 |  سمندری مونگے خلا سے انسانی آنکھ سے دنیاپر نظر آنے والی واحد چیز ہیں۔ |
آسٹریلیا کے مشرقی ساحل کے قریب عظیم زیرِآب سمندری مونگے یا کورل ریف کو سمندری درجہ حرارت میں اضافے کے باعث اگلے پچاس برس میں بڑے پیمانے پر نقصان پہنچےگا۔ آسٹریلیا کی کوئینز لینڈ یونیورسٹی میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق اس بات کے بہت کم امکانات ہیں کہ یہ سمندری مونگے اگلے پچاس برس میں درجہ حرارت میں ہونے والے متوقع دو ڈگری کے اضافے کو برداشت کر سکے گی۔  | سمندری مونگے: بنیادی حقائق دو ہزار کلو میٹر لمبے پندرہ سو اقسام کی مچھلیوں کا گھر خلاء سے انسانی آنکھ سے نظر آنے والی واحد زمینی شے |
اس کے علاوہ ماہی گیری میں اضافے اور پانی میں گندگی کی وجہ سے بھی کورل ریف بہت متاثر ہورہی ہے اور پچاس برس میں اس کا صرف پانچ فیصد حصہ باقی بچ پا ئے گا۔ اس تبدیلی کے ساتھ ہی وہ ساری حسین اور نایاب آبی حیات بھی تباہ ہو جائے گی جس کے لئے یہ مونگے یا کورل ریف مشہور ہیں۔ کوئینز لینڈ یونیورسٹی میں کی جانے والی اس تحقیق کا اہتمام ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر نے کیا تھا اور اس کے لئے کچھ رقم آسٹریلوی حکومت نے بھی ادا کی ہے۔ تحقیق کے مطابق اگر حالات بہت برے رہے تو اس صدی کے آخر تک مونگے مکمل طور پر تباہ ہوجائیں گے اور پھر دوبارہ سے ان کی نشو نما میں دو سو سے پانچ سو سال تک لگ سکتے ہیں۔ یہ مونگے درجہ حرارت میں معمولی سے اضافے سےبھی بہت زیادہ متاثر ہوجاتے ہیں اور اس علاقے میں سمندر کا درجہ حرارت اگلے سو برس میں چھ ڈگری تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔ |