BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 April, 2006, 18:46 GMT 23:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا فیشن ویک اختتام کو پہنچا

بپاشا باسو انڈین فیشن ویک کے دوران
بپاشا باسو انڈین فیشن ویک کے دوران
انڈیا کے دارالحکومت دلی میں اپنے’ گرینڈ فینالے‘ شو کے ساتھ ہی’ولس لائف اسٹائل انڈیا فیشن ویک‘ اختتام پذیر ہوگیا ہے۔

دھماکے دار موسیقی اور مختلف رنگوں کی برقی روشنیوں میں پرکشش کپڑوں میں ملبوس ماڈلوں نے اس فیشن ویک میں ا‎سّی ڈیزائنروں کے تقریباً پنتالیس شو پیش کیئے۔

فیشن شوز میں عام طور پر ایسے ملبوسات کی نمائش ہوتی ہے جنہیں عملی زندگی میں کم ہی استمعال کیا جاتا ہے لیکن اس بار بہت سے ڈيزائنرزنے ایسے بھی ملبوسات کی نمائش کی جنہیں پارٹی یا خاص مواقع پر استعمال کیا جا سکے۔ایک اہم بات یہ تھی کہ ملبوسات کے علاوہ، پرس،چھتریاں اور جرابوں جیسی دیگر مصنوعات پر بھی خصوصی توجہ دی گئی تھی۔

انڈیا فیشن ویک میں یورپ ،امریکہ اور مشرق وسطٰی سمیت ملک و بیرون ملک کے ڈیڑھ سو سے زیادہ ڈیزائنر ملبوسات کے خریداروں نے بھی شرکت کی۔

فیشن ڈیزائنر کونسل آف انڈیا کی چیئرپرسن رتی ونے جھا کا کہنا ہے کہ اس شو کا ایک مقصد مغربی دنیا میں ہندوستانی ڈیزائنروں کو متعارف کرانا بھی ہوتا ہے اور اس میں’ایک حد تک کامیابی ملی ہے‘۔

بیرون ملک کے بیشتر خریداروں کا کہنا ہے کہ ہندوستانی ڈیزایئنروں کے ملبوسات میں جمالیاتی پہلو قابل تعریف ہے اور رنگوں کا استعمال وہ بڑی خوبصورتی سے کرتے ہیں لیکن مجموعی طور پر شو کو اور بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک فرانسیسی خریدار ماریہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہندوستان کے روایتی لباسوں میں سحر انگیزی ہے اور وہ بہت دلکش ہیں لیکن ڈیزائنرز کو چاہیے کہ ’وہ اپنی ایک ایسی خاص شناخت پیدا کریں جو ان کے لباسوں میں جھلکتی ہو۔انہیں چاہیے کہ روایتی طرز کو ایک نئی ادا بخشیں لیکن اس انداز سے کہ اس کی اصل روح باقی رہے‘۔

شو میں شریک ایک ماڈل

ماریہ نے کہا کہ یورپ میں لوگوں کو انڈیا کے ملبوسات میں بڑی دلچسپی ہے لیکن مقبولیت حاصل کرنے کے لیئے ڈیزانئرز کو’مغرب اور مشرق کےامتزاج سےایک درمیانی راستہ نکلنا ہوگا‘۔

فرانس کی ہی ایک دوسری خریدار نطالیہ کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی ماڈلز بہت خوبصورت ہیں۔ رنگوں کا امتزاج بہت اچھا ہے۔ لیکن کوالٹی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ’ کسی بھی شومیں مخصوص اور چنندہ لباس پیش کرنے چاہیئیں کیونکہ اگر انتخاب درست نہیں ہے تو پھر شو بے معنی ہوجاتا ہے۔ کسی بھی شو میں ایک ’تھیم‘ پر ’فوکس‘ بہت ضروری ہے لیکن ایسا کم دیکھنے کو ملا ہے‘۔

نطالیہ نے منیش اروڑا، مظفر علی اور راجیس پرکاش کے ملبوسات کی تعریف کی اور کہا کہ ’ان لوگوں نے بھارت کے روایتی طرز کے لباسوں کوبالکل نئے انداز میں پیش کیاہے اور وہ بہت پرکشش ہیں‘۔

ایک اور خریدار چنٹل روسو کا کہنا تھا کہ جس طرح ہندوستان کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اسی طرح بھارت کی فیشن انڈسٹری بھی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ بھارت کا ٹیکسٹائل، فیبرک اور اسٹائل مجھے بہت پسند آیا۔ یہاں کے ڈیزائنرز وں میں بلا کی صلاحیت ہے لیکن عالمی بازار میں اترنے کے لیے ابھی کافی محنت کی ضرورت ہے‘۔

فیشن ویک فنالے میں شریک ایک فنکارہ

روسو کا کہنا تھا کہ ستیہ پال اورمنیش اروڑا کے شو کو دیکھکر لگتاہے کہ بھارت کی فیشن انڈسٹری جلدی ہی عالمی سطح پر ایک مقام حاصل کر لےگی۔

بعض اختلافات کے سبب ہندوستان کی فیشن انڈسٹری دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس برس انڈیا فیشن ویک سے پہلے ممبئی میں لیکمے فیشن ویک کا انعقاد کیا گیا تھا۔

فلمی ستاروں کی شرکت سے لیکمے فیشن کو زیاد شہرت ملی تھی اوروہ زیادہ گلیمرس تھا۔ لیکن تجارتی نکتہ نظر سے انڈیا فیشن ویک کو زیاد مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔

ممبئی کے شوز میں ریمپ پر کیٹ واک کرتے وقت بعض ماڈلز کے کپڑے کھسکنے اور پھٹنے کے متنازعہ واقعات بھی رونما ہوئے تھے جن کا میڈیا میں کافی ذکرہوا تھا۔

انڈیا فیشن ویک میں ڈیزائنر منیش ملہوترا کی جیکٹ پر ایک خاتون کی نیم عریاں تصویر سے چہ میگوئیاں تو ہوئی تھیں لیکن اس کے علاوہ کوئی متنازعہ واقعہ پیش نہیں آیا۔

انڈیا فیشن ویک میں منیش اروڑا، ترن تہلیانی، مالنی رمانی، رینا ڈھاکا، رتو کمار، منیش ملہوترا، ابو جانی۔ سندیپ کھوسلااور ستیہ پال جیسے بڑے بڑے ڈيزائنرز کے کلیکشن کو پیش کیا گیا۔

دلی کے گرانڈ ہوٹل میں انڈیا فیشن ویک کے کوریج کے لیے دنیا بھر سے تقریباً پانچ سو نامہ نگار و فوٹوگرافر جمع ہوئے تھے۔ ماڈلز، ڈیزائنرز اور میڈیا کی بھیڑ کے علاوہ ایک بڑی تعداد فلم اور ٹی وی کے ستاروں کی تھی جو میڈیا کی خاص توجہ کا مرکز بنے رہے۔

انڈیا فیشن ویک ہر سال دلی میں منعقد ہوتا ہے اور یہ اس سلسلے کا ساتواں فیشن ویک تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد