جہاں بچے سانپوں سےکھیلتے ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لکھنؤ کے مضافات میں ایک بستی میں سانپوں کی دیکھ بھال بچوں کی طرح کی جاتی ہے۔ رائے بریلی روڈ پرواقع سپیروں کی یہ بستی بنگالی کھیڑا کے نام سے جانی جاتی ہے جو تقریباً چالیس سال پرانی ہے۔ کچھ پکے مکانوں اور کـچھ پھوس کے چھپروں والی اس آبادی میں تقریباً پینتیس گھر ہیں اور تقریباً ہر گھر میں سانپ کچھ اس طرح سے رہتے ہیں جن سے سپیروں کے بچےّ بھی پوری طرح مانوس ہوتے ہیں۔ اکثر گھروں میں خوفناک کوبرے نظر آتے ہیں۔ اس بستی میں رہنے والے اڑتالیس سال کے کمل ناتھ نے بتایا کہ وہ لوگ سانپوں کو پکڑتے وقت یہ وعدہ کرتے ہیں کہ اسے ایک خاص مدتّ تک اپنے پاس رکھنے کے بعد چھوڈ دیں گے۔ یہ وعدہ سانپ سے کیا جاتا ہے جس کی مدّت ایک سےچار مہینے یا اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ کمل ناتھ نے بتایا کہ اس وعدہ کا پاس رکھنا لازمی ہے۔گھر میں پلنے والے سانپ کو شام کے وقت بچّے گھر کے باہر ایک یا د و گھنٹے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں تاکہ مینڈ ک یا اس جیسی کوئی دوسری خوراک اسے مل سکے۔ گھر کے اندر چاول اور بیسن وغیرہ دیا جاتا ہے۔ پچھتّر سالہ بزرگ کوری ناتھ نے بتایا کہ گھر کے اندر سانپ کے گرد ایک دائرہ بناکر منتر پھونک دیا جا تا ہے جس کے بعد سانپ اس دائرے سے باہر نہیں نکلتا۔ سپیروں کے پاس ایک پٹارہ ہوتا ہے۔ دن چڑھتے ہی یہ لوگ پٹارے میں سانپ رکھ کر آس پاس کی آبادی میں نکل جاتے ہیں۔ ہر دو شنبہ کو یہ لوگ مندروں کا رخ کرتے ہیں۔ ہندومت کے پیرو کاروں کے لیے سانپ دیوتائوں کا د ر جہ رکھتا ہے۔ ناگ پنچمی اورشیوراتری جیسے تہوار ان سپیروں کے لیے خاص آمدنی کا موقع ہوتے ہیں۔ ساون کے موسم میں بھی سپیروں کی عزّت افزائی بڑھ جاتی ہے۔ کوری ناتھ کے مطابق پٹارے کے اندر آکر سانپ مر جائے تو برادری میں حقہّ پانی بند ہو جاتا ہے۔ شہری سماج سے میل جول کے نتیجے میں سپیروں نے اپنے بچوّں کو تعلیم دلانا شروع کر دی ہے۔ کئي ایک بچوں نے ہائی سکول پاس کیا ہے۔ ساٹھ سالہ کیول ناتھ کا کہنا ہے ’پوری زندگی ہم مانگتے کھاتے رہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری طرح ہمارے بچےّ غریب نہ رہ جائیں۔ سرکار نوکری دے ہم اپنی روایت بھی نبھاتے رہیں گے۔‘ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے زمانے میں ان سپیروں کو سبھا کھیڑا گاؤں کے پاس آباد ہونے کے لیے زمین دی گئی تھی۔ بعد میں سپیروں کے کچھ کنبوں کو کمزور طبقہ کی ہاؤسنگ اسکیم ’اندرا آواس‘ کے تحت رہنے کے لیےگھر مہیا کرائے گئے۔ ٹیوب ویل اورگوبر گیس پلانٹ بھی لگا۔ جوتنے بونے کے لیۓ کھیت بھی دیا گیا لیکن پچھلے چار سالوں سے بنگالی کھیڑا کے سپیروں پر ایک نئی مصیبت منڈلا رہی ہے۔ ریاستی حکومت نے ان کی زمین پولیس لا ئن کے لیئے الاٹ کر دی ہے۔ چناچہ ان کی کھیتی بند ہو گئي ہے۔ بنگالی کھیڑی کے سپیرے اس بات سے کافی پریشان ہیں۔ | اسی بارے میں پالتو جانور: بیماری کاخطرہ 09 October, 2005 | نیٹ سائنس مکڑی کے خوف کا علاج03 November, 2003 | نیٹ سائنس جادو ٹونا نہیں چلے گا18 July, 2005 | انڈیا غیر محفوظ دِلی، تاج محل کےلیے ابٹن اور کار میں ٹی وی08 January, 2006 | انڈیا جادو: خاندان کے5 افراد کےسرقلم19 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||