مسلمانوں کے ادھورے خواب: دکن ڈائری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلمانوں کے ادھورے خواب گزشتہ سال کی طرح اب کی بار بھی اعلٰی تعلیمی اداروں میں داخلوں میں پانچ فیصد مخصوص نشستوں سے فائدہ حاصل کرنے کے سلسلے میں آندھرا پردیش کے مسلمانوں کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کی درخواست کومسترد کردیا ہے۔ حکومت چاہتی تھی کہ اس تعلیمی سال بھی مسلمانوں کے لیئے پانچ فیصد سیٹیں مخصوص رکھی جائیں۔ گزشتہ سال ہائی کورٹ نے مسلمانوں کو پانچ فیصد ریزرویشن دینے سے متعلق ریاستی حکومت کے قانون کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ کے اس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا یہ درخواست ابھی التوٰی میں پڑی ہے کیونکہ سپریم کورٹ کی دستوری بنچ ہی اس معاملے پر کوئی فیصلہ کرسکتی ہے۔ سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکم امتناعی دینے سے انکار کردیا۔ سپریم کورٹ کے انکار سے آندھرا پردیش کے مسلمانوں کو بہت صدمہ پہنچا ہے کیونکہ گزشتہ سال اس ریزرویشن کی بدولت انہیں میڈیکل کالجوں میں تقریبًا دو سو سیٹیں اور انجینئرنگ کالجوں میں تقریبًا چار ہزار سیٹیں ملی تھیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حیدرآباد کے رکن پارلیمینٹ اسدالدین اویسی نے کہا کہ ریزرویشن کا فائدہ پہنچانے میں ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے حکومت مسلم طلباء کے تعلیمی اخراجات کا بوجھ خود برداشت کرے۔ دوسری طرف ریاست کے وزیر اقلیتی بہبود فریدالدین نے کہا کہ حکومت اس مسئلہ کے حل کے لیئے قانونی کارروائی کررہی ہے۔
سی پی آئی ایم کے بعد اب سی پی آئی بھی نائیڈو کی دوست آندھرا پردیش کی سیاست نے ایک بار پھر بڑی کروٹ لی ہے۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے بعد ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی بھی اب تلگو دیشم کے صدر چندرا بابو نائیڈو سے ہاتھ ملانے کی تیاری کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ گزشتہ مہینے جس طرح نائیڈو اور سی پی آئی ایم کے جنرل سکریٹری پرکاش کرت کے درمیان ملاقات نے ایک نئی سیاسی صف بندی کی راہ ہموار کی تھی اسی طرح اب نائیڈو اور سی پی آئی کے جنرل سکریٹری اے بی بردھن کی ملاقات نے بھی کافی ہلچل مچادی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دونوں ہی ملاقاتیں حیدرآباد کی ایک ممتاز شخصیت اور ایک اردو روزنامے رہنمائے دکن کے مدیر سید وقارالدین کی جانب سے دیئے گئے عشائیہ میں ہوئی۔ وقارالدین نہ صرف دونوں کمیونسٹ جماعتوں سے قریبی روابط رکھتے ہیں بلکہ وہ انہیں تلگو دیشم سے دوبارہ قریب کرنے کی بھی کوشش کررہے ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں سیکولر طاقتوں کو مضبوط کرنے کے لیئے تلگو دیشم اور بائیں بازو کی جماعتوں کا قریب آنا ضروری ہے۔ جہاں ان واقعات سے تلگو دیشم کے حوصلے بلند ہوئے ہیں وہیں ریاست اور مرکز میں کانگریس سخت تشویش میں مبتلا ہوگئی ہے۔ تلگو دیشم اور بائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے اس کا ایک اشارہ اسی ہفتے ضلع پریشد کے انتخابات میں دیکھنے کو ملا جس میں ٹی ڈی پی ۔ سی پی آئی ایم اتحاد نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔
حیدرآباد میں ایک نئی یادگار حیدرآباد میں اہم یادگاروں اور عمارتوں کی فہرست میں ایک بڑا اضافہ ہونے والا ہے۔ نیویارک میں راک فیلر سنٹر اور لندن میں ملبوک ٹاور جیسی عمارتیں تعمیر کرنے والی امریکی کمپنی ٹشمین اسپریئر Tishman Spreyer پچاس ملین ڈالر یا دو سو پچیس کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے ایک بیس منزلہ آئی ٹی ٹاور تعمیر کرے گی۔ اس کے لیئے ریاستی حکومت نے شہر کے مضافات میں بارہ ایکڑ زمین اس کمپنی کو الاٹ کی ہے جس کے لیئے یہ کمپنی تقریبًا پچاس کروڑ روے ادا کرے گی۔ یہ شہر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر سافٹ ویئر کمپنیوں کا اب تک کا سب سے بڑا مرکز ہوگا۔ اس ٹاور میں کل ملا کر پندرہ لاکھ مربع فٹ کی گنجائش ہوگی اور تقریبًا سات ہزار افراد بیک وقت کام کرسکیں گے۔ ویسے اس وقت حیدرآباد میں ہائی ٹیک سٹی اور دوسرے بڑے مراکز میں تقریبًا ایک لاکھ پینسٹھ ہزار افراد برسرروزگار ہیں۔ | اسی بارے میں دکن ڈَائری: ووٹروں کے لیئے کلر ٹیلی ویژن08 April, 2006 | انڈیا بش کے حلیف کی آمد: دکن ڈائری15 April, 2006 | انڈیا شمال و جنوب کا فرق، مفت ٹی وی اور پھلوں کا بادشاہ03 June, 2006 | انڈیا فٹبال کا عالمی بخار اور حیدرآباد کا دکھ10 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||