کیا ہم جنس شادیاں جائز ہیں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جارج بش نے کہا ہے کہ امریکی آئین میں تبدیلی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم جنس شادیوں پر پابندی عائد کی جاسکے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں ہم جنس شادیاں عام ہوئی ہیں جس کی وجہ سے قدامت پسند مذہبی لوگ فکرمند ہیں۔ صدر بش کو بھی مذہبی تصور کیا جاتا ہے، تاہم انہوں نے یہ بیان اس لئے دیا کہ امریکی انتخابات میں انہیں اس کا فائدہ حاصل ہوسکے۔ ہم جنس پرستوں اور امریکہ میں سابق صدر بِل کلِنٹن کی جماعت ڈیموکریٹِک پارٹی کے کارکنوں نے صدر بش کے بیان پر شدید تنقید کی ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ آئین میں تبدیلی کرکے ہم جنس شادیوں پر پابندی لگانے سے شخصی اور معاشرتی آزادی کو دھچکا لگے گا۔ آپ کے خیال میں کیا ہم جنس شادیوں پر پابندی ہونی چاہئے؟ کیا صدر بش صحیح کررہے ہیں؟ کیا آپ کے ملک میں ہم جنس شادیوں پر عائد پابندی ختم کردی جائے؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔ محمد فاروق غوری، عمان: تمام دنیا کی حکومتوں اور انسانی تنظیموں کو ایسی شادیوں پر سختی سے پابندی عائد کرنی چاہئے۔ سید ضرغام الدین، دبئی: حرام، حرا، حرام۔ ایسے لوگوں کو اسلام میں دیکھتے ہی قتل کرنے کا حکم ہے تو پھر ان شادیوں کو قبول کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ بلال لطیف مغل، اسلام آباد: ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ پہلے ہی لڑکیاں لڑکوں سے زیادہ ہیں اور ایسی شادیاں کرنے سے لڑکیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو جائےگا۔ ویسے بھی اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔ شاہد حسین، ٹورانٹو: کسی بھی چیز کو حرام قرار دینے کا اختیار صرف خدا کو ہے۔ خانسا کامران، لاہور: صدر بش ہوں یا کوئی اور، کسی کو دوسروں کے طرزِ زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ دنیا ہر طرح کے لوگوں کے لئے ہے، صرف مسلمانوں کے لئے نہیں ہے۔ راجہ یونس، دمام: ایسی شادیوں پر سختی سے پابندی ہونی چاہئے اور صدر بش نے اچھا کام کیا ہے۔ مسلم دنیا میں ایسے کسی بھی فعل کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ نعیم احمد، کینیڈا: میری رائے میں صدر بش بالکل ٹھیک کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر لاکیش کمار کھتری، کراچی: یہ بہت بری بات ہے۔ میرے خیال میں اسے قابلِ سزا فعل قرار دینا چاہئے۔ جواد صاحبزادہ، پاکستان: ہمیں کسی بھی قیمت پر ایسی شادیوں کی اجازت نہیں دینی چاہئے بلکہ ایسا کرنے والوں کو سخت سزا دینی چاہئے۔ عبدالغفور، ٹورانٹو: شاید یہی ایک بات ایسی ہے جس پر صدر بش کی تعریف کی جاسکتی ہے۔ آپ کو اندازہ نہیں کہ ہم جنس شادیوں سے معاشرے کو کیا نقصانات ہوسکتے ہیں۔ لوگ آپ سے پوچھیں گے: کیا آپ مرد سے شادی کررہے ہیں یا عورت سے؟ محمد وقاص، میلبورن، آسٹریلیا: میری صلاح الدین لنگا صاحب سے اپیل ہے کہ وہ ہمیں مسائل کو اسلام کے علاوہ کوئی اور زوائج دینے کی نصیحت نہ فرمائیں۔ ان سے گزارش ہے کہ احادیث کا مطالعہ کرلیں، انہیں پتہ چل جائے گا کہ اس قسم کے کاموں کا اسلام کتنی سختی کے ساتھ منع کرتا ہے اور دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ نے اس کی کیا سزا مقرر کی ہے۔ اصغر خان، برلِن: جرمنی میں اس طرح کی شادی کو گورنمنٹ کی حمایت حاصل ہے اور عدالت نے بھی ہم جنس شادیوں کو قانونی مانا ہے۔ علی رضا علوی، اسلام آباد: ایسی شادیوں کا کوئی اخلاقی جواز نہیں۔ ان کی اجازت دینے سے سماجی ڈھانچہ تلپٹ ہوجائے گا۔ شخصی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ فطرت سے جنگ شروع کردی جائے۔ اعجاز احمد، صادق آباد: شکر ہے کہ بش صاحب نے کوئی فیصلہ تو ڈھنگ کا کیا۔ اصغر خان، برلِن: ہر بندے کو شادی کا حق حاصل ہے۔ اب یہ اس کی پسند ہے کہ وہ ہم جنس شادی کرتا ہے یا کوئی اور۔ میرے خیال میں یہ ٹھیک ہے۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: شکریہ آپ نے میری آراء کو شامل کیا لیکن اصغر صاحب کی رائے پڑھ کر پھر لکھنے پر مجبور ہوگئی ہوں۔ کیا سچ مچ ہم قیامت کے اتنے نزدیک پہنچ گئے ہیں کہ ایک غلط بات کو غلط کہنے کا حوصلہ بھی کھو بیٹھے ہیں؟ جبکہ یہ ایمان کا سب سے ادنیٰ درجہ ہے۔ غلط بات کو دل سے ہی غلط جانو، اول درجہ یہ ہے کہ غلط بات کو ہاتھ سے روکو، دوسرا درجہ یہ ہے کہ زبان سے منع کرو اور آخری اور ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ دل سے برا جانو۔ ایک مسلم ہونے کے ناطے ایسا سوچنا بھی نعوذ بااللہ کس قدر غلط ہے کہ ہم قرآن پاک کی کہی ہوئی بات کو جھٹلانے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔ صلاح الدین لنگا، جرمنی: سب سے پہلے تو آپ لوگوں سے یہ اپیل ہے کہ اس مسئلے کو اسلامی مسئلہ نہ بنا لیں۔ شادی کی یہ قسم فطرت کے خلاف ہے۔ آپ خود سوچیں کہ کیا انسان کے علاوہ کوئی اور جانور اس طرح کی شادی کرتا ہے؟ طاہر فاروق آرائین، میروہ گورچانی، پاکستان: اب تو صدر بش نے عقل کی بات ہے۔ اس کا کریڈِٹ صدر بش کو دینا چاہئے۔ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی صدر ذہین ہیں۔ مامون رشید، اسلام آباد: ہم جنس شادی نہ صرف اخلاقی اور مذہبی اعتبار سے غلط ہے، اس سے سوائے فساد کے اور کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہارون رشید، سیالکوٹ: میرے خیال میں کسی بھی مذہب میں ہم جنس شادیاں رائج نہیں ہیں۔ اس لئے صدر بش کا یہ فیصلہ صحیح ہے۔ عبدالحادی، کرغزستان: شخصی آزادی کی بھی ایک حد ہونی چاہئے۔ اگر کل کوئی یہ مطالبہ کرے کہ خودکشی بھی شخصی آزادی ہے تو کیا اس کا مطالبہ مان لیا جائے گا؟ فیصل تقی، کراچی: کیا جانوروں کو بھی ہم جنس پرستی میں دیکھا گیا؟ تو یہ ذلت انسان اپنے لئے کیوں پسند کرتا ہے؟ محسن خان، خان پور، پاکستان: میں سمجھتا ہوں کہ فطرت کے خلاف ہر کام ناجائز ہے۔ خواہ ہو یا کلونِنگ ہی کیوں نہ ہو۔ صدر بش نے ہم جنس شادیوں کی حمایت اگر الیکشن سے ہٹ کر کی ہوتی تو بہت بہتر ہوتا۔ لیکن یہ بات سیاسی ہے۔ فطرت کا حسن اسی میں ہے کہ فطرت کے خلاف نہ جایا جائے۔ عبدالقیوم، پاکستان: ہم جنس شادیاں غلط ہیں۔ محمدعلی، خیرپور، سندھ: ہر جگہ ہم جنس پرست موجود ہیں، معاشرے کے اعلیٰ طبقے سے لیکر دیہات کے پس ماندہ علاقوں میں بھی۔ کوئی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا۔ لہذا ہم جنس شادیاں معاشرے میں ہم جنس پرستی کا ایک اعتراف ہیں۔ کلثوم طارق، ٹورانٹو: ہم جنس شادیوں پر پابندی ہونی چاہئے۔ عمر بٹ، اوسلو، ناروے: دنیا میں انسان کے علاوہ بہت سارے جاندار ہیں لیکن کوئی ہم جنس پرست نہیں ہے۔ ہم جنس پرستوں کو جانوروں سے سبق لینا چاہئے۔ عاطف شاہ، برلِن: ہم جنس شادیاں بالکل ٹھیک ہیں، میں تو کہتا ہوں کہ روایتی شادیوں سے بہتر ہیں۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: کہتے ہیں کہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے۔ بش صاحب نے جنگ میں سب کچھ جائز کردیا تھا اور اب اقتدار کی جنگ میں بھی سب جائز ناجائز ایک ہے۔ میرے خیال میں ہم جنس شادیوں پر پابندی ہونی چاہئے۔ سارہ، ٹیکسس، امریکہ: اس طرح کی شادیاں حرام ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||