امریکہ: ہم جنسوں میں پہلی شادی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی ریاست میسے چیوسٹس پہلی ریاست ہے جہاں دو عورتوں نے پہلی بار باقاعدہ شادی کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ماسیا کادش اور تانیا میکلوسکی کی اس شادی کے بعد سینکڑوں ہم جنس ان کی پیروی کرنے کے منتظر ہیں۔ ماسیا اور تانیا گزشتہ اٹھارہ سال سے ایک جوڑے کی زندگی گزار رہی تھیں تاہم وہ شادی نہیں کر سکتی تھیں کیونکہ امریکہ کا قانون اس کی اجازت نہیں دیتا تھا کہ ہم جنس ایک دوسرے سے شادی کر سکیں۔ اس معاملے نے نہ صرف لوگوں کو تقسیم کیا ہے بلکہ سیاستداں بھی بٹے ہوئے ہیں۔ صدر بش نے ایک بار پھر کانگریس سے اپنی اس اپیل کا اعادہ کیا ہے کہ وہ امریکی آئین میں ترمیم کر کے شادی کو’ ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان رشتۂ ازدواج قرار دے۔‘ صدر بش کا کہنا ہے کہ ’مٹھی بھر سرگرم ججوں کو یہ حق نہیں دیا جانا چاہیے کہ وہ اس مقدس رشتے کی کوئی نئی تشریح متعین کریں۔‘ جمعہ کو امریکی سپریم کورٹ نے ہم جنسوں کے مابین باقاعدہ شادی کو قانونی قرار دینے کا فیصلہ دے کر اس طرح کی شادیوں کے راستے میں رجعت پسند گروپوں کی جانب سے کی جانے والی آخری کوشش بھی ناکام بنا دی۔ اس فیصلے کا اعلان ہوتے ہی کیمبرج شہر میں کئی جگہ خوشیاں منائی جانے لگیں کیونکہ فیصلے کے اعلان کے فوراً بعد ہی وہاں لائسنسوں کا اجراء شروع کر دیا گیا۔
سٹی ہال کے باہر جہاں ان لائسنسوں کا اجراء کیا جا رہا ہے ہم جنس مرد اور عورت جوڑوں کی قطاریں لگی ہیں۔ ماسیا اور تانیا نے شادی کی رسومات کے بعد کہا’ہمارے لیے یہ شادی بڑی اہم تھی اور ہمیں نہیں پتہ کہ قانوں بنانے والے اس فیصلے کے بعد کیا کریں گے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||