راج کمار: آخری رسوم، آٹھ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کننڑ فلموں کے مشہور اداکار ڈاکٹر راج کمار کی آخری رسومات کے دوران تشدد ایک پولیس اہلکار سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ جمعرات کو بنگلور میں ان کے پرستاروں اور پولیس کے درمیان پتھراؤ میں کئی افراد زخمی ہوئے اور کئی گاڑیوں کو نذر آتش کردیا گیا تھا۔ پولیس نے مظاہرین پر گولی چلائی جس سے چار افراد ہلاک ہوگئے۔ مظاہروں کے درران لوگوں نے پولیس اہلکاروں کو بھی مارا پیٹا۔ ایک اہلکار بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ راج کمار گزشتہ روز دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔ جمعرات کی شام کو سرکاری اعزاز کے ساتھ بنگلور کے ’کانتی ورا‘ سٹوڈیو میں ان کی آخری رسوم ادا کی گئی ہیں۔ ان کے انتقال پر کرناٹک حکومت نے دو دن تک سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے۔ آخری دیدار کے لیے ان کے جنازے کو’ کانتی ورا‘ سٹوڈیو میں رکھا گیا تھا جس کے آس پاس ان کے ہزاروں مداح جمع تھے۔ جذباتی پرستاروں نے پہلے نعرے بازی شروع کی اور جب حالات قابو سے باہر ہونے لگے تو پولیس نے مداخلت کی لیکن بھیڑ پر قابو پانے کے لیے پولیس کی تعداد بہت کم تھی۔ ناراض ہجوم نے پولیس کی ایک گاڑی پر حملہ کیا جس کے جواب میں پولیس کو فائرنگ کرنی پڑی۔ اس واقعے میں ایک شخص ہلاک ہوا جبکہ پتھراؤمیں کئی پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ایڈیشنل کمشنر آف پولیس گوپال ہوسرو نے بی بی سی کوبتایا کہ فائرنگ میں ایک شخص زخمی ہوا تھا جوبعد ازاں ہسپتال میں انتقال کر گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’اس بات کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ کیا پولیس نے فائرنگ اپنےدفاع میں کی تھی؟‘ ۔
جنوبی ہندوستان میں راج کمار کا شمار مقبول ترین اداکاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے دو سو سے زئد کنّڑ فلموں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ریاست کرناٹک میں انہیں بھگوان کی طرح پوجا جاتا تھا اور احترام میں عام طور پر انہیں ’انناورو‘ یعنی بڑے بھائی کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ ان کی موت کی خبر سے کنڑا فلم انڈسٹری سمیت پورا کرناٹک سکتے میں ہے۔ | اسی بارے میں کننڑ فلموں کے راج کمار نہیں رہے12 April, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||