پالتو جانور: بیماری کاخطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماہرین نے کترنے والے جانوروں کو بطور پالتو رکھنے والوں کو سالمونیلا کی بیماری سے بچنے کے لیےاحتیاطی تدابیر اختیار کرنے کامشورہ دیا ہے۔ سالمونیلا کے جرثومے سے ہضم ، انتٹریوں کی سوزش یا تناسل کی بیماریاں انسان اور دوسرے گرم خون رکھنے والے جانوروں میں ہو جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان جانوروں کو ہاتھ میں لینے کے بعد ہاتھوں کو پانی سے دھویا نہ جائے تو انفیکشن کی زد میں نہ آ نے کا خدشہ رہتا ہے۔
امریکن سینٹر فارڈیزیز کنٹرول ( سی ڈی سی) نے اٹھائیس افراد میں اس بیماری کے جرثومے کی تشخیص کی ہے۔ ان افراد میں سات چھوٹے بچے بھی شامل ہیں۔ جنہوں نے چوہوں اور ہیمسٹر (ایک چھوٹی دم رکھنے والا یورپ اور ایشیاء کا کترنے والا جانور جس کے منہ میں بڑی بڑی تھیلیاں ہوتی ہیں) کو بطور پالتو رکھا ہوا تھا۔ سانپ، کچھوے اور خارپشتوں کے علاوہ جربو، خرگوش، گنی پگ اور فیرٹ بھی انسانوں میں اس بیماری کے جرثومے کو پھیلانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ سالمونیلا کی بیماری خراب یا ملاوٹ شدہ کھانا جیسے گوشت اور انڈے کھانے سے پیدا ہوتی ہے۔
سی ڈی سی کے مشاہدے میں آیا ہے کہ بہت سارے انسانی انفیکشن کا سبب وہ جانور بنے جنہیں بطور پالتو رکھا گیا تھا۔ سی ڈی سی کے ڈاکٹر سٹیفن سوانسن کا کہنا ہے کہ والدین کو بچوں کو ان کترنے والے اور اس جیسے دوسرے جانوروں کو چھونے کے بعد اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ بچے اپنے ہاتھ دھو لیں۔ ان اٹھائیس مریضوں میں ایک پانچ سالہ بچہ بھی ہے جس نے اپنے پالتو چوہے کو مسلسل ہونٹوں سے چوما۔ اس حالت میں کہ جب اس کا پالتو چوہا بیمار تھا۔ برطانیہ کے ہیلتھ پروٹیکشن ایجنسی کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ سالمونیلا کی بیماری کے پالتو جانوروں سے پھیلنے کے واضح ثبوت موجود ہیں اور اس سلسلے میں اکثر کیس دیکھنے میں آتے ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ چھوٹے بچے اپنے اس قسم کے پالتو جانوروں کے منہ کو ہاتھ نہ لگائیں اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ان کا گہرا مشاہدہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ان جانوروں کو ہاتھ لگانے کے بعد فوراً ہاتھ دھونے چاہیں اور اس کے ساتھ ان جانوروں کے پنجروں میں رکھے کھانے پینے کی اشیاء بھی آلودہ ہوتی ہیں لہذا ان کو ہاتھ لگاتے وقت بھی احتیاط کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کےجانوروں کو کھانا پکانے کے علاقے سے دور رکھا چاہیے اور نہ ہی ان جانوروں کو آزادانہ گھر کے باقی حصوں میں گھومنے پھرنے نہیں دینا چاہیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||