بش کے حلیف کی آمد: دکن ڈائری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بش کے بعد بش کے حلیف صدر جارج بش کے بعد اب لگتا ہے کہ حیدرآباد ان کے قریبی حلیفوں کی منزل بھی بن گیا ہے۔ چنانچہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے اس ہفتے حیدرآباد میں دو مصروف ترین دن گزارے۔ ان کے ساتھ ایک 85 رکنی وفد بھی تھا جس میں روایتی لباس میں ملبوس اور سر پر بڑے بڑے صافے باندھے قبائلی افغانی مرکز توجہ بنے ہوئے تھے۔ بڑی روانی کے ساتھ انگریزی بولنے والے حامد کرزئی اور ان کے ساتھ آئے پشتو بولنے والے دوسرے ارکان افغانستان کی دو الگ الگ تصویریں پیش کررہے تھے۔ حیدرآباد میں حامد کرزئی کی مصروفیات اور ان کی باتیں افغانستان کی اس امیج سے بہت مختلف تھی جو یہاں لوگوں کے ذہنوں میں ہے۔ کرزئی نے اپنا پورا وقت ہائی ٹیک سٹی اور دوسرے سائنسی اور تعلیمی مراکز میں گزارا اور خواہش کی کہ ایسے مراکز ان کے ملک میں بھی بنیں اور اسی ٹکنالوجی سے ان کی قوم کو بھی فائدہ پہنچے۔ امریکہ کی پشت پناہی رکھنے والے حامد کرزئی اور ان کے وفد کے دوسرے ارکان کو اپنے ایک پروگرام میں اس وقت ایک دلچسپ صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جب کہ حیدرآباد میں ایران کے قونصل جنرل آغا حسین راوش بھی ایک مہمان کی حیثیت سے وہاں پہنچے۔ حامد کرزئی نے تو خیر ان سے ملاقات کی، مصافحہ کیا اور ان کے خیریت دریافت کی لیکن دوسرے عہدیدار کے چہرے سے ہچکچاہٹ عیاں تھی کہ پتہ نہیں اس مرحلہ پر افغان۔ایران ملاقات سے ’دوسروں‘ کو کیا پیام ملے؟ اب حیدراباد میں لوگ پوچھہ رہے ہیں کہ کیا حامد کرزئی کے بعد پرویز مشرف بھی حیدراباد کا رخ کرنے والے ہیں۔ بنگلور کا امیج تباہ جنوبی ہند میں فلموں اور فلم اسٹارز کے لیےلوگوں کی دیوانگی ایک افسانوی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں کے لوگوں کو فلموں کا اس قدر جنون ہے کہ وہ اپنے
ایک اور جنوبی ریاست کرناٹک میں حالانکہ کسی بھی فلمی ہیرو ہیروئن کی حکومت نہیں رہی لیکن کنڑ فلمی صنعت کے سب سے بڑے اداکار راج کمار کئی برسوں تک کرناٹک کے عوام کےدلوں پر راج کرتے رہے۔ انہیں کنڑ بولنے والے لوگوں میں ایک خاص مقام حاصل تھا اور انہیں اس زبان اور ثقافت کی علامت کی حیثیت سے دیکھا جاتا تھا۔ راج کمار کے مداح انہیں جس جنونی انداز میں چاہتے تھے اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اپنی سینکڑوں فلموں میں سے کسی بھی فلم میں انہیں اسکرین پر مرتا ہوا نہیں دکھایا گیا تھا۔ حالانکہ ایک ہندو دیومالائی کہانی پر مبنی ایک فلم میں انہیں قتل ہونا تھا لیکن راج کمار کے پرستاروں کے قہر سے بچنے کے لیے فلم ساز کو کہانی ہی بدلنی پڑی لیکن جب اسی فلمی ہیرو کی اس ہفتے حقیقی زندگی میں موت ہوگئی تو یہ پرستار اس حقیقت کو بھی قبول کرنے پر تیار نہیں ہوئے اور پورا بنگلور شہر ان کے جذبات کی آگ سے بھڑک اٹھا۔77 سالہ راج کمار کی طویل علالت کے بعد جب موت ہوئی تو شہر بنگلور لاقانونیت کی لپیٹ میں آگیا۔ ریاست کے کونے کونے سے ہزاروں لاکھوں پرستاروں کا ایک سیلاب شہر میں امڈ آیا اور جو چیز بھی اس کے راستے میں آئی وہ اسے روندتا چلا گیا۔ دکانوں، پٹرول پمپس، تھیٹروں پر حملے کیے گئے سرکاری اور نجی گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا۔ پولیس والوں کی پٹائی کی گئی۔ ایک پولیس والے کو کچل کر مار دیا گیا اور ان کے ارتھی کے جلوس تک صورتحال اس قدر خراب ہوگئی کہ پولیس کو فائرنگ کرنی پڑی اور اس میں سات افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ وہ اس تشدد کی یاددہانی تھی جو کچھ برس قبل صندل کی لکڑی کے اسمگلر ویرپن کے ہاتھوں راج کمار کے اغواء کے بعد دیکھنے میں آئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت کی کرناٹک کی حکومت نے ایک بھاری زر تاوان ادا کر کے راج کمار کو ویرپن سے چھڑایا تھا۔ بہرحال راج کمار کے پرستاروں کی لاقانونیت تشدد اور ہلاکتوں نے بنگلور کی ہائی ٹیک امیج کو بہت نقصان پہنچایا ہے اور اس سے آئی ٹی کمپنیوں اور کال سنٹرز کی صنعت کو بھی بہت نقصان ہوا کیونکہ اس کا اثر براہِ راست امریکہ اور برطانیہ کے ان لوگوں پر پڑا جو ان کال سنٹرز سے رابطہ قائم کرتے ہیں۔ آئی ٹی کمپنیوں کو ڈر ہے کہ اس سے مستقبل میں ان کے کاروبار پر برا اثر پڑے گا ویرپن کی بیوہ انتخابی میدان میں ویرپن کے ذکر پر یاد آیا کہ تامل ناڈو کے اسمبلی انتخابات میں صندل کی لکڑی کے اس خطرناک اسمگلر ویرپن کی بیو ہ متھو لکشمی بھی حصہ لے رہی ہیں۔ وہ پیناگرام حلقہ سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑیں گی۔ متھو لکشمی
|
اسی بارے میں راج کمار: آخری رسوم، آٹھ ہلاک13 April, 2006 | انڈیا انڈیا: ڈانس بار پر عائد پابندی ختم 12 April, 2006 | انڈیا جہاں بچے سانپوں سےکھیلتے ہیں11 April, 2006 | انڈیا ’میرٹھ کے لیئے رات بہت طویل ہے‘10 April, 2006 | انڈیا انڈیا فیشن ویک اختتام کو پہنچا 09 April, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: ممبئی اور بنگلور میں بھی میٹرو09 April, 2006 | انڈیا کننڑ فلموں کے راج کمار نہیں رہے12 April, 2006 | فن فنکار مہاراشٹرا: کسانوں کی خود کشی14 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||