جادو ٹونا نہیں چلے گا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ میں جادو ٹونا روکنے کے لیے ایک بِل متعارف کروایا گیا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت ان تمام افراد کے خلاف کارروائی ہو سکے گی جو جادوئی طاقتوں کا دعویٰ کریں گے یا کالے جادو کے علاج کے نام پر لوگوں کو جسمانی یا ذہنی نقصان پہنچائیں گے۔ بھارت کے کئی حصوں میں خواتین پر جادو کرنے کا الزام لگا کر ان کو ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ چھتیس گڑھ کے وزیر قانون بریگیڈیئر موہن اگروال نے کہا کہ مجوزہ قانون معاشرے کے کمزور طبقات کو استحصال سے بچانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بِل کے تحت جادو ٹونا ناقابل ضمانت جرم ہوگا۔ مجوزہ بِل بھارت کے قومی کمیشن برائے خواتین کی ہدایت پر متعارف کروایا گیا ہے۔ کمیشن نے حال ہی میں ریاست کا دورہ کیا اور خواتین پر مظالم کے کئی واقعات سنے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||