BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 January, 2006, 09:56 GMT 14:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ کیٹ واک‘ سے ’پورنوگرافی‘ تک

ماڈلنگ
فلموں کی شہرت اور ماڈلنگ کی چمک دمک نے نئی نسل کو بالی وڈ دیوانہ بنا دیا ہے
بولی وڈ کی چمک دمک اور ماڈل بن کر ریمپ پر چلنے کی خواہش ملک ہی نہیں دنیا کے کونے کونے سے لڑکیوں کو ممبئی نگری لے آتی ہے جن میں سے کچھ خوش قسمت تو اپنے خواب پورے کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں لیکن سینکڑوں ’پورنوگرافی‘ مافیا کے چنگل میں پھنس جاتی ہیں۔

ممبئی میں یہ مافیا کتنا طاقتور ہے اور کس طرح کام کرتا ہے ، یہ بات حال ہی میں جنوبی افریقہ سے ممبئی فلموں میں کام تلاش کرنے آئی ماڈل کی عصمت دری سے سامنے آئی ہے۔

مسلم ماڈل جنوبی افریقہ کے ایک بڑے تاجر کی بیٹی ہے اور ممبئی میں جہاں فلم سٹار اور ٹی وی آرٹسٹ رہتے ہیں وہیں لوکھنڈوالا میں وہ ایک فلیٹ میں رہ رہی تھیں۔

کام کی تلاش میں اس نے کئی ماڈل رابطہ کاروں سے ملاقات بھی کی۔ ماڈل بنانے یا فلموں میں کام دلانے کے نام پر ایسے کئی ماڈل کوآرڈینیٹرز ہیں جو دراصل پورنوگرافی مافیا کا حصہ ہیں اور جو بہلا پھسلا کر لڑکیوں کو نشیلی دوا پلا کر ان کی عصمت دری کرتے ہیں اور پھر ان کی فلم بناتے ہیں۔ ہوش میں آنے کے بعد خوف زدہ لڑکیاں کچھ کہہ نہیں پاتیں اور پھر اکثر پردہ سیمیں کا خواب دیکھتے دیکھتے بلیو فلم ہیروئین یا پھر کال گرل بن کر رہ جاتی ہیں ۔

 فلموں میں کام تلاش کرنے کی خواہشمند لڑکیوں کی بات تو ایک طرف ممبئی میں کون سی جگہ محفوظ ہے ؟ یہ اب کوئی نہیں بتا سکتا۔

فلموں کی شہرت اور اس کی چمک دمک نے نئی نسل کو اس کا دیوانہ بنا دیا ہے۔ معروف کاؤنسلر اور ماہر نفسیات ڈاکٹر یوسف ماچس والا کا کہنا ہے کہ آج کی نسل کو سمجھانا مشکل ہو گیا ہے اور اگر آپ انہیں کوئی کام کرنے سے منع کریں تو فطری طور پر وہ ضد میں آکر اسے کرنا چاہیں گے اس لیے اکثر والدین ان کے پاس اپنی لڑکیوں کو کاؤنسلنگ کے لیے لاتے ہیں۔ کاؤنسلنگ سے ایک فائدہ ہوتا ہے کہ کم از کم لڑکیاں اونچ نیچ سمجھ جاتی ہیں۔

جنوبی افریقی ماڈل کے معاملہ میں ملزمان کوئی عام آدمی نہیں تھے۔ ملزم سنیل مورپانی ماڈل کوآرڈینیٹر ہے اور سریش کرشنانی کی شراب کی دکان ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں نے اس کی شراب میں نشہ آور دوا ملائی ۔پھر اسے ولے پارلے کے ہوٹل باوا انٹر نیشنل سے سوناٹا کار میں لے گئے۔ کار میں عصمت دری کی اور پھر کلیان کے ایک ہوٹل لائے جہاں دو روز اسے رکھا گیا اور وہیں اس کی بلیو فلم بنائی گئی۔ ماڈل نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اسے جب تھوڑا ہوش آیا تو اس نے کیمرہ دیکھا تھا لیکن انہوں نے پھر اسے مار کر بےہوش کر دیا۔

ممبئی کے کئی ہوٹل ایسے کاموں کے لیے مختص ہیں۔ ان ہوٹلوں کے کمروں میں پہلے سے کیمرے نصب ہوتے ہیں۔ اکثر شادی شدہ جوڑوں کو پتہ نہیں ہوتا کہ کہاں کیا ہے اور وہ اپنا ہنی مون منانے کے لئے ہوٹل کا کمرہ بک کرتے ہیں جہاں ان لمحوں کی تصویر اتار لی جاتی ہے اور پھر اسے بازار میں بیچ دیا جاتا ہے۔

 یہ ہمارے مہذب سماج کے اصل گناہگار ہیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ کسی کا دکھ کسی کی مسرت کا باعث بنتا ہے اور ان کا شکار ہزاروں لاکھوں لڑکیاں گھٹ گھٹ کر زندگی جینے پر مجبور ہیں اسے کسی طرح ختم کرنا ہو گا۔
مہیش بھٹ

