| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
کالا جادو سائنس کی جگہ؟
بھارت میں ایک وفاقی وزیر نے سانپوں کو اپنے گلے میں ڈالے، جلتے کوئلوں پر رقص کرتے کالے جادو کے حق میں بیان دے کر ملک بھر سے شدید تنقید کو دعوت دی ہے۔ انسانی وسائل کے جونئیر وزیر سنجے پاسوان جمعرات کے روز ریاست بہار میں جھاڑ پھونک کرنے والوں کے ناچ گانے میں شریک تھے۔ انہوں نے جادو ٹونے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جادو کی کتابیں مستقبل میں سائنس کی کتابوں کی جگہ لے لیں گی۔ جھار کھنڈ اور بہار کے علاقے میں لوگ ہر ماہ کسی عورت کو چڑیل قرار دے کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ یہ اموات جھاڑ پھونک کرنے والے عاملوں کے اشاروں پر ہوتی ہیں۔ تاہم سنجے پاسوان کا کہنا ہے جادو ٹونے اور مکاری کو الگ الگ جانچنے کا کوئی معیار مقرر ہونا چاہئے۔ ان کا کہنا ہے ’بغیر سوچے سمجھے کسی بزرگ کو دھوکے باز قرار دے دینا درست نہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اگر دم جھاڑا کرنے والوں کا اتنا اثرو رسوخ ہے تو یقیناً ان کے کام کی کوئی وقعت ہوگی۔ ’ہمیں بلا سوچے سمجھے اس مہارت کو مسترد کرنے کے بجائے اس کی جانچ پرکھ کے لئے کوئی معروضی پیمانہ مقرر کرنا چاہئے‘۔ سنجے پاسوان کے ان بیانات نے لالو پرساد یادیو کو فوراً ایک جوابی بیان داغنے پر اکسایا اور انہوں نے انتہائی طنزیہ لہجے میں کہا ’سنجے پاسوان کہاں سے کہاں جارہا ہے۔ اس آدمی کے الٹے سیدھے بیانات سے ریاست بہار کا تاثر خراب ہوکر رہ گیا ہے۔ یہ آدمی وزیر بننے کے لائق تو کیا یہ تو نارمل ہی نہیں پاگل ہوچکا ہے۔ اسے یہاں سے نکال باہر کرنا چاہئے‘۔ اس طرح کی بیان بازی سے ریاست بہار کا یہ مقامی مسئلہ دور دور تک شہرت حاصل کرچکا ہے۔ سماجی بھلائی کی تنظیموں نے جھاڑ پھونک اور جنتر منتر کرنے والوں کو سماج دشمن عناصر قرار دیا۔ تاہم سنجے پاسوان اس طرح کی مخالفت سے ذرا نہیں گھبرائے بلکہ وہ تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ اس سے پہلے کہ امریکہ جیسا کوئی خالص کاروباری ملک جادومنتر کی مہارت کے حقوق قانونی طور پر اپنے نام کروائے، بھارت کو چاہئے کے اس سلسلے میں قانونی چارہ جوئی کرے تاکہ باسمتی چاول کی طرح ایک خالص بھارتی ہنر پہ بھی کوئی غیر ملک قبضہ نہ کرلے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||