BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بش کے حلیف کی آمد: دکن ڈائری

کرزئی اور منموہن سنگھ
روایتی لباس میں ملبوس اور سر پر بڑے بڑے صافے باندھے قبائلی افغانی مرکز توجہ بنے ہوئے تھے
بش کے بعد بش کے حلیف

صدر جارج بش کے بعد اب لگتا ہے کہ حیدرآباد ان کے قریبی حلیفوں کی منزل بھی بن گیا ہے۔ چنانچہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے اس ہفتے حیدرآباد میں دو مصروف ترین دن گزارے۔ ان کے ساتھ ایک 85 رکنی وفد بھی تھا جس میں روایتی لباس میں ملبوس اور سر پر بڑے بڑے صافے باندھے قبائلی افغانی مرکز توجہ بنے ہوئے تھے۔

بڑی روانی کے ساتھ انگریزی بولنے والے حامد کرزئی اور ان کے ساتھ آئے پشتو بولنے والے دوسرے ارکان افغانستان کی دو الگ الگ تصویریں پیش کررہے تھے۔ حیدرآباد میں حامد کرزئی کی مصروفیات اور ان کی باتیں افغانستان کی اس امیج سے بہت مختلف تھی جو یہاں لوگوں کے ذہنوں میں ہے۔ کرزئی نے اپنا پورا وقت ہائی ٹیک سٹی اور دوسرے سائنسی اور تعلیمی مراکز میں گزارا اور خواہش کی کہ ایسے مراکز ان کے ملک میں بھی بنیں اور اسی ٹکنالوجی سے ان کی قوم کو بھی فائدہ پہنچے۔

امریکہ کی پشت پناہی رکھنے والے حامد کرزئی اور ان کے وفد کے دوسرے ارکان کو اپنے ایک پروگرام میں اس وقت ایک دلچسپ صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جب کہ حیدرآباد میں ایران کے قونصل جنرل آغا حسین راوش بھی ایک مہمان کی حیثیت سے وہاں پہنچے۔ حامد کرزئی نے تو خیر ان سے ملاقات کی، مصافحہ کیا اور ان کے خیریت دریافت کی لیکن دوسرے عہدیدار کے چہرے سے ہچکچاہٹ عیاں تھی کہ پتہ نہیں اس مرحلہ پر افغان۔ایران ملاقات سے ’دوسروں‘ کو کیا پیام ملے؟

اب حیدراباد میں لوگ پوچھہ رہے ہیں کہ کیا حامد کرزئی کے بعد پرویز مشرف بھی حیدراباد کا رخ کرنے والے ہیں۔

بنگلور کا امیج تباہ

جنوبی ہند میں فلموں اور فلم اسٹارز کے لیےلوگوں کی دیوانگی ایک افسانوی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں کے لوگوں کو فلموں کا اس قدر جنون ہے کہ وہ اپنے

راج کمار کے پرستاروں کی لاقانونیت تشدد اور ہلاکتوں نے بنگلور کی ہائی ٹیک امیج کو بہت نقصان پہنچایا ہے
چہیتے ہیرو اور ہیروئن کی خاطر جان لینے اور دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی ہند کی کم سے کم دو بڑی ریاستوں تامل ناڈو اور آندھرا پردیش پر طویل عرصے تک فلمی شخصیتوں کا راج رہا ہے۔ آندھرا میں تلگو فلموں کے سب سے بڑے ہیرو این ٹی راماراؤ لگ بھگ دس بارہ برسوں تک نہ صرف ریاستی سیاست پر چھائے رہے بلکہ قومی سیاست میں بھی اہم کردار بن کر ابھرے۔ تامل ناڈو میں یم جی رام چندرن کا سیاسی کیرئر تو اس سے بھی زیادہ طویل تھا اور تامل ناڈو کے عوام پر ان کا کچھ ایسا سحر تھا کہ جب 80 کی دہائی کے اواخر میں ان کی موت ہوئی تو درجنوں لوگوں نے خودسوزی کرلی اور اب اسی تامل ناڈو پر ایک اور فلمی ہیروئن اور یم جی آر کی خاص دوست جیہ للیتا کا جادو چل رہا ہے۔

