لیکمے فیشن شو تنازعات کا شکار رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی میں پانچ دن جاری رہنے والا لیکمے فیشن ویک اپنے اختتام کو تو پہنچ چکا ہے لیکن اپنے پیچھے متعدد یادیں چھوڑ گیا ہے۔ نیشنل سینٹر فار پرفارمنگ آرٹس (این سی پی اے ) میں جس شو کا آغاز فیشن ڈیزائنر راکی ایس کے ملبوسات سے ہوا تھا اور اس کا اختتام معروف ڈیزائنر ریتو بیری کے کلیکشن سے ہوا۔ اس فیشن شو کے دوران میں بیس شو ہوئے جن میں تقریباً تیس ڈیزائنرز نے شرکت کی۔ یہ فیشن شو کئی تنازعات کا شکار رہا۔ ہر سال یہ فیشن شو دہلی میں منعقد کیا جاتا تھا لیکن اس سال دہلی سے پہلے ممبئی میں شو کیا گیا اور اس میں شامل ہونے والے کئی ڈریس ڈیزائنرز کو دہلی کے شو میں شرکت کی اجازت نہیں ملی ہے۔ ڈیزائنر نریندر کمار نے پہلے تو اس کی شکایت Monolopies and restrictive Trade Practices Commission کے سامنے کی اور پھر فیشن شو میں ریمپ پر اپنے ماڈلز کے منہ پر سفید پٹیاں باندھ کر انہیں کیٹ واک کے لئے کہا۔
پہلے دن راکی ایس اور منیش ملہوترہ کے فیشن شو میں بڑی تعداد میں بالی وڈ ستاروں نے کیٹ واک کی جن میں سلمان خان ، ارباز خان ، پریتی زنٹا ، کاجول ، جان ابراہام ، نیلم اور کوئنا مترا شامل تھے ۔ان ستاروں کے ریمپ پر چلنے کی وجہ سے کئی ڈیزائنر اور ماڈلز نے اعتراض کیا اور اس کے بعد پھر کوئی بالی وڈ ستارہ ریمپ پر نہیں چلا حالانکہ وہ شو میں موجود رہے۔ فیشن شو کے دوسرے روز ڈیزائنر بینو سہگل کے لباس کو پہن کر جب نامور ماڈل کیرل گریشیز ریمپ پر چلیں تو ان کے لباس کا اوپری حصہ کھل گیا۔ انہوں نے کیٹ واک کے دوران ہی اسے سنبھالنے کی کوشش تو کی لیکن تب تک وہاں موجود درجنوں کیمروں نے وہ منظر محفوظ کر لیا۔ ابھی کیرل کا معاملہ تھما بھی نہیں تھا کہ تیسرے روز یہی واقعہ ماڈل گوہر خان کے ساتھ پیش آیا اور ان کا اسکرٹ پیچھے سے پھٹ گیا اور وہ ا سے اپنے ہاتھ سے چھپا کر چلتی رہیں۔ نامور ماڈلز اجولا راؤت اور ٹینا بھی اس قسم کے واقعات سے بچ نہیں سکیں۔ اس سلسلے میں ڈیزائنرز نے بہت آسانی کے ساتھ کہہ دیا کہ فیشن شو کے دوران ’وارڈ روم مالفنکشن‘ تو ہو ہی جاتا ہے۔
ممبئی کے فیشن شو میں ملکی اور غیر ملکی خریداروں نے شرکت تو کی لیکن اس فیشن شو سے انہیں کوئی زیادہ بزنس نہیں ملا ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ ڈیزائنرز نے غیرملکی خریداروں کو ذہن میں رکھ کر کپڑے ڈیزائن کیئے تھے اس لیئے وہ مقامی کمپنیوں کو لبھانے میں ناکام ہوئے جبکہ غیر ملکی خریداروں کا کہنا تھا کہ اس شو نے انہیں مایوس کیا ہے کیونکہ وہ شو کے دوران کپڑوں کی کوالٹی دیکھ چکے ہیں۔ لندن کی برانڈ کمپنی براؤنس کے البرٹ موریس کا کہنا تھا کہ ابھی تک وہ انڈین ڈیزائنر سباسچی کے علاوہ کسی سے بزنس نہیں کر سکے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ’وساچی‘ اور ’ارمانی‘ کے مقابل کوئی انڈین برانڈ کمپنی ہو لیکن بات وہی کوالٹی کی ہے۔ بالی وڈ کی ہیروئنوں کے پسندیدہ ڈیزائنر کے طور پر مانے جانے والے منیش ملہوترہ نے دعوی کیا کہ غیر ملکی کمپنیوں ’ہاروے اینڈ نکولس‘ جیسی برانڈ کمپنیوں کو ان کے کلیکشن پسند آئے ہیں۔ بہر حال ممبئی برانڈ کمپنیوں اور فیشن کے لئے مشہور ہے دیکھنا ہے کہ اس شو سے فیشن انڈسٹری کو کتنا فائدہ پہنچتا ہے۔ اس سلسلے کا دوسرا اور آخری فیشن شو دہلی میں پانچ اپریل سے شروع ہو رہا ہے ۔ | اسی بارے میں دلی ڈائری: ایک لاکھ روپے کی کتاب۔۔۔۔05 March, 2006 | انڈیا بھارتیوں کا نیا ’سٹیٹس سمبل‘24 January, 2006 | فن فنکار ترنگا اب بدن پر لہرائے گا06 July, 2005 | انڈیا سرحدپار پاکستانی لباس کی مقبولیت30 May, 2005 | انڈیا مونگیر سے میلان تک 24 April, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||