جادو: خاندان کے5 افراد کےسرقلم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کی ریاست آسام کے ضلع سونت پور میں ایک مجمع نے کالا جادو کرنے کے الزام میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کے سرتن سے جدا کر دئیے ہیں۔ مرنے والوں میں خاندان کا سربراہ اس کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ یہ واقعہ بسواناتھ چرالی گاؤں کے قریب سدھارو کے چائے کے باغات میں پیش آیا۔ یہ گاؤں آسام کے شہر گواہتی سے تقریبا تین سو کلو میٹر دور شمال میں واقع ہے۔ ریاست آسام میں چائے کے باغات میں کام کرنے والے ایک شخص کو اس کے چار بچوں سمیت محض اس بنیاد پر قتل کردیا گیا کہ یہ افراد کوئی پرسرار بیماری پھیلانے کا سبب بنے ہیں اور اسی پرسرار بیماری سے دو دوسرے کارکن بھی ہلاک اور کئی بیمار ہوگئے ہیں۔ تقریبًا دو سو دیہاتیوں نے ایک غیر سرکاری عدالت میں ان افراد کو سزا سنائی اور اس کے بعد لوگوں کے سامنے چھروں کی مدد سے ان کے سر تن سے جدا کر دیئے گئے۔ دیہاتی مقتولوں کے سروں کے ساتھ مارچ کرتے ہوئے پولیس سٹیشن تک گئے۔ اطلاعات کے مطابق مقتول خاندان کا ساٹھ سالہ سربراہ عامر موندا پیشہ ور عامل تھا۔ چائے کے باغات میں کام کرنے والے دو مزدوروں کی پرسرار ہلاکت اور بہت سے دوسروں کی بیماری کا الزام ’ایدیواسی سنتھل‘ کمیونٹی نے عامر موندا اور اس کے خاندان پر لگایا۔ پولیس افسر ڈی داس نے بتایا کہ عامر موندا اور ان کے خاندان والوں کا اس بیماری سے کوئی تعلق ہے یا نہیں اس کا پتہ لگانے کے لیے عدالت کی طرح سے کارروائی کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ دیہاتیوں کا کہنا تھا کہ ان افراد کےقتل سے دیوتا خوش ہوں گے۔ ایک مقامی افسر اے ہزاریکا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ عامر کی حاملہ بیوی اور تین نو عمر بچے مجمع کے ہلہ بولنے کی خبر کا سن کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جبکہ باقی ماندہ خاندان کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ مقامی افسر کے مطابق اس سلسلے میں چھ افراد کو قتل کے جرم میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق آسام میں گزشتہ پانچ سال کے دوران تقریبا دوسو کے قریب افراد کو مبینہ طور پر جادو گنڈا کرنے کے جرم میں قتل کیا گیا۔ | اسی بارے میں جادو ٹونا نہیں چلے گا18 July, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||