بالی وڈ: پرانے فنکار بیگانگی کا شکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بولی وڈ کی چمک دمک کے پیچھے کتنی تاریکی ہے کوئی ان فنکاروں سے پوچھے جن کا دور گزر چکا ہے اور جو تنہائی کا عذاب جھیل رہے ہیں۔ ان کے پاس نہ تو ان کے اپنے ہیں اور نہ ہی پرستاروں کی بھیڑ اور نہ ہی وہ جنہوں نے ان پر فلمیں بنا کر کروڑوں روپے کمائے اور شہرت کی بلندیوں پر پہنچے۔ حال ہی میں یہ المیہ اپنے وقت کی مشہور اداکارہ پروین بابی کے ساتھ پیش آیا جب ان کی موت کے دو دن بعد تک کسی کو پتہ نہیں تھا کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ ان کے جنازے کو کاندھا دینے کے لیے بھی صرف چند دوست ہی تھے اور اب فلم ’ آن‘، ’دل اپنا اور پریت پرائی‘ اور ’شری چار سو بیس‘ جیسی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھا چکی بولی وڈ کی ہیروئین نادرہ اس وقت ممبئی کے بھاٹیہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ان کی حالت ابھی بھی نازک بتائی جاتی ہے۔ انہیں دیکھنے اور ان کی عیادت کے لیے بولی وڈ کا کوئی بھی فنکار نہیں پہنچا۔ ہسپتال کی نرس کا کہنا ہے کہ انہیں یہاں تک ان کی گورنس لائی تھیں۔ ہسپتال کے انتہائی نگہداشت والے کمرے میں ڈیوٹی پر مامور ڈاکٹر شبھاشیش نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ’نادرہ کی حالت کافی تشویشناک ہے۔ وہ اس وقت آنکھیں نہیں کھول رہی ہیں۔ انہیں جب ستائیس دسمبر کو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا تو انہیں فالج کا اثر تھا ۔زیادہ شراب نوشی کی وجہ سے ان کے اعصاب جواب دے گئے ہیں ۔ان کی حالت اکتیس دسمبر کو زیادہ خراب ہوئی اور انہیں اس کے بعد انتہائی نگہداشت والے کمرے میں منتقل کرنا پڑا جہاں ڈاکٹر ہیمنت ٹھاکر اور ڈاکٹر ریتا سومانی کی نگرانی میں ان کا علاج ہو رہا ہے‘۔ چلبلی شوخ نادرہ نے اپنی فلمی زندگی کے سفر میں ہر طرح کے کردار نبھائے لیکن ان پر آزاد خیال روایت سے ہٹ کر جینے والی لڑکی کا کردار زیادہ مناسب لگتا تھا اور اس کی مثال ان کی فلمیں آن ، دل اپنا اور پریت پرائی اور شری چار سو بیس ہیں ۔ نادرہ گزشتہ تین برسوں سے تنہا زندگی گزار رہی تھیں ۔انہوں نے سب سے ملنا جلنا چھوڑ دیا تھااور ان کی دیکھ بھال ایک گورنس کر رہی ہیں۔ ممبئی کے ’پوش‘ علاقے وارڈن روڈ پر واقع وسندھرا بلڈنگ میں وہ اپنے فلیٹ میں برسوں سے تنہا رہ رہی تھیں کیونکہ انہوں نے شادی نہیں کی تھی اور ان کے رشتہ دار اسرائیل میں ہیں۔ بولی وڈ کی پرانی اداکارائیں اکثر فلموں سے کنارہ کشی کرنے کے بعد سماجی سرکل سے دور زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہیں اور پھر ان کی یہی تنہائی انہیں شراب نوشی کی جانب کھینچ لے جاتی ہے ۔حال ہی میں پروین بابی اسی طرح تنہا زندگی گزار رہی تھیں اور اسی لیے وہ فوبیا کا شکار ہو گئی تھیں۔ تنہائی کی وجہ سے انہوں نے بھی شراب نوشی شروع کر دی تھی ۔ ماہر نفسیات ڈاکٹر ساجد علی کے مطابق فلم انڈسٹری چمک دمک کی دنیا ہے اور یہاں چڑھتے سورج کی پوجا کی جاتی ہے ۔اپنے عروج پر فنکاراؤں کے اطراف ان کے مداحوں کی بھیڑ ہوتی ہے لیکن اس کے بعد انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں رہتا اس لیے وہ پارٹیوں میں جانا چھوڑ دیتی ہیں ۔ فرسٹریشن کی وجہ سے شراب کا سہارالینے پر مجبور ہو جاتی ہیں ۔ اس کا حل یہی ہے کہ ایسے فنکاروں کو اپنے آپ کو کسی نہ کسی کام میں مصروف کر لینا چاہیے تاکہ وہ احساس ختم ہو جائے کہ وہ اب کسی کام کے نہیں رہے۔ |
اسی بارے میں بولی ووڈ: نجی زندگیوں پر فلمیں21 September, 2005 | فن فنکار پروین بابی اپنے آخری سفر پر24 January, 2005 | فن فنکار پروین بابی سپردِ خاک23 January, 2005 | فن فنکار اداکارہ پروین بابی انتقال کرگئیں22 January, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||