ایرانی علماء فلم کی نمائش پر ناراض | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک مزاحیہ ایرانی فلم نے ایران میں باکس آفس پر زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ فلم ایک سزایافتہ مجرم کی زندگی پر بنائی گئی ہے جو ایک عالم کا بھیس بدل لیتا ہے۔ مرمولک نام کی یہ فلم پہلے گزشتہ مارچ ایران میں نئے سال کی چھٹیوں کے دوران ریلیز ہونی تھی لیکن حکام کا خیال ہے کہ فلم کا مرکزی خیال ملک میں علماء کی دل آزاری کا سبب بن سکتا ہے اس لئے اس فلم پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم بعد میں بعض مناظر ہذف کئے جانے کے بعد اس فلم کی نمائش کی اجازت دے دی گئی ۔فلم کا مرکزی کردار رضا مر مولک نامی ایک ایسا شخص ہے جو جیل سے بچنے کے لئے ایک مولوی کا بھیس بدل لیتا ہے۔ اس بہروپ میں اس کو ان فوائد کا اندازہ ہوتا ہے جو ایران کے اسلامی معاشرے میں کسی بھی عالم کو حاصل ہوتے ہیں ۔ بظاہر فلم کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ انسان جیسا بھی ہو نیکی کا راستہ اختیار کرنا ہر وقت اس کے بس میں ہوتا ہے لیکن ایرانی علما ء کا کہنا ہے کہ معاشرے میں عالمِ دین کا کردار جس طرح فلم میں دکھایا گیا ہے وہ قابلِ اعتراض ہے کیونکہ فلم کے کردار کو بعض جگہ نمازیوں کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے دکھایا گیا ہےجو کہ عموماً نہیں ہوتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||