BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 May, 2004, 08:20 GMT 13:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران میں اڑن طشتریوں کا جادو؟
News image
ایران میں پچھلے کچھ دنوں سے راتوں کو آسمان پر درجنوں کی تعداد میں اڑتی ہوئی روشن چیزیں دکھائی دے رہی ہیں جس سے لوگ حیران ہیں اور ان کی زبانوں پر ایک ہی بات ہے کہ کوئی جاسوس طیارہ ایران کی فضا میں محوِ پرواز ہے۔

سرکاری ٹیلی وژن نے گزشتہ منگل کو رات کے وقت آسمان پر نمودار ہونے والی ایک درخشاں ڈسک کی تصاویر نشر کیں۔ نیم دائرے کی یہ شکل انتہائی روشن ہے اور تاریک آسمان پر بہت چکمدار دکھائی دیتی ہے۔

شمالی اور شمال مغربی ایران کے شہروں میں بھی لوگوں نے اسی طرح کی چیزیں آسمان پر اڑتی دیکھی ہیں جو فضا میں تیزی سے گزرتی ہیں اور جاتے جاتے رنگین شاعیں چھوڑ جاتی ہیں۔

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ آسمان پر جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ فطرت کا ایک دلکش منظر ہے مگر اکثر لوگوں کو شبہ ہے کہ رات کے وقت آسمانوں کو جگمگانے والے یہ متحرک عناصر در اصل جاسوسی کرنے والے جہاز ہیں۔

شمالی ایران میں خبر رساں ادارے اِرنا کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس نے نوے منٹ تک آسمان پر اڑنے والی ایک روشن چیز دیکھی۔ ایک مقامی اخبار نے اس نامہ نگار کے حوالے سے کہا ہے کہ آسمان پر دیکھی جانے والی یہ چیز گول تھی اور اس کے دو بازو بھی تھے۔

تاہم ایران کی فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ سعداللہ ناصری کہتے ہیں کہ یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ ایران کے آسمان پر کوئی اجنبی مخلوق محوِ پرواز ہے۔ ان کا کہنا ہے: ’جن لوگوں نے ان چیزوں کو دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے وہ ماہرین نہیں ہیں بلکہ عام کاشتکار اور دیہاتی ہیں۔‘

سعداللہ آسمان پر اڑتے ہوئے نظر آنے والے عناصر کی توجیہ یوں کرتے ہیں کہ یہ زہرہ سیارے کی اپنے مدار میں موجودہ پوزیشن کا ایک مظہر ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ زہرہ آج کل اپنے مدار کے جس مقام پر ہے وہاں سے آسمان پر رنگین روشنی کی جھلک نظر آنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔

زہرہ جسے ایرانی لوگ زیادہ تر ناہید کے نام سے جانتے ہیں اور جسے ہندی میں شّکر اور انگریزی میں وینس کہا جاتا ان دنوں ہندی تقویم کے لحاظ سے برکھ راشی یا برجِ ثور میں ہے اور اپنی گردش میں زمین سے قریب تر ہے۔

ایران میں فوجی اور سویلین ریڈاروں میں بھی فضائی حدود کی کسی خلاف ورزی کی کوئی علامت نظر نہیں آئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد