’میرٹھ کے لیئے رات بہت طویل ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میرٹھ شہر اس وقت سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ کسی نےنہیں سوچا تھا کہ شہر کے قلب میں جو میلہ لگا ہے وہ موت کا میلہ ثابت ہوگا۔ پیر میلے کا آخری دن تھا۔ پورا پنڈال روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ تینوں پنڈال اس طرح بنائے گئے تھے کہ اس میں داخل ہونے کا ایک راستہ تھا اور نکلنے کا ایک دوسرا راستہ۔ آگ لگتے ہی بھگدڑ مچ گئی۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ آگ فورا پھیل گئی۔ پنڈال کے اندر کچھ لوگون نے بھگدڑ روکنے کی کوشش کی۔ لیکن آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ وہاں کسی کے پاس سوچنے کا موقع نہیں تھا۔ جس وقت آگ لگی اس وقت خاصی گرمی تھی اور جو لوگ بچ کر نکل رہے تھے وہ پانی کی طرف بھاگ رہے تھے۔گورانگ نامی ایک مقامی باشندے نے بتایا کہ اس نے کئی افراد کو انتہائی جھلسی ہوئی حالت میں گرتے اور بھاگتے ہوئے دیکھا۔ ہسپتال میں زیر علاج تقریباً سبھی عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ کسی کی کچھ سمجھ میں ہی نہییں آیا کہ یہ کیا ہوا۔ بھگدڑ میں بچ جانے والے شیو پال نے بتایا کہ ’آگ لگنے کے فورا بعد پنڈال کےمنتظمین لوگوں سے نظم و ضبط بنائے رکھنے کی اپیل کر رہےتھے اور کہ رہے تھے کہ گھبرائیے مت آگ پر قابو پا لیا جائے گا۔‘ حادثے میں سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں ان میں سے کچھ بہت بری حالت میں ہیں۔ شہر میں تین سرکاری ہسپتال ہیں۔ایک فوجی ہسپتال ہے اور کم از کم چار پرائیویٹ نرسنگ ہوم ہیں۔ لیکن بیشتر ہسپتالوں میں جلے کے علاج کی سہولیا ت نہیں ہیں۔ کئی عینی شاہدوں کا کہنا تھا کہ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اورپولیس بہت جلد جائے حادثہ پر پہنچ گئی تھی۔ رات دیر گئے تک لوگ اّپنے رشتے داروں کو تلاش کر رہے تھے۔ لاشوں کی شناخت میں کافی دقتوں کا سامنا ہے کیونکہ بیشتر لاشیں بری طرح جلی ہوئی ہیں ۔پورا میر ٹھ شہر سکتے میں ہے۔ شہر کے ایک باشندے انل شرما نے اّپنے درد کا اظہار کرتے ہوۓ کہاکہ ’میرٹھ کے لیئے آج کی رات بہت طویل ہے۔‘ | اسی بارے میں تجارتی میلے میں آتشزدگی،50 ہلاک10 April, 2006 | انڈیا دلی:فیکٹری میں آگ ، تیرہ ہلاک 07 December, 2005 | انڈیا بہار: آتشبازی نے بتیس جانیں لے لیں16 September, 2005 | انڈیا آئل رگ آتشزدگی، 7ہلاک، 45 لاپتہ27 July, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||