انڈیا: ڈانس بار پر عائد پابندی ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی ہائی کورٹ کی ڈیویژن بینچ نے ڈانس بار پر عائد پابندی ہٹا دی ہے اور حکومت کو سپریم کورٹ میں اپیل کے لیئے آٹھ ہفتوں کا وقت دیا ہے۔ جسٹس ایف ریبیلو اور روشن دلوی پر مشتمل عدالتی بینچ نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ ڈانس بار پر پابندی غیر آئینی ہے کیونکہ حکومت کسی سے اس کی روزی روٹی کا حق نہیں چھین سکتی۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں مزید کہا کہ جتنے بھی ڈانس بار ریاست میں ہیں وہ اپنے لائسنس کی تجدید کے ساتھ کاروبار دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔ ڈانس بار گرلز ایسوسی ایشن کی صدر ورشا کالے نے اس فیصلہ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’ آخر سچ کی جیت ہوئی ہے‘۔ ورشا کے مطابق انہیں عدالت پر شروع سے یقین تھا۔ ڈانس بار ایسوسی ایشن کی وکیل فلاویہ اگنس نے بھی عدالت کے فیصلے پر اطمینان ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے دراصل عدالت کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں خوشی ہے کہ عدالت میں ان کی جرح اور حالات کو صحیح طور پر پیش کرنے پر عدالت نے یہ تاریخی فیصلہ دیا ہے۔ ہوٹل اینڈ ریستوران ایسوسی ایشن کے صدر منجیت سنگھ سیٹھی کو بدھ کی دوپہر عدالت کا فیصلہ آنے سے قبل اسمبلی کی توہین کے الزام میں تین ماہ قید کی سزا دی گئی تھی اور وہ اس وقت پولس حراست میں ہیں۔ ان پر وزراء اور حکومت کو بار بند کرنے پر دھمکی دینے جیسے الزامات عائد کئے گئے تھے۔ گرفتاری سے قبل سیٹھی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ اس کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل داخل کریں گے۔ گزشتہ برس پندرہ اگست سے مہاراشٹر کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے کابینہ کی منظوری کے بعد پوری ریاست کے ڈانس باروں کو بند کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ پہلے پابندی سے ریاست میں ڈانس باروں کے لیئے پولیس اور ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے لائسنس جاری کیئے جاتے تھے اس لیئے حکومت کو قانون میں ترمیم کرنی پڑی اور نیا قانون عمل میں آیا جس کے تحت ریاست کے کسی بھی ریستوران، بیئر بار اور پرمٹ روم میں ہر طرح کے رقص پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ بار گرلز ایسوسی ایشن کے ریکارڈ کے مطابق ڈانس باروں پر پابندی کے نتیجے میں پچھتر ہزار ڈانس گرلز اور ان ہوٹلوں میں کام کرنے والے ملازمین سمیت ایک لاکھ کے قریب لوگ بےروزگار ہو گئے تھے۔ ڈانس بار بند کیئے جانے کے حکومت کے فیصلہ کے بعد پوری ریاست میں بحث چھڑ گئی تھی کہ کیا حکومت اور پولیس کا عوام کو اس طرح کا اخلاقیات کا درس دینا درست ہے؟ بار بند ہونے کے ایک ہفتہ کے دوران تین بار گرلز نے خودکشی کر لی تھی اور بیشتر مہاراشٹر کو چھوڑ کر بنگلور اور دیگر ریاستوں میں چلی گئیں۔ بار گرلز ایسو سی ایشن کی صدر ورشا کالے کے مطابق ’سینکڑوں لڑکیاں مجبوری میں جسم فروشی کے دھندہ میں ملوث ہو گئیں‘ ۔ان میں سے کئی کے ذمہ ان کے پورے گھر کی ذمہ داریاں تھیں ۔ کچھ لڑکیوں نے شراب خانوں میں ویٹرس بننا منظور کر لیا ۔ کچھ واپس اپنے خاندانی پیشے مجرے کی جانب مڑ گئیں جبکہ کئی نے ملک سے باہر خلیجی ممالک کے بڑے ہوٹلوں میں کام کرنا شروع کیا۔ ڈانس بار بند ہونے کے بعد بڑے پیمانے پر ریاست بھر میں احتجاج بھی ہوا تھا اور خواتین کی کئی غیر سرکاری تنظیموں نے ڈانس بار گرلز کا ساتھ دیا تھا۔ عدالت میں حکومت کے اس فیصلہ کو چیلنج کرنے کے لیئے چودہ عرض داشتیں داخل کی گئیں لیکن بعد میں صرف چھ کو ایک ساتھ ملا کر ممبئی ہائی کورٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ ہوٹل اینڈ بار ریستوران کے صدر منجیت سنگھ سیٹھی نے حکومت کی ’دو رخی پالیسی‘ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ فائیو اسٹار ہوٹلوں اور پب میں اعلٰی درجہ کی ڈانسرز کو رقص کی اجازت ہے لیکن متوسط طبقہ کے ہوٹل میں اس پر پابندی عائد کردی گئی ہے جس سے لاکھوں لوگ بےروزگار ہو چکے ہیں۔ بار رقاصاؤں کے کیس کے وکلاء مہر دیسائی، آنندگروور فلاویہ اگنیس نے عدالت کے سامنے جو جرح کی اور رپورٹس پیش کیں ان کے مطابق حکومت نے بار بند کرنے کا جو جواز پیش کیا وہ غلط تھا۔ بے روزگار ہونے والے لوگوں کی آبادکاری کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے حالات اور بدتر ہو گئے۔ دوسری جانب حکومت نے اپنے موقف کی وضاحت میں کہا کہ ڈانس بار کی وجہ سے ریاست کا ماحول خراب ہو رہا تھا۔ یہ بارز مجرمانہ سرگرمیوں کے اڈے بن گئے تھے اور یہاں کم سن لڑکیوں سے جسم فروشی کرائی جاتی تھی۔ حکومت کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہاں زیادہ تر لڑکیاں پڑوسی ملک بنگلہ دیش سے لائی گئی ہیں۔ حکومت نے ایک غیر سرکاری تنظیم ’پریاس‘ (کوشش ) سے سروے کرایا جس کی رپورٹ کے مطابق بار بند ہونے پر صرف پچیس فیصد لڑکیوں نے اعتراض کیا لیکن دیگر اس سے خوش ہیں۔ | اسی بارے میں ڈانس بار پر پابندی کے لیے بل منظور 22 July, 2005 | انڈیا انڈیا ڈائری:’ کجرا رے‘27 January, 2006 | Poll ایش وِویک کاساتھ نہ رہا،اداکار چھٹی پر10 April, 2006 | فن فنکار فیشن تنازعہ، دوبارہ تحقیقات کا حکم05 April, 2006 | انڈیا لیکمے فیشن شو تنازعات کا شکار رہا02 April, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||