BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 January, 2005, 15:40 GMT 20:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
روایت شکن پروین بابی
News image
سن ستر کی دھائی پروین بابی اور زینت امان کے مداحوں میں مسلسل مقابلہ بازی کی دھائی تھی۔ اس مقابلہ بازی کی بنیادی وجہ دونوں اداکاراؤں میں کئی باتوں کا مشترک ہوناتھا۔

دونوں ہی انڈین فلموں کی سیکس سمبل تھیں، دونوں انگریزی لہجے میں ہندی بولتی تھیں، خوبصورت گھنے بال اور لمبی ٹانگیں، دونوں کے امیتابھ پرڈورے ڈالنا اور پھر دونوں کا ایسے رول کرنا جو کسی دوسری انڈین اداکارہ کے بس کی بات نہ تھی۔

زینت امان نےدیوآنند کی’ھرے راما ھرے کرشنا‘ میں جبکہ پروین بابی نے یش چوپڑا کی’دیوار‘میں جوغیرروایتی کردار کیے وہ ان دونوں کا ہی خاصہ تھے۔

جوناگڑھ میں پیدا ہونےوالی تیکھی نقوش والی پروین احمد آباد یونیورسٹی میں پڑھ رہی تھیں جب اتفاقاً ان کی ملاقات اشرا سے ہوئی جو اس وقت اپنی فلم چریتا میں کرکٹر سلیم درانی کے مد مقابل ہیروین کی تلاش میں تھے۔ چریتا تو ناکام ہوگئی لیکن بڑی بڑی آنکھوں والی پروین بابی سب کی نظر میں آگئی۔

’دیوار‘ میں پروین بابی کا بے باکیاں ان کی شناخت بن گئیں۔
’دیوار‘ میں پروین بابی کا بے باکیاں ان کی شناخت بن گئیں۔

سن چوہترمیں ریلیز ہونے والی پروین کی دوسری فلم ’دھویں کی لکیر‘ بھی باکس آفس پر ناکام رہی لیکن اس کا ایک گانا ’تیری جھیل سی گہری آنکھوں میں‘ مقبول ہو گیا اور ساتھ ساتھ جھیل سی آنکھوں والی پروین بابی بھی۔

ان کی پہلی دونوں فلموں کی ناکامی اپنی جگہ لیکن لوگوں میں پروین بابی کی مقبولیت بڑھتی گئی اور اگلے سال کے لیے ان کے پاس نو فلموں کے کنٹریکٹ تھے۔

بی آر چوپڑا کی ’چھتیس گھنٹے‘ سینماگھروں میں چھتیس ہفتے پورے نہ کر سکی لیکن امیتابھ بچن کی ساتھ ان کی اگلی فلم ’مجبور‘ نے انہیں بالی وڈ میں ہیروین کے طور پر بے پناہ شہرت بخش دی۔

اس کامیابی کے باوجود پروین بابی کی اس وقت تک اپنی کوئی شناخت نہ بن سکی جب تک سن پچہتر میں ’دیوار`ریلیز نہیں ہوئی۔ دیوار کیا ریلیز ہوئی انڈین فلم انڈسٹری کو ایک ایسی ہیروین مل گئی جوکہ نہ صرف دیکھنے میں خوبصورت تھی بلکہ کھلے بالوں اور کم لباسی کے ساتھ ساتھ وہ کردار ادا کرنے کو تیار تھی جو کہ سن ستر کی دوسری ہیرونوں کے لیے بہت ’بولڈ` تھے۔

پروین بابی نے اپنے فلم دیوار کے کردار سے نہ صرف خود کو منوایا لیا بلکہ انڈین فلموں میں ہیروین کے کردار کو ایک نیا نام، نئی جہت دے دی۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ اب نہ صرف ہیروین شراب کا جام ھاتھوں میں لیے جھوم سکتی ہے بلکہ اپنے محبوب کے ساتھ شادی سے پہلے بھی بہت کچھ کر سکتی ہے۔

پروین بابی پر فلمائے گئے چند ناقابل فراموش گانے
تیری جھیل سی گہری آنکھوں میں (دھویں کی لکیر)
آنکھیں ملایں گے نزدیک آئیں گے(بھنور)
ہم کوتم سے ہو گیا ہے پیار(امر اکبر انتھونی)
باہوں میں تری مستی کے گھیرے(کالا پتھر)
پیار کرنے والے پیار کرتے ہیں(شان)
جوانی جان من حسین دلربا(نمک حلال)
انگریزی میں کہتے ہیں کہ آئی لو یو(خدار)

گو اب تک پروین بابی کی راہ کی ’دیوار‘ گر چکی تھی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ان کی ہر آنے والی فلم کامیاب ہونے والی تھی۔ چنانچہ دیوار کے بعد آنے والی ان کی چاروں فلمیں (بُلٹ، بھنور، ماما بھانجا اور مزدور زندہ باد) ناکام رہیں۔

لیکن اس کے باوجود پروین بابی کے لیے پریشانی کی کوئی بات نہیں تھی کیونکہ بہت جلد ہی ان کی ’امر اکبر انتھونی‘ ان کو دوبارہ بلندی کی طرف لے جانے والی تھی۔ اگرچہ باقی دو ہیرؤنوں کی طرح فلم میں ان کا کردار بھی محدود ہی تھا لیکن یہ بات کہ انہوں نے فلم کے ہیرو امیتابھ بچن کی محبوبہ کا کردار ادا کیا تھا ان کو باقی دونوں سے الگ کرتی ہے۔

انڈین فلم انڈسٹری پر پروین بابی کے اثرات کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ امریکی جریدے ’ٹائم` نے اپنے سرورق پر ان کی تصویر شائع کی۔

شہرت کی بلندیوں کو چھونے کے باوجود پروین بابی صرف دماغ کی نہیں سنتی تھیں بلکہ دل کی آواز پر بھی ہاں کہتی تھیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ اپنے اس وقت کے محبوب کبیر بیدی کو کامیاب کرانے کے لیے اپنے کیرئر کے اہم موڑ پر اٹلی نہ جاتیں۔

لیکن اس بار وہ خوش قسمت تھیں کہ واپس بمبئی آگئیں اور اپنی نامکمل فلموں میں کام شروع کر دیا اور پروڈیوسر حضرات کو ناراض ہونے سےروک لیا۔

اپنے کیریئر کے اختتام سے پہلے پروین بابی نے ایک بار پھر کئی ’بولڈ‘ کردار ادا کر کے اپنا لوہا منوایا۔ ’میری آواز سنو‘ اور اس کے بعد „نمک حلال‘ میں ان کے کرداروں نے لوگوں کو ایک بار پھر ’دیوار‘ کی پروین بابی یاد دلا دی۔

لیکن شائد لوگوں کو معلوم نہ تھا اب پروین بابی سکرین سے کنارہ کشی اختیار کرنے والی ہیں۔ گو کہ اس کنارہ کشی سے پہلے انہوں نے ’یہ نزدیکیاں‘ اور ’دل آخر دل ہے‘ میں بھی کام کیا لیکن ان فلموں وہ بات نہ تھی جس کے لیے لوگ پروین بابی کو جانتے تھے اور یاد رکھنا چاہتے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد