’گرل فرینڈ‘ پر شدید اعتراض | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں لڑکیوں میں ہم جنس پرستی کے موضوع پر بننے والی فِلم ’گرل فرینڈ‘ پر شدید اعتراض کیا گیا ہے۔ انتہا پسند ہندؤوں نے فِلم کے اشتہار تباہ کر دیئے اور اسے سینماؤں پر چلنے نہیں دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم جنس پرستی کی بھارتی ثقافت میں جگہ نہیں۔ فِلم کو خواتین کے حقوق کے لیئے کام کرنے والی تنظیموں کی طرف سے بھی مخالفت کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فِلم میں فحش مناظر ہیں اور ہم جنس پرستوں کے بارے میں روایتی تصویر کشی کی گئی ہے۔ انتہا پسند ہندو تنظیم شیو سینا کے کارکنوں نے فِلم کو دلّی، ممبئی اور واراناسی میں سینماؤں پر نہیں چلنے دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سے پہلے اسی طرح کی ایک فِلم ’فائر‘ کی ریلیز پر احتجاج کیا تھا اور وہ اب بھی ایسا کریں گے۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم فورم نے اس فِلم کو ناپسندیدہ قرار دیا اور کہا کہ یہ صرف مردوں کے شوق پورے کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ تنظیم کی رکن تیجل شاہ کا کہنا ہے کہ اس فِلم میں ہم جنس پرستوں کے بارے میں سنی سنائی باتوں کو بنیاد بنا کر کہانی لکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے سے ہم جنس پرستوں کے بارے میں معاشرے میں مزید نفرت پھیلے گی۔ فِلم کے ہدایت کار کرن رازدان نے کہا کہ فِلم ہم جنس پرستوں کے بارے میں نہیں بلکہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو حالات کی وجہ سے اس طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فِلم ہم جنس پرستی کی حمایت نہیں کرتی بلکہ اس سے اس موضوع پر بحث چھڑے گی۔ بھارت میں خواتین کی تنظیمیں فِلم کی مخالفت تو کر رہی ہیں لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتی کہ اس سے ان کے انتہا پسند ہندؤوں کا ہم خیال ہونے کا گمان پیدا ہو۔ تیجل شاہ نے کہا وہ اظہارِ رائے کی آزادی پر یقین رکھتی ہیں لیکن فلمسازوں کو اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||