BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان: بچوں کے پر اسرار قتل

News image
وہ علاقہ جہاں تحسین کی لاش پائی گئی
لاہور کے نواحی علاقہ مریدکے میں بچوں کے سلسلہ وار قتل نے خوف وہراس کی کیفیت پیدا کر رکھی ہے۔

پولیس کی ایک چوکی اس چھوٹے سے قصبہ میں قائم کردی گئی ہے اور پولیس کے باوردی اور سادہ پوش اہلکار گشت کرتے رہتے ہیں لیکن پھر بھی مکینوں میں خوف کا ختم نہیں ہو پایا۔

مکین سارا دن ٹولیوں کی شکل میں اپنے طور پر بھی گشت کرتے ہیں اور بچوں کو سکول لانے لے جانے کے لیے خصوصی گن مین رکھے گئے ہیں ۔

ایک مکین شبیر حسین نے بتایا کہ’ لوگوں نے اپنے بچوں کو سکول اور مساجد بھیجنا کم کردیا ہے ۔ جبکہ مقامی سکول کی وین کے ساتھ مسلح اہلکار ہوتا ہے ‘۔

لاہور سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر جی ٹی روڈ پر واقع اس قصبہ داؤد میں تین ہفتوں کے دوران یکے بعد دیگرے تین بچے ایک ہی انداز میں قتل ہوئےہیں۔

تمام بچے ایک ہی قصبے سے تعلق رکھتے تھے سب پر چھری سے وار کیے گئے اور سب کےگلے دائیں جانب سے کاٹے جانے کے علاوہ ان کے پیٹ میں بھی چھری کے وار کیے گئے تھے۔

بچوں کی عمریں پانچ سے آٹھ سال کے درمیان تھیں آخری دو بچے رمضان اور تحسین جمعہ کے روز دوپہر کے وقت قتل ہوئے۔

تحسین کے قتل کے بعد آنے والا پہلا جمعہ موضع داؤ کے لیے خوف و ہراس سے بھرا تھا۔ اسی جمعہ کی سہ پہر میں وہاں پہنچا تو میں نے دو مسلح پولیس اہلکاروں کو تنگ و تاریک گلیوں میں گشت کرتے دیکھا۔

ایک مکین نے بتایا کہ دوپہر کو اس چھوٹے سے قصبہ میں پانچ چھ سو اہلکار گشت کرتے رہے تھے۔

News image
مقتول تحسین کے دادا جنہوں نے قتل کی تفصیلات بتائیں

موسلادھار بارش کے باوجود لوگ گلی کوچوں میں کھڑے تھے میں نے ایک بچے سے پوچھنا چاہا کہ کیا یہاں کوئی قتل ہوا ہے تو وہ دس سال کا بچہ کوئی جواب دینے کی بجائے خوفزدہ ہوگیا اور فورا وہاں سے بھاگ گیا۔

قتل ہونے والے آخری بچے تحسین کے دادا حکیم حق نواز نے بتایا کہ وہ بچے کو پڑھا رہے تھے کہ تحسین بازار سے پنسل لینے کے لیے چلا گیا۔ دکان بند تھی وہ وہاں سے گذرنے والی ایک بارات دیکھنے لگا۔ انہوں نے کہا کہ بارات کے لوگوں نے اسے دیکھا تھا پھر وہ غائب ہوگیا لیکن کچھ ہی دیر میں شور مچ گیا کہ اسے قتل کردیا گیا ہے‘۔

حکیم حق نواز اپنے پوتے کی لاش دیکھتے ہی بے ہوش ہوگئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچے کے ان کے پاس سے جانے کے صرف پندرہ منٹ بعد انہیں اس کی ہلاکت کی اطلاع مل گئی تھی ۔

قصبے میں خوف وہراس تو پہلے بچے کی ہلاکت کے بعد سے ہی پیدا ہوگیا تھا لیکن اس میں اضافہ دو روز قبل ہوااس وقت ہوا جب ایک پانچ سالہ بچے زین العابدین پر نامعلوم قاتل نے چھری کے وار کیے تھے وہ صرف زخمی ہوا تھا اور اس کی جان بچالی گئی تھی۔

اس کے بعد ایک لڑکی تہمینہ قتل ہوئی تو خوف وہراس پیدا ہوگیا تیسرےحملے میں رمضان نامی بچہ ہلاک ہوا تو مکینوں نے زبردست مظاہرہ کیا تھا ۔جس میں پولیس کی مبینہ فائرنگ سے ایک شہری بھی ہلاک ہوا تھا ۔

پولیس تاحال ان وارداتوں کے ذمہ دار سیریل کلر کو گرفتار نہیں کر سکی ہے تاہم پولیس نے متعدد افراد کو شامل تفتیش کر رکھا ہے۔

ڈی آئی جی شیخوپورہ ثقلین نقوی نے بتایا کہ پولیس نے دو الگ الگ ممکنہ محرکات دہشت گردی یا ’جادو کے لیے قتل‘ کی بنیاد پر تفتیش کی تھی اور کافی حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ تیسرے بچے تحسین کے قتل کے سوا پولیس باقی قتلوں کا معمہ حل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے لیکن ابھی اس کا اعلان کرنا قبل از وقت ہوگا۔

ایک مقامی پولیس اہلکار نےبتایا کہ ایک شخص مولوی ارشد کو اس کے چند ساتھیوں سمیت شامل تفتیش کیا گیا ہے اور اس پر شبہ ہے کہ اس نے جادو کے لیے بچوں کا خون حاصل کرنے کے لیے یہ وارداتیں کی ہیں۔

تاہم ایک مقامی نامہ نگار نے بتایا کہ تحسین کا قتل اس شخص کو حراست میں لیے جانے کے ایک روز بعد ہوا تھا جس سے یہ ثابت ہوا کہ پولیس ابھی تک قاتلوں کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد