بلی: قدیم ترین پالتو جانور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماہرین آثار قدیمہ نے اپنی تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ بلی قدیم ترین پالتو جانور ہے۔ قبرص میں واقع ایک قدیم قبرستان میں دفنائی گئی بلی کے آثار سے معلوم ہوا ہے کہ بلیاں پالنے کا رواج ساڑھے نو ہزار برس قبل شروع ہوا تھا۔ اس قبرستان کا تعلق پتھر کے زمانے سے ہے۔ خیال ہے کے سب سے پہلے مصریوں نے بلیاں پالنے کا رواج شروع کیا اور سب سے پہلے شواہد کا تعلق دوہزار سے انیس سو قبل مسیح سے ہے۔ جبکہ فرانسیسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رواج اس سے بھی بہت پہلے شروع کیا گیا ہے۔ قبرص کے قبرستان سے ملنے والا بلی کا ڈھانچہ ایک انسانی قبر سے چالیس سینٹی میٹر کے فاصلے سے ملا ہے۔ اس کے علاوہ بھی ایسے کئی شواہد ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمانۂ قدیم میں بلیوں اور انسانوں کو ساتھ ہی دفنا دیا جاتا تھا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے نو ماہ کی بلی کو اس کے مالک کے ساتھ دفنانے کے لیے مار دیا گیا تھا۔ ایک اور گڑھے سے بلی کی جلی ہوئی ہڈیاں ملی ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کے اس زمانے میں انسان بلی کا گوشت کھاتے بھی تھے۔ ماہر آثار قدیمہ پروفیسر گولین کا کہنا ہے کہ آثار سے یہ تو ثابت نہیں ہوا کہ اس زمانے میں بلیوں کو مذہبی طور پر مقدس جانا جاتا تھا تاہم یہ ضرور ہے کہ یہ بات علامتی حیثیت رکھتی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||