فٹبال کا عالمی بخار اور حیدرآباد کا دکھ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس وقت پوری دنیا شدت کے ساتھ فٹ بال کے بخار میں مبتلا ہے۔ اب کی بار کہا جاتا ہے کہ آئندہ ایک مہینے میں فٹبال ورلڈ کپ دنیا بھر میں کوئی 30 ارب شائقین دیکھیں گے۔ حیدرآباد دکن بھی اسی بخار کی لپیٹ میں ہے۔ لیکن یہاں شائقین کے دل اور دماغ میں فٹبال کے حالیہ جوش و خروش کے ساتھ ماضی کی یادیں بھی بسی ہوئی ہیں۔ اس ماضی کی جب فٹبال اس شہر کا سب سے مقبول ترین کھیل ہوا کرتا تھا۔ فٹبال کی قومی ٹیم میں حیدرآباد کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل تھی۔ حیدرآباد کی اور خاص طور پر حیدرآباد پولیس کی ٹیم اتنی زبردست ہوا کرتی تھی کہ اس کے کھلاڑیوں کے بغیر ہندوستان کی ٹیم کی تشکیل ناممکن تھی۔ 1956 ء کے ملبورن اولمپکس میں جانے والی ہندوستانی ٹیم حیدرآباد کے آٹھ کھلاڑی شامل تھے۔ ان میں یوسف خان، ذوالفقار، کنّنن ، سلام اور عزیز الدین جیسے کھلاڑیوں کے نام آج بھی لوگوں کی زبان پر ہیں۔ اس دور کے عظیم کھلاڑیوں میں سے آج بہت کم بقید حیات ہیں۔ ذوالفقار الدین ان میں سے ایک ہیں۔ ہندوستانی فٹبال کے اس سنہری دور کی یادوں میں ڈوبتے ہوئے ستر سالہ ذوالفقار الدین کہتے ہیں کہ اس اولمپکس میں ہندوستان سیمی فائنل تک پہنچا تھا جہاں اسے یوگوسلاویہ سے شکست نے ہرا دیا۔ لیکن اس نے اس کا سخت مقابلہ کیا۔ عام لوگوں کو اس بات کا بڑا افسوس اور دکھ ہے کہ ایک ارب سے زیادہ کی آبادی والا ہندوستان عالمی فٹبال کے نقشے پر کہیں بھی نہیں اور خود حیدرآباد میں فٹبال کا کوئی وجود نہیں رہ گیا ہے۔ فٹبال کے عروج و زوال کو قریب سے دیکھنے والے صحافی ایم اے رحیم کہتے ہیں کہ اس زمانے میں ایک سکول ٹیچر عبدالرحیم اور ایک پولیس آفیسر شیوکمار کی ذاتی قربانیوں اور انتھک کوششوں کے نتیجے میں حیدرآبادی فٹبال کو اتنا عروج حاصل ہوا تھا لیکن اب لوگوں کو ذاتی مفاد عزیز ہے اور سیاست نے ہر کھیل کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ اب نہ اچھے استاد رہے، نہ اچھے کھلاڑی، نہ اچھے میدان۔
ارب پتی چندرشیکھر فٹبال میں نئی جان ڈالینگے حالانکہ ابھی مغربی بنگال، گوا اور کیرالا جیسی کچھ ریاستیں ہیں جہاں فٹبال کو مقبولیت اور اہمیت حاصل ہے لیکن وہاں بھی کوئی بین الاقوامی معیار کی ٹیم اور کھلاڑی ابھر نہیں سکے۔ لیکن اب جبکہ پوری دنیا فٹبال ورلڈ کپ کے پیچھے دیوانی ہورہی ہے ہندوستان کے ایک بڑے صنعتکار اور سرمایہ کار راجیو چندر شیکھر نے فٹبال میں ایک نئی جان ڈالنے کا منصوبہ بنایا۔ کئی ارب کی دولت کے مالک چندرشیکھر نے بنگلور میں ایف سی بنگلور کے نام سے ایک فٹبال کلب قائم کیا ہے۔ ان کا ارادہ ہے کہ وہ ایک ایسی ٹیم تیار کریں جو ایشین لیگ کے مقابلوں میں حصہ لے اور بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کے لیئے جگہ بنائے۔ چندرشیکھر بنگلور کے دوسرے بڑے سرمایہ کار ہیں جنہوں نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ اس سے پہلے یو بی گروپ کے سربراہ وجئے ملیا نے بھی بنگال کی دو بڑی ٹیموں ایسٹ بنگال اور موہن بگان میں 50 فیصد کی حد تک سرمایہ کاری کی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اتنے بڑے صنعتکاروں کی دلچسپی کے بعد پیسے کی کمی کی شکایت ختم ہوتی ہے اور کچھ اچھے کھلاڑی ابھرتے ہیں یا نہیں۔ اردو کے ایم بی اے گریجویٹس کی مانگ اور اب کچھ بات اردو زبان کی۔ ہندوستان میں اردو کا ذکر چھیڑتے ہی لوگ اس کے انحطاط کے اسباب کی ایک فہرست گنوانے لگ جاتے ہیں۔ سب سے بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اردو میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کا مستقبل تاریک ہے اور اسے پڑھ کر وہ نہ تو کوئی روزگار حاصل کر پاتے ہیں اور نہ ہی ان کا مستقبل محفوظ ہوسکتا ہے۔ لیکن اب کچھ لوگوں نے اس تصور کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حیدرآباد میں واقع مولانا آزاد قومی اردو یونیورسٹی نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ اردو زبان کو ذریعہ تعلیم بنا کر بھی ترقی کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ اردو کی اس واحد یونیورسٹی میں ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (ایم بی اے) کا دو سالہ کورس مکمل کرنے والے 14 طلبا کے گروپ نے ایک نئی تاریخ بنائی ہے۔ ان بچوں کے نتائج آنے سے پہلے چار بڑی کمپنیوں نے ان میں سے سات نوجوانوں کو بھرتی کر لیا ہے۔ ان میں ایچ ڈی ایف سی بینک اور مورپین لیبارٹریز جیسے بڑے ادارے بھی شامل ہیں۔ یونیورسٹی میں شعبہ بزنس منیجمینٹ کے سربراہ ایم اے عظیم کا کہنا ہے کہ ان طلبا کو پلیسمینٹ سیل کے ذریعہ یہ ملازمتیں ملی ہیں اور باقی طلباء کو بھی بہت جلد اسی طرح کی ملازمتیں مل جائیں گی۔ یہ صحیح ہے کہ ان طلباء کو آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم اور بڑے بزنس اسکولوں کے طلبا کی طرح خطیر تنخواہوں کی پیشکش نہیں ملی ہوگی ( جیسا کہ حال ہی میں انڈین اسکول آف بزنس کے ایک مسلم طالب علم کو ایک کروڑ روپۓ سالانہ کی تنخواہ کی پیشکش ہوئی تھی) لیکن یہ بات خود بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ اردو ذریعہ تعلیم رکھنے والے طلباء کو اس طرح یہ ملازمتیں ملی ہیں۔ یونیورسٹی کے پروفیسر اے ایم پٹھان کہتے ہیں کہ اس نے اس تاثر کو توڑ دیا ہے کہ اردو تعلیم بے فیض ہے اور روزگار نہیں دلا سکتی۔ فاصلاتی ذریعہ تعلیم سے اس یونیورسٹی سے 56 ہزار طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور اب یہ یونیورسٹی خلیجی ممالک، برطانیہ اور امریکہ کے ان شہروں میں اپنے سٹڈی سنٹر قائم کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے جہاں اردو بولنے والوں کی ایک کثیر تعداد رہتی ہے۔ |
اسی بارے میں بش کے حلیف کی آمد: دکن ڈائری15 April, 2006 | انڈیا دکن ڈائری: اگادی، حزب اختلاف کے بھی نجومی۔۔۔01 April, 2006 | انڈیا ’نظام دکن‘ کی نجی زندگی سرخیوں میں26 March, 2006 | انڈیا نئے منصوبے، آبی ذخائر کو خطرہ18 March, 2006 | انڈیا حیدرآباداور بنگلور رقابت میں شدت11 March, 2006 | انڈیا پاکستانی اشیاء نے دکن کا دل جیت لیا11 February, 2006 | انڈیا دلی: ’اردو اور نیو میڈیا‘ سیمینار01 February, 2006 | انڈیا حیدرآباداردوسمینار، کمپیوٹر لِٹریسی 05 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||