بھارتیوں کا نیا ’سٹیٹس سمبل‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’کیا پریانکا چوپڑا اتنی دلکش ہے؟‘ سابق حسینہ عالم اور بالی وڈ کی سٹار پریانکا کی اتنی زیادہ تعریف پر معذرت لیکن یہ تھا وہ سوال جو بھارت میں ’میکسم‘ میگزین کے افتتاحی ایڈیشن کو دیکھ کر سب کے ذہن میں آیا جس کے کور پر پریانکا کی تصویر تھی۔ اس میگزین میں قارئین کے ساتھ یہ بھی وعدہ کیا گیا ہے کہ انہیں ’خواتین کے متعلق ایک سو ایسی باتیں بتائی جائیں گی جن کا انہیں علم نہیں ہے‘۔ یہ میگزین مغرب کے مقبول میگزین میکسم کی بھارتی اشاعت ہے۔ اس میں فیشن کے علاوہ پیشہ ور بھکاریوں کے طریقوں اور ایک پولیس انسپکٹر کے بارے میں کالم بھی شامل ہے جس کا خیال ہے کہ وہ ہندو خدا ’رادھا‘ کی شبیہ ہے۔ میگزین میں صحت اور فیشن کے علاوہ دیگر کئی موضوعات کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ ’میکسم‘ میگزین کے دیگر حصوں میں مقبول مردوں، گاڑیوں اور ان کے ماڈلوں پر توجہ دی گئی ہے۔ برطانیہ کے قارئیں تو اس قسم کے طریقہ کار سے واقف ہوں گے لیکن برصغیر کے لوگوں کے لیے اس کا اداریہ بہت گرم مزاج ہے۔
میگزین شائع کرنے والوں نے اس بات کا اچھی طرح اندازہ لگایا ہے کہ دلی، ممبئی، حیدر آباد اور بنگلور کے مشہور لوگ بھی ویسے ہی ہیں جیسے لندن، برمنگھم اور مانچسٹر کے بڑے لوگ۔ لیکن اس سے اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے بھارتی مٹیار کا انتخاب کیوں کیا ہے اور اس سلسلے میں ان کے ذہنوں میں کیا خاص بات ہے؟ بظاہر ان کی توجہ کا مرکز وہ نوجوان ہیں جو معاشی طور پر ترقی کر رہے ہیں اور انہیں اپنے ’امیج‘ کی فکر ہے۔ وہ زمانے کے ساتھ ساتھ چلنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ان کے پاس پیسے بھی ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بھارت کے لوگوں کو جنسی معاملات پر آگہی دی جا رہی ہے۔ آخر یہ ’کاما سوترا‘ کی سرزمین ہے جہاں مندروں کے نقش و نگار مردوں کے میگزینوں سے زیادہ عریانی کے حامل ہیں۔
لیکن جو تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ اب بھارت کے لوگ اس کے متعلق کھلے عام بات کرنے اور پڑھنے سے نہیں جھجکتے۔ اب اس طرح کے میگزین کا گھر میں ہونا کوئی شرم کی بات نہیں ہے بلکہ اب تو یہ ’سٹیٹس سمبل‘ بن گیا ہے۔ تاہم میگزین میں مالی معاملات کے متعلق کچھ نہیں لکھا گیا ہے کہ پیسے کس طرح بچائے جائیں اور کس طرح اچھی سرمایہ کاری کی جائے؟ اس کا غیر اعلانیہ منشور تو صرف ’خرچ کرو اور مزے اڑاؤ‘ نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ میگزین سے ذات پات کے معاملات بھی غائب ہیں۔ بظاہر یہ میگزین صرف مردوں کے لیے ہے جو اپنی موروثی عزت اور دولت کی بجائے اپنے رہن سہن سے پہچانے جائیں اور جو اس مقصد کے لیے کام کرنے اور اس کی قیمت چکانے کے لیے بھی تیار ہوں۔ تاہم اس میگزین کی اشاعت نے مغربی ثقافت کی یلغار کے متعلق بحث چھیڑ دی ہے لیکن اس کی مخالفت میں غم و غصے کا عنصر زیادہ نہیں پایا جاتا۔ ’میکسم‘ کے مدیر سنیل مہرہ نے اس موضوع پر کہا کہ ’کہاں ہیں وشوا ہندو پریشد کے مظاہرین جو اس کی کاپیاں سڑکوں پر جلا رہے ہوں؟‘ ان کا اشارہ ہندو قوم پرست جماعت کی طرف تھا جو اپنے آپ کو ہندو اخلاقیات اور روایات کا محافظ سمجھتی ہے۔ وقت کی نبض کو صحیح طور پر سمجھنے کی وجہ سے اس میگزین کی کامیابی کے قوی امکانات موجود ہیں اور اس کا پہلا ثبوت یہ ہے کہ صرف دس دن میں اس کی اسی ہزار جلدیں فروخت ہو چکی ہیں۔ |
اسی بارے میں بولی وڈ اب پاکستانی ٹی وی پر 06 January, 2006 | فن فنکار بالی وڈ: پرانے فنکار بیگانگی کا شکار04 January, 2006 | فن فنکار ’بلیک‘2005 کی بہترین فلموں میں31 December, 2005 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||