BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 April, 2006, 15:30 GMT 20:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کننڑ فلموں کے راج کمار نہیں رہے

ڈاکٹر راج کمار بہت اچھے گلوکار بھی تھے۔
ڈاکٹر راج کمار بہت اچھے گلوکار بھی تھے۔
کننڑ فلموں کے مشہور و معروف اداکار ڈاکٹر راج کمار دل کا دورہ پڑنے سے بنگلور میں انتقال کرگئے۔

ستّتر سالہ راج کمار کے نجی ڈاکٹر رمنّا راؤ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی صحت اچانک خراب ہوگئی اور انہیں اسپتال میں داخل کرانا پڑا لیکن تب تک ان کا انتقال ہو چکا تھا۔

دو سو سے زیادہ فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھانے والے ڈاکٹر راج کمار نے آٹھ سال کی عمر سے فلموں میں اداکاری کی شروعات کی تھی۔ لیکن بطور ہیرو ان کی پہلی فلم ’بیدارہ کنّپا‘ 1954 میں ریلیز ہوئی تھی۔وہ بہت اچھے گلوکار بھی تھے۔

ریاست کرناٹک میں انہیں بھگوان کی طرح پوجا جاتا تھا اور احترام میں عام طور پر انہیں ’انناورو‘ یعنی بڑے بھائی کے نام سے پکارا جاتا تھا۔

ان کی موت کی خبر پورے شہر میں تیزی سے پھیل گئی اور خراج عقیدت پیش کرنے کے لیئے ہزاروں کی تعداد میں ان کے مداح ان کی رہائشگاہ پر پہنچ گئے۔

ہزاروں کی تعداد میں ان کے مداح ان کی رہائشگاہ پر پہنچ گئے۔

شیدائیوں کی بھاری بھیڑ اور کئی مقامات پر جذباتی مناظر کے پیشِ نظرا نتظامیہ نے پورے بنگلور شہر میں حفاظت کے سخت انتظامات کیئے ہیں۔ بنگلور ، میسور، تمکور، مانڈیہ اور چماراج نگر پوری طرح بند ہے۔ راج کمار کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی سنیما گھر، دکانیں اور دفاتر بھی بند کر دیے گئے۔

ڈاکٹر راجکمار کے بیٹے رگھوویندر کے مطابق ان کے والد اپنے بڑے بھائی کی موت کے بعد کئی روز سے ذہنی تناؤ کا شکار تھے۔

فلموں کے ساتھ ساتھ اداکار راج کمار چھ برس قبل اس وقت بھی سرخیوں میں آئے تھے جب خوفناک ڈاکو ویرّپن نے انہیں اغواء کر لیا تھا اور وہ تقریباً 100 دن تک جنگل میں یرغمال بنے رہے۔ راج کمار کی مقبولیت اور ان کے احترام کے پیشِ نظر ریاستی حکومت نے ویرًپن کی تمام مانگوں کو مان لیا اور اس کے بعد ہی راجکمار کو رہائی مل سکی۔

ڈاکٹر راج کمار کو کننڑ فلم انڈسٹری کی عظیم خدمات کے لیئے ملک کے سب سے بڑے اعزاز دادا صاحب پھالکے اوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ان کے لواحقین میں میں اہلیہ، دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔

اسی بارے میں
’دی میسج‘ کے پروڈیوسر ہلاک
11 November, 2005 | فن فنکار
پرویز مہدی انتقال کر گئے
29 August, 2005 | فن فنکار
فلم سٹار رنگیلا چل بسے
24 May, 2005 | فن فنکار
پروین بابی اپنے آخری سفر پر
24 January, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد