BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 April, 2006, 13:12 GMT 18:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کروناندھی کے چاول بمقابلہ جیہ للیتا کے چاول

جیہ للیتا
راشن کارڈ رکھنے والے خاندان کو دس کلو چاول ساڑھے تین روپے فی کلو کے حساب سے خریدنے پر مزید دس کلو چاول مفت دینے کا اعلان کیا
جنوبی ریاست تمل ناڈو میں انتخابی سرگرمیاں اب اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ اصل لڑائی دو محاذوں کے درمیان ہے۔ حکمران جماعت آل انڈیا این ڈی ایم کے کی سربراہ اور وزیراعلیٰ جیہ للیتا ایک محاذ کی قیادت کر رہی ہیں جبکہ اپوزیشن ترقی پسند جمہوری محاذ کی قیادت ڈی ایم کے کے سربراہ کروناندھی کررہے ہیں۔

دونوں کے درمیان اس قدر کانٹے کا مقابلہ ہے کہ رائے شماری کرنے والے ذرائع ابلاغ بھی قطعیت کے ساتھ پیش گوئی نہیں کرسکے ہیں کہ مئی کو مکمل ہونے والے ان انتخابات میں کامیابی کسے ملے گی۔

سیاسی حلقوں میں یہ رائے غالب ہے کہ اب کی بار ایک معلق اسمبلی تشکیل پائے گی جس میں کسی جماعت کو اکثریت حاصل نہیں ہوگی۔ اس صورتحال سے دونوں حریف پریشان ہیں۔

وزیراعلیٰ جیہ للیتانے بھی سستی شہرت حاصل کرنے والے وعدے شروع کردیۓ ہیں۔ ڈی ایم کے نے اگر غریب خاندانوں کو دو روپے فی کِلو چاول اور مفت ٹیلی ویژن سیٹس کا وعدہ کیا ہے تو جیہ للیتا نے اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے ہر راشن کارڈ رکھنے والے خاندان کو دس کلو چاول ساڑھے تین روپے فی کلو کے حساب سے خریدنے پر مزید دس کلو چاول مفت دینے کا اعلان کیا ہے۔

اس طرح اب کروناندھی کے دو روپے کلو چاول کے مقابلے میں جیہ للیتا کے چاول کی قیمت پونے دو روپے کلو ہوگی۔ کیا چار آنے کا یہ فرق انہیں کامیابی دلا سکے گا۔

سیاستدان بیوی کا شوہر
 سبّو لکشمی کا شوہر آج بھی چھ سو روپۓ ماہانہ کی اپنی نوکری جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ پہلے کی طرح پولیس کوارٹروں
ایک جاروب کش خاتون مرکز توجہ
یوں تو تمل ناڈو کے انتخابی منظر پر ہمیشہ فلمی شخصیتیں چھائی رہتی ہیں چاہے وہ رجنی کانت ہوں یا ارجن لیکن اب کی بار ایک جاروب کش یا پولیس کوارٹروں میں جھاڑو لگانے والی 37 سالہ خاتون سبو لکشمی کی دھوم ہے۔ فارورڈ بلاک نے انہیں ذات پات اور چھوت چھات کیلۓ بدنام ترونل ویلی کی ایک ایسی اسمبلی نشست کیلۓ میدان میں اتارا ہے جو دلتوں یا نچلی ذات کے لوگوں کیلۓ محفوظ ہے۔

سبّو لکشمی کا تعلق چماروں اور بھنگیوں کی ذات اروندھا دیار سے ہے اور وہ اب تک محض 140 روپے ماہانہ کی تنخواہ پر پولیس کوارٹروں کی صفائی کا کام کرتی تھیں اور اپنی کالونی میں ایک ایسی محدود زندگی گزارتی تھیں جس میں اونچی ذات ’تھیور‘ کے لوگوں سے ملنے ملانے یا ان کی بستیوں میں داخل ہونے کیلۓ کوئی جگہ نہیں تھی لیکن جب سے فارورڈ بلاک کی ریاستی شاخ کے سربراہ اور فلمی اداکار کارتک نے سبّو لکشمی کو اپنا امیدوار بنایا ہے اس عورت کی زندگی بالکل بدل گئی ہے۔

عوامی منتخبہ نمائندوں کو اپنے کنٹرول میں رکھنے اور ان سے کام لینے کے خواہشمند طاقتور اور ذی اثر تھیوروں نے سبّو لکشمی کیلۓ اپنے گھروں اور تجوریوں کے دروازے کھول دئیے ہیں۔

آج تھیوروں کی شادی بیاہ میں اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جارہا ہے۔ اس کا انتخابی دفتر ایک شاندار بنگلہ میں کھولا دیا ہے۔ ایک تھیور نے اسے مہم چلانے کیلۓ ایک شاندار گاڑی دی ہے اور اس کا مقابلہ جیہ للیتا کے ایک وزیر یس کروپّو سوامی اور ڈی ایم کے کے سابق وزیر تھنگاویلو سے ہے۔ لیکن سبّو لکشمی کو یہ احساس بھی ہے کہ اگر وہ یہ الیکشن ہار جاتی ہے تو اسے اپنی پرانی زندگی میں واپس لوٹ جانا پڑے گا۔ شاید اِسی لۓ سبّو لکشمی کا شوہر آج بھی چھ سو روپے ماہانہ کی اپنی نوکری جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ پہلے کی طرح پولیس کوارٹروں کی صفائی کرتا ہے۔

پولس سربراہ عدالت کے کٹہرے میں
دہشت گردی کے مسئلہ کے حوالے سے مسلم اقلیت کے تئیں پولیس کا رویہ ان دنوں موضوع بحث بنا ہوا ہے جبکہ ایک نوجوان محمد فیروز خان کی گمشدگی کے ایک مقدمے میں ریاستی ہائی کورٹ نے ریاستی پولیس کے سربراہ سورنجیت سین کو عدالت میں طلب کیا۔

محمد فیروزخان 23 مارچ کو جو مسجد گیا تو پھر واپس نہیں آیا اور اس کے خاندان نے عدالت سے شکایت کی ہے کہ پولیس ہی اس کی گمشدگی کی ذمہ دار ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ اکتوبر میں پولیس ٹاسک فورس کے ہیