’خدا کی زمین‘ پرکمیونسٹ حکمران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست کیرالا اپنے بے پناہ قدرتی حسن، ساحلی پٹی، جھیلوں اور سرسبزی و شادابی کی وجہ سے ’God’s own country‘ یا ’خدا کی اپنی زمین‘ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ وہ نعرہ ہے جو ریاست کے متحرک محکمہ سیاحت نے بین الاقوامی سیاحوں کو راغب کرنے کے لیئے تیار کیا تھا اور یہ دنیا بھر میں کافی مقبول ہوا۔ لیکن اب اس ’خدا کی اپنی زمین‘ پر ایسی جماعتوں کی حکومت ہے جو خدا کے وجود کوہی نہیں مانتیں، یعنی کمیونسٹ پارٹیاں۔ گزشتہ ہفتہ ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں حکمران کانگریس کے زیر قیادت متحدہ جمہوری محاذ کو بری طرح شکست اٹھانی پڑی اور مارکسی کمیونسٹ پارٹی کی زیر قیادت بائیں بازو کا محاذ برسراقتدار آگیا۔ حسب توقع 83 سالہ وی ایس اچوتانندم کو کیرالا کا نیا وزیراعلی بنایا گیا۔ اس عہدے کے لیئے ان کا مقابلہ مارکسی پارٹی کے ایک اور بڑے لیڈر پی محمد کٹّی کے ساتھ تھا لیکن اچوتانندم کی مقبولیت اور سینیارٹی کے مدنظر پارٹی نے ان ہی کے حق میں فیصلہ کیا۔ اس طرح اب پڑوسی ریاست تامل ناڈو کی طرح کیرالا کی باگ ڈور بھی ایک ایسے سیاستدان کے ہاتھوں میں ہے جو اسّی کے پیٹھے میں ہے۔ لیکن تمل ناڈو کے ایم کروندھی پانچویں مرتبہ وزیراعلٰی بنے ہیں جبکہ لگ بھگ ساٹھ برسوں سے سیاست میں شامل اچوتانندم پہلی مرتبہ حکومت اور کابینہ میں آئے ہیں۔ انہیں اب تک ایک مقبول عوامی رہنما کی حیثیت حاصل تھی۔ لیکن پارٹی کے اندر ان کی مخالفت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ انہیں اسمبلی انتخابات کے لیئے ٹکٹ ہی نہیں دیا گیا تھا لیکن جب اس پر سخت احتجاج ہوا تو انھیں ٹکٹ دے دیا گیا۔ اس وقت مارکسی اعتدال پسند اور سخت گیر لیڈروں کے بیچ اصلاحات کے لیئے کشمکش چل رہی ہے۔ اگر مغربی بنگال کے مارکسی وزیراعلٰی بدھا دیب بھٹاچاریہ ایک آزاد خیال اصلاحات پسند رہنما کی حیثیت سے ابھرے ہیں تو دوسری طرف اچوتانندم کو سخت گیر کمیونسٹ نظریات کا حامل لیڈر سمجھا جاتا ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کے اس عروج کی پارٹی کی اندرونی سیاست اور کیرالا کی سرکاری پالیسیوں پر کیا اثر پڑتا ہے۔
مسلم لیگ کی ہار کیرالا کے نتائج کا ایک اور خاص پہلو یہ ہے کہ متحدہ جمہوری محاذ میں شامل انڈین یونین مسلم لیگ کو بری طرح شکست اٹھانی پڑی ہے۔ گزشتہ پانچ برس سے یہ پارٹی کانگریس کی زیر قیادت حکومت میں شریک تھی لیکن اب کی بار اس نے جن 21 نشستوں پر مقابلہ کیا اس میں سے صرف 8 پر اسے کامیابی مل سکی۔ یہ مسلم لیگ کا اب تک کا سب سے خراب دور ہے۔ اس سے پہلے وہ 1991 میں 19 اور 1994 میں 13 نشست جیت چکی تھی۔ اس نتیجے کو کیرالا کی سیاست اور خاص طور پر مسلم سیاست میں ایک بہت بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اس الیکشن میں صرف مسلم لیگ کانگریس کے ساتھ تھی جبکہ دوسری مسلم جماعتیں بشمول جماعت اسلامی بائیں بازو کے محاذ کے حق میں تھیں اور اب فطری طور پر مسلم لیگ کے مقابلے میں ان دوسری مسلم جماعتوں کی عوامی اور سیاسی طاقت میں زیادہ اضافہ ہوگا۔ ویسے مسلم لیگ سے الگ ہو کر انڈین یونین لیگ بنانے والے ابراہیم سلیمان سیٹھ مرحوم کی اس پارٹی کو پہلی مرتبہ ریاستی اسمبلی میں ایک سیٹ حاصل ہوئی ہے۔ مسلم لیگ کو ان نتائج سے اِتنا بڑا دھکہ لگا ہے کہ اس کے تین بڑے لیڈروں پی کے کنہالی کٹّی ، ای ٹی محمد شبیر اور کٹی احمد کٹی نے اپنے عہدوں سے استعفی دے دیا ہے اور اب پارٹی میں ایک نئی قیادت ابھارنے کی کوشش ہورہی ہے۔
