سیاسی بزرگوں کا راج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چینائی میں ایک مہینے کے انتخابی شور شرابے کے بعد اب خاموشی چھائی ہے۔ اِیک نئی حکومت بن گئی ہے اور غریب خاندان بڑی امید کے ساتھ ان تحفوں کی راہ دیکھ رہے ہیں جن کا سیاستدانوں نے ان سے وعدہ کیا۔ تمل ناڈو اور پڑوسی ریاست کیرالا میں اس انتخابی لہر نے سیاسی نقشہ مکمل طور پر بدل دیا ہے اور ایک طرح سے ’سیاسی بـزرگوں‘ کا دور لوٹ آیا ہے۔ تمل ناڈو میں اپنی آمریت اور تغلق شاہی کے لیئے بدنام جیہ للیتا رخصت ہوئیں تو ان کی جگہ بیاسی سالہ متھوویلو کروناندھی نے لے لی۔ پڑوسی ریاست کیرالا میں کانگریس کی زیر قیادت متحدہ جمہوری محاذ کو بری طرح شکست اٹھانی پڑی اور وہاں مارکسی کمیونسٹ پارٹی کی زیر قیادت بائیں بازو کے اتحاد کو بھاری اکثریت سے کامیابی ملی اور امکان ہے کہ وہاں بھی تراسی سالہ وی ایس اچوتانندم کو وزیراعلیٰ بنایا جائےگا۔ کسی جمہوری نظام میں شاذ و نادر ہی ایسا ہوا ہوگا کہ اتنے عمر رسیدہ سیاستدان سیاست کے مرکزی سٹیج پر لوٹ کر آئے ہوں۔ تمل ناڈو کی کہانی کئی اعتبار سے بڑی دلچسپ اور رنگارنگ ہے اور ان انتخابات کے نتائج سے وہاں کی سیاست میں کئی بڑی تبدیلیوں کے اشارے ملے ہیں۔ تمل ناڈو کے رائے دہندہ اب تک ایک واضح فیصلہ سنانے اور کسی ایک جماعت کو واضح اکثریت دینے کے عادی رہے ہیں لیکن پہلی بار انہوں نے ایک ایسا غیر واضح فیصلہ دیا ہے جس میں کسی ایک جماعت کو اکثریت حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ ڈی ایم کے 234 حلقوں میں سے 96 سیٹوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے اور اب وہ دوسری حلیف جماعتوں کی تائید سے اقلیتی حکومت چلائے گی۔ تمل ناڈو میں ایک اور بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ اب تک وہاں دو دراوڑ جماعتیں ڈی ایم کے اور انا ڈی ایم کے غالب رول ادا کرتی تھیں لیکن ان انتخابات میں نئی جماعتیں ابھر کر سامنے آئیں۔
جیہ للیتا نے بھی محاذ بنانے کی کوشش کی لیکن انہیں ایم ڈی ایم کے کے سوا کوئی دوسری قابل ذکر جماعت نہیں مل سکی۔ اس طرح تمل ناڈو بری طرح سیاسی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا اور وہاں ذات پات کی بنیاد پر ایک نئی صف بندی ہوئی ہے۔ نئے ستارے کا عروج کروناندھی کی دلچسپ شخصیت آزادی سے پہلے وہ برہمن دراوڑ تحریک کے پرجوش کارکن تھے اور تحریک کے بانی پیریار اور اس کے بعد انّا دورائی کے ساتھ کام کیا تھا۔ 1969 میں انا دورائی کی موت کے بعد انہیں وزیراعلیٰ بنایا گیا۔ 1971 میں ان کی زیر قیادت پارٹی کو تاریخ کی سب سے بڑی انتخابی کامیابی ملی۔ سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ کروناندھی تمل فلموں کے مشہور اسکرپٹ رائٹر بھی رہے ہیں اور ان کے قلم نے ایم جی رامچندرن کو تمل فلموں کا سب سے مقبول ہیرو بنانے میں اہم رول ادا کیا تھا لیکن 1972 میں دونوں کی لڑائی ہوگئی اور ایم جی آر کے نام سے مشہور رامچندرن نے انا ڈی ایم کے کے نام سے اپنی ایک نئی پارٹی بنالی اور بہت جلد اقتدار پر قابض ہوگئے۔ 1987 میں ایم جی آر کی موت کے بعد ایک اور تمل ہیروئن جیہ للیتا ان کی جانشین بنیں۔ حالانکہ کروناندھی کو کئی مرتبہ شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہر بار وہ ایک نئی طاقت کے ساتھ لوٹ کر آئے۔ بیاسی سال کی عمر میں کروناندھی آج بھی روزانہ اپنی پارٹی کے ترجمان تمل روزنامہ ’مرسولی‘ جاتے ہیں وہاں اپنا کالم لکھنے کے بعد پارٹی کے دفتر جاتے ہیں اور ساتھ میں وہ شاعری بھی کرتے ہیں اور فلموں کے اسکرپٹ بھی لکھتے ہیں۔ ان کی شخصیت کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کروناندھی کی تین بیویاں ہیں جن سے انہیں چھ بچے ہیں۔ ڈی ایم کے کی پالیسیوں اور طریقہ کار کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے مخالف برہمن فلسفے کے تحت ایسی شادیوں کی مخالفت کرتی ہے جس میں برہمن پنڈت مذہبی رسومات ادا کریں۔ وہ چاہتی ہے کہ دراوڑ طریقے کے مطابق لوگ اپنی شادیاں خود کریں۔ شادی بیاہ سے ڈی ایم کا تعلق کا یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے اور ڈی ایم کے نے اپنے انتخابی منشور میں یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ وہ ہر غریب لڑکی کی شادی پر پندرہ ہزار روپے کا تحفہ دے گی۔
آپ چینائی میں کسی سے بھی پوچھ لیں کہ ان انتخابات میں کروناندھی کی جیت کا اصل سبب کیا ہے۔ ننانوے فیصد لوگ کہیں گے کہ ان کا انتخابی منشور۔ ایسا بہت کم ہوا ہوگا کہ کسی بھی الیکشن میں کسی پارٹی کا انتخابی منشور اس طرح کا رہا ہو۔ کروناندھی نے یہ منشور کچھ اس طرح تیار کیا کہ پہلے ہی دن ان کے حریف ڈھیر ہوگئے۔ انہوں نے اس منشور میں عوام سے ایسے وعدے کیئے کہ جس کا دوسروں کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ انہوں نے باون لاکھ غریب خاندانوں کو مفت رنگین ٹیلی ویژن دینے اور سرکاری راشن کی دوکانوں پر فروخت ہونے والے چاول کی قیمت ساڑھے تین روپے فی کیلو کرنے کا وعدہ کیا۔ ساتھ ہی بے زمین کسانوں کو دو ایکڑ زمین دینے اور کسانوں کے قرض معاف کردینے کا بھی اعلان کیا۔ جیہ للیتا سے پہلی بڑی غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے پہلے کروناندھی کے وعدوں کی مخالفت کی اور ان کا مذاق اڑایا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ کروناندھی کی جانب عوام کا جھکاؤ بڑھتا جارہا ہے تو انہوں نے بھی ایسے ہی وعدے کرنے شروع کردیئے۔ رنگین ٹیلی ویژن کے جواب میں انہوں نے بارہویں جماعت کامیاب طلباء اور طالبات کو مفت کمپیوٹر دینے کا وعدہ کیا۔ دو روپے کِلو چاول کے جواب میں انہوں نے دس کِلو چاول مفت دینے کا وعدہ کیا۔ غریب لڑکی کی شادی کے لیئے انہوں نے چار گرام سونا دینے کا بھی وعدہ کیا لیکن عوام نے کروناندھی کے وعدوں کو زیادہ قابل بھروسہ سمجھا اور جیہ للیتا کے وعدوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ڈی ایم کے کے حق میں اپنا فیصلہ دیا۔ تمل ناڈو میں تاریخ کی پہلی مخلوط حکومت تو بن نہیں سکی لیکن تاریخ کی پہلی اقلیتی حکومت ضرور بن گئی ہے جو دوسری جماعتوں کی تائید پر منحصر ہوگی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کروناندھی کی یہ حکومت کہاں تک مستحکم ثابت ہوگی اور وہ کس حد تک اپنے وعدہ پورے کرسکیں گے۔ | اسی بارے میں نئے منصوبے، آبی ذخائر کو خطرہ18 March, 2006 | انڈیا ’نظام دکن‘ کی نجی زندگی سرخیوں میں26 March, 2006 | انڈیا دکن ڈائری: اگادی، حزب اختلاف کے بھی نجومی۔۔۔01 April, 2006 | انڈیا دکن ڈَائری: ووٹروں کے لیئے کلر ٹیلی ویژن08 April, 2006 | انڈیا بش کے حلیف کی آمد: دکن ڈائری15 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||