| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پودوں،جانوروں کی نسلیں مٹنے کا خطرہ
ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق آئندہ چھیالیس برس میں موسمی تغیّر سے تقریباً دس لاکھ جانور کی نسل ختم ہو جائے گی۔ تحقیق کاروں نے یہ بھی کہا ہے کہ انہوں نے دنیا کے چھ خطوں میں تحقیق کے بعد یہ نتیجہ نکالا ہے کہ دو ہزار پچاس تک زمین پر پائی جانے والی پودوں کی اقسام اور جانوروں کی نسل کا ایک چوتھائی قصۂ پارینہ بن جائے گا۔ سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق اگر زہریلی گیسوں کے اخراج کو کم کر دیا جائے اور کاربن ڈائی اوکسائیڈ پر قابو پا لیا جائے تو جانوروں کی کئی نسلیں ختم ہونے سے بچ سکتی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ مطالعہ ان کھربوں افراد کے لئے بھی خطرے کی نشاندہی کرتا ہے جو اپنی بقا کے لئے نیچر پر انحصار کرتے ہیں۔ اس تحقیق میں ایک کمپیوٹر کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ دنیا میں پائی جانے والی پودوں کی مختلف اقسام اور جانوروں کی مختلف نسلوں کا بدلتی ہوئی آب و ہوا میں کس طرح کا ردِ عمل ہوگا۔ سائنسدانوں نے تین مختلف امکانات پر غور کیا یعنی آئندہ چھیالیس برس میں آب و ہوا میں بہت ہی کم تبدیلی ہوگی، درمیانے درجے کی تبدیلی ہوگی اور بہت زیادہ تبدیلی ہوگی۔ اس بات پر بھی کافی غور کیا گیا کہ کیا جانور بدلتے ہوئے حالات میں کسی دوسرے خطے کی طرف جائیں گے یا نہیں۔ سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں بسنے والے پودوں اور جانوروں کے تقریباً پندرہ سے سینتیس فیصد تک نام و نشان مٹ جانے کا خدشہ ہے۔ جن پودوں اور جانوروں کو شدید خطرہ لاحق ہے ان میں آسٹریلیا میں پائی جانے والی چھپکلی، جنوبی افریقہ کا قومی پھول اور اس قبیل کے دوسرے پھول اور سدا بہار جھاڑیوں پر مشتمل پروٹیا نامی پودا، برازیل کا ایک مخصوص درخت اور سکاٹ لینڈ میں متقاطع چونچ رکھنے والی چڑیا کی ایک قسم شامل ہے۔ اس تحقیق کے سربراہ یونیورسٹی آف لیڈ کے پروفیسر کرس تھامس کہتے ہیں سائنسدانوں کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ دس لاکھ سے زیادہ نباتات کی اقسام اور جانوروں کی نسلیں ختم ہو سکتی ہیں۔ تاہم اس خیال کااظہار بھی کیا گیا ہے کہ دو ہزار پچاس تک اگر آب و ہوا کی تبدیلی زیادہ سے زیادہ حد تک بھی پہنچ جائے تو اٹھارہ فیصد متاثرہ نسلیں ختم ہو نگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||