خوشحالی کی قیمت ایسا لگتا ہے کہ حیدرآباد نے اپنی بے پناہ تیز رفتار معاشی ترقی اور بڑھتی ہوئی خوشحالی کی قیمت ادا کرنی شروع کردی ہے ۔ خوشحالی اور شہر کی دولت کے چرچوں نے پیشہ ور مجرموں کی ٹولیوں کو بھی اس شہر کی طرف کھینچا ہے۔ چنانچہ شہر میں حالیہ عرصے میں بڑے اور سنسنی خیز جرائم کا ایک سلسلہ چل پڑا ہے۔ اس میں تازہ اضافہ بین الاقوامی شہرت یافتہ گروہ العکاس کے شوروم سے چھ کروڑ روپے کے ہیرے جواہرات لوٹنے کا ڈرامائی واقعہ ہے۔ یہ گزشتہ ایک مہینے میں اس طرح کا تیسرا اور اب تک کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔ خوش قسمتی سے ممبئی پولیس نے اس واقعہ کی ذمہ دار ٹولی کو دو دن کے اندر ہی پکڑ لیا۔ اس ٹولی کا سرغنہ ایک بدنام نقب زن ونود رام بلی سنگھ ہے جو دو مہینے پہلے ہی ممبئی کی جیل سے رہا ہو کر آیا تھا اور باہر آتے ہی اس نے اتنی بڑی کارروائی کرڈالی۔ اس کی دیدہ دلیری کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ اصلی اور نقلی ہیروں کا فرق کرنے والے ایک ماہر کو بھی لے گیا تھا تاکہ العکاس کے شوروم سے صرف اصلی ہیرے جواہرات ہی چرائے جائیں اور نقلی مال لے جانے کی زحمت اٹھانی نہ پڑے۔
سنگھ نے پہلی غلط ممبئی جانے کی کی جہاں سے پولیس نے اسے قانون کے تحت شہر بدر کردیا تھا اور دوسری غلطی یہ کی کہ وہ اس کامیابی کا جشن منانے شراب کے جام لنڈھانے کے لیئے ایک بار میں پہنچ گیا تھا اور اس طرح پولیس کی نظروں میں آگیا۔ لیکن دوسری طرف حیدرآباد میں پولیس انتظامات پر بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں کہ کس طرح ایک مجرم ٹولی آسانی کے ساتھ پچاس کلو ہیرے جواہرات کی چوری کرکے نکل گئی- یہ دونوں ایک محفوظ سمجھنے جانے والے علاقے میں پولیس اسٹیشن سے کچھ ہی فرلانگ کے فاصلے پر چوری کے بعد کسی مشکل کے بغیر سنٹرل بس سٹیشن پہنچے اور وہاں سے وہ پونا اور پونا سے ممبئی گئے۔ ان واقعات نے اب جوہریوں کو اپنی دوکانوں کی سکیورٹی پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ ریاستی حکومت کہہ رہی ہے کہ وہ ان دوکانوں کے لیئے خصوصی سیکورٹی گارڈز فراہم کرسکتی ہے لیکن اس کے لیئے جوہریوں کو فیس ادا کرنی پڑے گی۔ اگر ایسا ہے تو پرائیوٹ سکیوریٹی کیا بری ہے ! | اسی بارے میں نئے منصوبے، آبی ذخائر کو خطرہ18 March, 2006 | انڈیا ’نظام دکن‘ کی نجی زندگی سرخیوں میں26 March, 2006 | انڈیا دکن ڈائری: اگادی، حزب اختلاف کے بھی نجومی۔۔۔01 April, 2006 | انڈیا دکن ڈَائری: ووٹروں کے لیئے کلر ٹیلی ویژن08 April, 2006 | انڈیا بش کے حلیف کی آمد: دکن ڈائری15 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||