بڑودہ فسادات اور ہندو مسلم تفریق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات کے شہر بڑودہ میں حالیہ تشدد آمیز کاروائیوں سے شہر میں بسنے والے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان پائی جانے والی تفریق واضح ہوگئی ہے۔ بڑودہ میں تشدد اس وقت پھوٹ پڑا تھا جب میونسپل کارپوریشن نے ناجائز تعمیرات کے خلاف مہم کے دوران دو سو سال سے بھی زیادہ پرانی مسلمانوں کی ایک درگاہ کو منہدم کر دیا۔ شہری انتظامیہ کا موقف تھا کہ سڑک کو چوڑا کرنے کے ایک منصوبے پر عملدرآمد کے لیئے ایسا کرنا ضروری تھا۔ درگاہ کے انہدام سے مسلمان مشتعل ہوگئے اور بڑے پیمانے پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ان فسادات میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔ ان فسادات سے یہاں بسنے والی دو برادریوں ہندو اور مسلمانوں میں اس واضح تفریق کا علم ہوتا ہے جو صدیوں ساتھ رہنے کے باعث بھی دور نہیں ہوسکی۔ یہاں بسنے والے کئی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل خوف کے سایے میں زندہ ہیں۔ صابری بی بی بڑودہ میں رہنے والی ایسی ہی ایک خاتون ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وہ یہاں اپنے آپ کو محفوظ نہیں محسوس کرتیں۔ ان کا کہنا تھا ’پولیس ہمیں کہہ رہی ہے کہ تم لوگ پاکستان جاؤ اور آپ پوچھتے ہیں کہ میں یہاں اپنے آپ محفوظ محسوس کرتی ہوں‘۔ انہوں نے بتایا کہ جب درگاہ کے انہدام پر ان لوگوں نے احتجاج کرنا شروع کیا تو انتظامیہ نے ہم سے سوال کیا کہ کیا ہم بھارتی نہیں ہیں۔
تاہم چارلی گاندھی نامی ایک ہندو خاتون کا کہنا ہے کہ سڑک کے اس منصوبے کے لیئے کئی مندروں کو بھی گرایا گیا ہے۔ ’تو مسلمان ایک درگاہ کے بارے میں اس قدر شور کیوں مچارہے ہیں‘۔ بڑودہ پولیس کمشنر دیپک سوارپ کا کہنا ہے کہ شہر میں ہندو مسلم کشیدگی کا معاملہ بہت نازک ہے۔ ’یہاں کسی محلہ میں ہونے والے چھوٹے سے تنازعہ کو بھی مذہبی فسادات کا نام دیا جاتا ہے‘۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ 2002 کے بعد سے ہندو اور مسلمانوں نے ساتھ رہنے کے بجائے اپنے مخصوص علاقوں میں بسنا شروع کردیا ہے۔ روایتی طور پر ہندو اور مسلمان ایک ساتھ محلوں میں رہا کرتے تھے۔ مقامیوں کا کہنا ہے کہ 2002 میں گجرات فسادات کے ساتھ ہی یہاں کے ہندو اور مسلمانوں میں بھی تقسیم واضح ہوگئی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس شہر پر ہندوؤں اور مسلمان حکمرانوں نے صدیوں حکمرانی کی ہے۔ ’جے کے بندوق والا‘ بڑودہ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ وہ مذہبی تشدد کے خلاف ہیں۔ تاہم 2002 میں ان کے گھر پر پہلی بار حملہ کیا گیا، جس کے بعد چار دفعہ انہیں اسے ہی حملوں کا سامنا رہا۔ درگاہ کے انہدام کے واقعے کے بعد انہوں نے ایسے ہی مزید حملوں کے خوف سے اپنا گھر تبدیل کرلیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سڑک کو چوڑا کرنے کا منصوبہ ’غیر ضروری‘ ہے۔ انہوں نے یہ ماننے سے انکار کردیا کہ انہدام سے سڑک وسیع کی جاسکتی ہے یا ایسا کرنے سے علاقے کے ٹریفک جام ختم ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ درگاہ کے ساتھ ہی آثار قدیمہ کا ایک عظیم گیٹ تھا جسے نہیں گرایا گیا۔ ’اگر اس بڑے گیٹ کو بھی گرادیا جائے تو پھر سڑک کی توسیع ممکن ہے‘۔ شہر کے بیشتر ہندو اس منصوبے کے حق میں ہیں۔ بڑودہ کے میئر سنیل سولانکی سے جب پوچھا گیا کہ گیٹ کو گرائے بغیر سڑک کی توسیع کیسے ممکن ہے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ صرف پرانے شہر کے لیئے ہے جس میں صرف درگاہ شامل ہے، آثار قدیمہ کی عمارت نہیں۔ ’ویسے بھی یہ گیٹ گجراتی (ہندو) حکمراں سیاجی راؤ نے تعمیر کروایا تھا۔ یہ تو شہر کا ورثہ ہے اسے کیسے گرایا جاسکتا ہے‘۔ | اسی بارے میں وڈودرہ انہدامی کارروائی معطل04 May, 2006 | انڈیا وڈودرہ: کرفیو، فوج کو تیاری کا حکم04 May, 2006 | انڈیا وڈودرہ: ایک شخص کو زندہ جلا دیا گیا03 May, 2006 | انڈیا پولیس فائرنگ سے چار ہلاک 01 May, 2006 | انڈیا گجرات کی صورتحال مزید خراب03 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||