ایک اور جنوبی ریاست کرناٹک میں حالانکہ کسی بھی فلمی ہیرو ہیروئن کی حکومت نہیں رہی لیکن کنڑ فلمی صنعت کے سب سے بڑے اداکار راج کمار کئی برسوں تک کرناٹک کے عوام کےدلوں پر راج کرتے رہے۔ انہیں کنڑ بولنے والے لوگوں میں ایک خاص مقام حاصل تھا اور انہیں اس زبان اور ثقافت کی علامت کی حیثیت سے دیکھا جاتا تھا۔ راج کمار کے مداح انہیں جس جنونی انداز میں چاہتے تھے اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اپنی سینکڑوں فلموں میں سے کسی بھی فلم میں انہیں اسکرین پر مرتا ہوا نہیں دکھایا گیا تھا۔ حالانکہ ایک ہندو دیومالائی کہانی پر مبنی ایک فلم میں انہیں قتل ہونا تھا لیکن راج کمار کے پرستاروں کے قہر سے بچنے کے لیے فلم ساز کو کہانی ہی بدلنی پڑی لیکن جب اسی فلمی ہیرو کی اس ہفتے حقیقی زندگی میں موت ہوگئی تو یہ پرستار اس حقیقت کو بھی قبول کرنے پر تیار نہیں ہوئے اور پورا بنگلور شہر ان کے جذبات کی آگ سے بھڑک اٹھا۔77 سالہ راج کمار کی طویل علالت کے بعد جب موت ہوئی تو شہر بنگلور لاقانونیت کی لپیٹ میں آگیا۔ ریاست کے کونے کونے سے ہزاروں لاکھوں پرستاروں کا ایک سیلاب شہر میں امڈ آیا اور جو چیز بھی اس کے راستے میں آئی وہ اسے روندتا چلا گیا۔ دکانوں، پٹرول پمپس، تھیٹروں پر حملے کیے گئے سرکاری اور نجی گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا۔ پولیس والوں کی پٹائی کی گئی۔ ایک پولیس والے کو کچل کر مار دیا گیا اور ان کے ارتھی کے جلوس تک صورتحال اس قدر خراب ہوگئی کہ پولیس کو فائرنگ کرنی پڑی اور اس میں سات افراد ہلاک ہوگئے۔

یہ وہ اس تشدد کی یاددہانی تھی جو کچھ برس قبل صندل کی لکڑی کے اسمگلر ویرپن کے ہاتھوں راج کمار کے اغواء کے بعد دیکھنے میں آئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت کی کرناٹک کی حکومت نے ایک بھاری زر تاوان ادا کر کے راج کمار کو ویرپن سے چھڑایا تھا۔ بہرحال راج کمار کے پرستاروں کی لاقانونیت تشدد اور ہلاکتوں نے بنگلور کی ہائی ٹیک امیج کو بہت نقصان پہنچایا ہے اور اس سے آئی ٹی کمپنیوں اور کال سنٹرز کی صنعت کو بھی بہت نقصان ہوا کیونکہ اس کا اثر براہِ راست امریکہ اور برطانیہ کے ان لوگوں پر پڑا جو ان کال سنٹرز سے رابطہ قائم کرتے ہیں۔ آئی ٹی کمپنیوں کو ڈر ہے کہ اس سے مستقبل میں ان کے کاروبار پر برا اثر پڑے گا

ویرپن کی بیوہ انتخابی میدان میں

ویرپن کے ذکر پر یاد آیا کہ تامل ناڈو کے اسمبلی انتخابات میں صندل کی لکڑی کے اس خطرناک اسمگلر ویرپن کی بیو ہ متھو لکشمی بھی حصہ لے رہی ہیں۔ وہ پیناگرام حلقہ سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑیں گی۔ متھو لکشمی

ویرپن کی بیو ہ متھو لکشمی بھی حصہ لے رہی ہیں
کے لیے اس علاقہ میں کافی ہمدردی ہے کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اکتوبر 2004ء میں تامل ناڈو پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس نے ویرپن کو دھوکے سے پکڑنے کے بعد ہلاک کیا تھا جب کہ پولیس کا کہنا تھا کہ وہ ایک جھڑپ میں مارا گیا تھا۔ ویرپن ایک خطرناک اور بے حد مطلوب اسمگلر تھا جس پر دو ریاستوں کے پولیس افسروں اور محکمہ جنگلات کے افسروں کو اغواء اور قتل کرنے کا الزام تھا۔ اب متھو لکشمی کاکہنا ہے کہ وہ ان قبائلیوں کے حقوق کے لیے لڑیں گی جو اس علاقہ میں اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔


دکن ڈائری
سالِ نو پراگادی، حزب اختلاف کے بھی نجومی۔۔۔
دکن ڈَائری
تامل ناڈو میں کلر ٹی وی کا انتخابی وعدہ
آبی ذخائردکن ڈائری
نئےمنصوبے، آبی ذخائر کو خطرہ، شہری پریشان
بنگلوردکن ڈَائری
حیدرآباداور بنگلور رقابت میں شدت: عمر فارق
صدر بشدکن ڈائری
بش کادورہ: ’پانچ اندھوں کا ہاتھی‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد