا اور پرولیہ اضلاع میں ووٹ ڈالنے والوں کی تعدار تیس لاکھ خواتین سمیت تقریباً ساٹھ لاکھ ہے۔ ماؤنوازوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔ ووٹنگ کے دوران مغربی بنگال کی سرحدوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ تقریباً سات ہزار ووٹنگ بوتھوں پر ڈیجٹل کیمرا لگائے گئے ہیں۔ پہلے مرحلے کے لیے لیفٹ فرنٹ کے 43 امیدوار ہیں جس میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(ایم) کے 35 امید وارشامل ہیں۔ ترینامول کانگریس نے 39 نشستوں کے لیے اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے چار نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں ۔ کانگریس نے 36 حلقوں کے لیے اپنے امیدوار اتارے ہیں۔ وہ جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ساتھ انتخاب لڑ رہی ہے۔ مغربی بنگال میں گزشتہ چھ اسمبلی انتخابات میں مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی نے فتح حاصل کی ہے۔ اس مرتبہ انتخابی کمیشن نے مغربی بنگال میں سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے دیواروں پر انتخابی نعرے لکھنے پر پابندی عائد کی ہے ساتھ ہی کمیشن نے ان دیواروں پر بھی سفیدی کرا دی ہے جن پر پہلے سے انخابات سے متعلق کچھ لکھا ہوا تھا۔ انتخابی کمیشن نے تقریباً 12 لاکھ فرضی نام بھی ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے ہیں۔ انتخابات میں کسی بھی طرح کی گڑبڑی روکنے کے لئے کئی مقامات پر چھاپے بھی مارے گۓ ہیں۔ انتخابی کمیشن کے اس رویہ پر بائيں بازو کی جماعتوں نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ | اسی بارے میں پانچ ریاستوں میں انتخابات 01 March, 2006 | انڈیا آسام کے انتخابات میں پولنگ مکمل04 April, 2006 | انڈیا کلکتہ: ہتھ رکشے نہیں چلیں گے15 August, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||