مچھلی کے پاس دِل کے علاج کا راز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدانوں کے خیال میں بحیرہ انٹارٹیکا میں پائی جانے والی کاڈ مچھلی کے معائنے سے دِل کے آہستے دھڑکنے کا راز سمجھا جا سکتا ہے۔ کاڈ مچھلی کا دِل ایک منٹ میں چھ بار دھڑکتا ہے۔ برطانوی انٹارکٹک سوسائٹی کے سائنسدانوں کو امید ہے کہ اس مچھلی کے معائنے سے معلوم ہو سکے گا کہ اتنے شدید ماحول میں وہ اپنے دِل کی دھڑکن کیسے منظم کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بحیرہ انٹارٹکا میں پانی کا درجہ حرارت منفی دو ڈگری سینٹیگریڈ ہوتا ہے۔ اس تحقیق سے دِل کے بائی پاس آپریشن کے دوران دِل کو محفوظ رکھنے کے طریقوں کا پتہ چلایا جا سکے گا۔ بائی پاس آپریشن کے دوران انسانی دِل کا درجہ حرارت بہت کم ہوتا ہے۔ انسانی دِل ایک منٹ میں ساٹھ سے لے کر سو بار دھڑکتا ہے۔ ماہرین آلات کے ذریعے کاڈ مچھلی کے دِل کا تجزیہ کریں گے۔ یہ آلات مچھلی پرلگا دیئے جائیں گے جہاں سے زیر آب مائکروفون کے مدد سے ان سے حاصل کردہ سِگنل تجربہ گاہ میں پہنچا دیئے جائیں گے۔ کاڈ مچھلی کے مشاہدے سے سائنسدان اندازہ لگا نے کی کوشش کریں گے دِل کے آہستہ دھڑکنے کا انسان کے دِل پر کیا اثر ہوتا ہے۔ برمنگھم یونیورسٹی کے میڈیکل سکول کے ڈاکٹر سٹورٹ اگینٹن جو اس تحقیق کی قیادت کر رہے ہیں کا کہنا ہے کہ ’اگر انسان کے دِل کو تھوڑا سا بھی ٹھنڈا کیا جائے تو وہ فیل ہونا شروع ہو جاتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ اگر ’ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ مچھلی کا دِل منفی دو سینٹی گریڈ پر کس طرح کام کرتا ہے تو ہم کسی حد تک اندازہ لگا کیں گے کہ انسان کے دِل پر کیا اثر پڑتا ہے‘۔ برطانیہ میں دِل کے امراض کی تنظیم برِٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی ترجمان کا کہنا ہے کہ دِل کے آپریشن کو محفوظ بنانے کے طریقوں پر بہت تحقیق کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تحقیق سے پتہ چل سکے گا کہ دِل کے آپریشن کے دوران ہلکی کی جانی والی دھڑکن کو دوبارہ معمول پر کیسے لایا جائے سکے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||