| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مکڑی کے خوف کا علاج
مکڑی کے خوف کا بہترین درما یہ تصور کیا جاتا ہے کہ آپ آٹھ پاؤں والے اس جانور کے منہ در منہ ہو جائیں تو خوف خود از خود بھاگ جائے گا۔ مکڑی کے خوف سے نجات کے اس نسخے کو ایجاد ہوئے ایک زمانہ ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود اب بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو اس بالعموم نحیف سے جانور کو دیکھتے ہی بے ساختہ چیخ نہ پڑیں یا چیختے ہوئے بھاگ نہ نکلیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدان اس خوف کا علاج ڈھونڈنے میں لگے رہے اور اب امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی اس خوف یا واہمے کا علاج کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے سائنسدانوں نے کمپیوٹر کی مدد سے ایک ایسی شبیہ تخلیق کی ہے جس کی مدد سے خوف میں مبتلا افراد اپنی زندگی کے تاریک ترین حصوں سے نجات حاصل کر سکیں گے۔ اس مقصد کے لیے ایک ایسی سیمیولیشن یا خورد بین ایجاد کی گئی ہے جو خوف میں مبتلا افراد کو پہنا دی جائے گی اور اسے پہنتے ہی خوف میں مبتلا افراد ایک ایسے تصوراتی باورچی خانے میں داخل ہو جائیں گے جہاں ان کا سامنا آخرِ کار کلائی کے برابر جسامت رکھنے والی ایک ایسی مکڑی سے ہو گا جو سانپ کی طرح جانوروں کو زندہ نگل سکتی ہو گی۔ شروع میں باورچی خانے کا منظر خوشگوار اور پُر حرارت محسوس ہو گا لیکن بتدریج اس میں تبدیلی آتی جائے گی اور سرد ہونے کے ساتھ ساتھ ماحول بھی ناخوشگوار ہوتا جائے گا۔
جوں جوں منظر تبدیل ہو گا باورچی خانے میں کچھ مکڑیاں بھی دکھائی دیں گی جو ابتدا میں دور دور رہیں گی۔ اس مشق کے بعد وہ مرحلہ بھی آ جائے گا جس میں خوف کے اسیر مکڑی کو خود پکڑیں گے۔ اس مرحلے میں ان کے پاس ایک ٹوکری ہو گی، جب تک وہ ٹوکری کو اٹھائے رکھیں گے آٹھ ٹانگوں اور پورے جسم پر بالوں والی مکڑی دکھائی نہیں دے گی لیکن جیسے ہی ٹوکری نیچے رکھی جائے گی مکڑی ٹوکری سے باہر آ جائے گی۔ مکڑی کو پکڑنے اور چھوڑنے کی یہ مشق اس حد تک کرائی جائے گی کہ مشق کرنے والے کا خوف جاتا رہے گا۔ ہیومن کمپیوٹر انٹرایکشن نامی بین الاقوامی جریدے میں شائع ہونے والے ایک مطالعے کے مطابق اس سلسلے میں ہونے والے تجربات میں شریک ہونے والے بیشتر افراد شروع میں مکڑیوں کو زیادہ سے زیادہ پانچ فٹ قریب تک برداشت کر سکتے تھے لیکن بعد میں وہ مکڑیوں کے چھ انچ قریب تک جانے سے بھی نہیں گھبراتے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||