یہ کام صرف ممبئی تک محدود نہیں ہے اور یہ مافیا پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔
ممبئی میں حال ہی میں ایک ڈاکٹر اور اس کی بیوی کو پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ یہ ڈاکٹر لڑکیوں کو حسین بنانے کا دعوٰی کرتا تھا۔ گجرات سے ممبئی آئے اس ڈاکٹر کے پاس فرضی ڈگریاں تھیں۔ کلینک میں معائنے کے دوران وہ ان لڑکیوں کی برہنہ تصاویر بناتا اور پھر اسے دکھا کر بلیک میل کرتا۔ لڑکیوں کو ہوٹل بلایا جاتا جہاں پہلے سے کیمرہ نصب رہتے ۔وہاں عصمت دری بھی کی جاتی اور فلم بھی بن جاتی۔ پولیس کے مطابق وہ پھر ایسی فلمیں آسٹریلیا میں مہنگے داموں پر فروخت کرتا تھا ۔ڈاکٹر اور اس کی بیوی ابھی تک پولیس حراست میں ہیں۔

فلموں میں کام تلاش کرنے کی خواہشمند لڑکیوں کی بات تو ایک طرف ممبئی میں کون سی جگہ محفوظ ہے ؟ یہ اب کوئی نہیں بتا سکتا۔ ہوٹل کے علاوہ کئی بڑے شوروم میں ٹرائل روم ہوتے ہیں جہاں لڑکیاں لباس کی فٹنگ ناپتی ہیں۔ ان کمروں میں بھی کیمرے نصب ہوتے ہیں۔

ممبئی کے کالج کی لیکچرار نے بی بی سی کو بتایا کہ اسے پتہ نہیں تھا کہ اس چھوٹے سے کمرے میں کیمرہ نصب ہے لیکن اسے جیسے ہی احساس ہوا اس نے کاؤنٹر پر جا کر جواب طلبی کی تو انہیں جواب ملا کہ ’اگر کوئی کچھ سامان وہاں چھپا لے تو وہ کیا کریں گے اس لیے کیمرے لگے ہیں‘۔غصہ کی حالت میں وہ لیکچرار تو واپس چلی آئیں لیکن آج بھی بہت سی لڑکیاں اس بات سے ناواقف ہیں۔

اس طرح بنائی گئی فلمیں بڑے پیمانے پر بازاروں میں سستی وی سی ڈی بنا کر فروخت ہوتی ہیں۔ ممبئی پولس کا سوشل سروس برانچ اس پر نظر رکھتا ہے۔ ڈپٹی پولیس کمشنر ڈاکٹر سنجے پرانتی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو قانون کی ڈھیلی گرفت کے بارے میں بتایا کہ ہر برس لاکھوں کروڑوں روپے کی سی ڈی ضبط کی جاتی ہے، ملزمان گرفتار بھی ہوتے ہیں لیکن یہ جرم قابل ضمانت ہے۔ ملزم فوراً عدالت میں چند ہزار روپے دے کر باہر آجاتا ہے اور پھر یہ کاروبار اسی طرح پھلتا پھولتا رہتا ہے۔ پوری دنیا میں یہ کاروبار ایک اندازے کے مطابق چھپن ارب ڈالر سالانہ کا ہے اور اس کی پشت پناہی بہت سے با اثر لوگ بھی کرتے ہیں۔

 آج کی نسل کو سمجھانا مشکل ہو گیا ہے اور اگر آپ انہیں کوئی کام کرنے سے منع کریں تو فطری طور پر وہ ضد میں آکر اسے کرنا چاہیں گے اس لیے اکثر والدین ان کے پاس اپنی لڑکیوں کو کاؤنسلنگ کے لیے لاتے ہیں۔ کاؤنسلنگ سے ایک فائدہ ہوتا ہے کہ کم از کم لڑکیاں اونچ نیچ سمجھ جاتی ہیں۔
ڈاکٹر یوسف

ڈی سی پی سنجے کا کہنا ہے کہ حکومت نے ایک اچھا کام کیا ہے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے نفاذ سے کچھ راحت ملی ہے لیکن یہ محدود قانون ہے یعنی اگر ملزم نے کچھ بھی چیز انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کی تو اس جرم کی سزا تین سے چھ سال ہو سکتی ہے اور ایسا قانون موبائیل پر ایم ایم ایس کی وجہ سے بنا ہے جس پر عریاں کلپ بھیجنے کا بازار بھی آج کل گرم ہے۔

فلمساز مہیش بھٹ نے اسی پورنو گرافی مافیا کے خلاف حال ہی میں فلم ’کل یگ‘بنائی ہے۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار ان لفظوں میں کیا کہ’یہ ہمارے مہذب سماج کے اصل گناہگار ہیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ کسی کا دکھ کسی کی مسرت کا باعث بنتا ہے اور ان کا شکار ہزاروں لاکھوں لڑکیاں گھٹ گھٹ کر زندگی جینے پر مجبور ہیں اسے کسی طرح ختم کرنا ہو گا‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد