مچھلیاں ہوا کو ترس گئیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دنیا کے سمندروں میں ایسی پٹیاں جہاں آکسیجن کم ہو رہی ہے مچھلیوں کی بقا کے لئے اُن کے شکار سے زیادہ خطرناک ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماحولیات کے بارے میں پروگرام کے مطابق انسانی کارروائیوں سے ایسے مادے پیدا ہو رہے ہیں جو سمندروں میں ’مردہ خِطّوں‘ کا باعث بن رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں مچھلیوں کے پچھتر فیصد ذخائر شکار کی زیادتی سے دوچار ہیں لیکن ان کو اصل خطرہ آکسیجن کی کمی سے ہے۔ سمندروں میں ایسے خطوں کی تعداد انیس سو ساٹھ کی دہائی کے بعد دوگنی ہو چکی ہے۔ ان ’مردہ خطوں‘ میں اضافے کی بڑی وجہ نائٹروجن گیس کے انخلاء میں اضافہ ہے۔ دنیا میں سالانہ ایک سو بیس ملین ٹن نائٹروجن کھاد کے طور پر استعمال کی جاتی ہے اور اس کے علاوہ نوّے ملین ٹن قدرتی طور پر پیدا ہوتی ہے۔ لیکن اس مقدار میں سے صرف بیس ملین ٹن خوراک کا حصہ بنتی ہے جبکہ اضافی مقدار دریاؤں کے راستے سمندروں میں جا پہنچتی ہے۔ گاڑیوں میں جلنے والا تیل اور بجلی گھر بھی نائٹروجن کی پیداوار کی ایک وجہ ہیں۔ سمندروں میں ’مردہ خطے‘ رقبے میں ایک مربع کلومیٹر سے لے کر ستر ہزار مربع کلومیٹر تک ہیں۔ان میں سے سب مشہور ’مردہ خطہ‘ خلیج میکسکو میں واقع ہے جس میں دریائے مِسیسپی کا پانی گرتا ہے۔ سب مردہ خطے مستقل نہیں ہیں اور ان میں سے کچھ سال میں ایک بار نمودار ہوتے ہیں۔ ان خطوں کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کے غیر ضروری کھادوں کا پانی میں بہنے سے روکا جائے، گاڑیوں کو اچھی حالت میں رکھا جائے اور جنگلات میں اضافہ کیاجائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||