مقتول ’جادوگرنیوں‘ کی معافی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سکاٹ لینڈ کے ایک گاؤں میں ہیلووین کے موقع پر ان درجنوں جادوگرنیوں کو معافی دی جا رہی ہے جنہیں 400 سال پہلے قتل کر دیا گیا تھا۔ مشرقی لوتھین میں پریسٹن پین ان قدیم جاگیردارانہ طاقتوں کی جانب سے اتوار کو ہونے والی اس تقریب میں اکیاسی مقتول افراد کےلواحقین اور رشتے داروں کی شرکت متوقع ہے۔ زیادہ تر خواتین پر مشتمل ساڑھے تین ہزار سے زیادہ سکاٹش افراد کو کالی بلیاں پالنے اور گھریلو ادویات کی تیاری جیسے الزامات کی بنیاد پر تحریک احیاء کے دوران موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا شک اور تواہم کا یہ ماحول جیمز اول کے نام سے انگلستان کے بادشاہ بننے والے جیمز ششم کے دور میں عروج پر تھا معافی کی اجازت اس سال 27 جولا ئی کو پریشٹونگ رینج بیرونیل عدالت سے ملی تھی۔ اور اب اتوار کو معافی کا عام اعلان کیا جاۓگا۔ ُان جادوگرنیوں کی قبروں پر پھول بھی چڑھائے جا ئیں گے اور ایک خصوصی طور پر تیار کردہ کتبہ بھی نصب کیا جائےگا۔ مقامی تاریخ دان راۓ پو ایک سادہ اور پروقار تقریب میں عام معافی کا اعلان کریں گے۔مسٹر پوہ نے ہی عدالت میں ثبوت پیش کر کے ان معافیوں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ ’یہ معافی عوام کے خلاف کیے گئے جرائم کی نشاندہی کرے گی ‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ اگرچہ معافی کیلیے بہت دیر ہو چکی ہے لیکن یہ اس بات کا علامتی اظہار ہے کہ یہ لوگ پرتشدد جہالت اور توہم کی وجہ سے مارے گۓ‘۔
چودھویں بیرن ڈاکٹر گورڈن نے اس معاملے کو پریشٹونگ رینج عدالت کے تحت نمٹانے کافیصلہ کیا اگرچہ اسے ایم ایس پی کے 2000 میں منظور کردہ قانون کے تحت 28 نومبر کو ختم کر دیا گیا تھا۔اسی قانون کےتحت سکاٹ لینڈ کے جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ بھی ہوا تھا۔ عدالت نے یہ حکم بھی دیا تھا کہ قصبہ میں ایک سالانہ تقریب کا ا ہتمام کیا جاناچا ہیے جس میں ان المیہ واقعات کو بھی پیش کیا جائے۔ ان ملزمان جادوگرنیوں کو سزا دلوانےمیں چرچ آف سکاٹ لینڈ کے کردار پر سن دو ہزار ایک میں مسٹر پو کی کتاب خاصی متنازعہ ثابت ہوئئ تھی ان کا کہنا تھا کہ ملزمان میں سے زیادہ تر پر ایسی عدالتوں میں مقدمہ چلایا گیا جہاں منصفین مقامی جاگیردار تھے اور جنہیں کسی بھی قسم کی قانونی تربیت حاصل نہیں تھی۔اور ملزمان کو اپنی صفائی کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ اڈیل کون کا کہنا تھا کہ یہ سزائیں1735 کے قانونِ جادوگری کے تحت دی گئی تھیں اور صرف بادشاہ کو ہی انہیں معاف کرنے کا حق حاصل تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’ بہت سے لوگوں کو ہمارے کام کے بارے میں تجسس تھا چنانچہ ہمیں امید ہے کہ اتوار کو لوگوں کی بڑی تعداد اس موقع پر موجود ہو گی‘۔ ’ اگرچہ اس تقریب کے ہیلووین پر منعقد ہونے پر کچھ لوگوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے لیکن مارچ کے وسط میں بھی جادوگرنیوں کی یاد نہیں منائی جا سکتی‘۔ ’لوگ ہیلووین کو جادوگرنیوں سے جوڑتے ہیں اور معافی کی تقریب سےاس دن کی نوعیت تبدیل نہِیں ہو گی۔‘ ’ اس تقریب کا ایک سنجیدہ مقصد ہے اور ہم ُان بدقسمت افراد کا احترام کر تے ہیں‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||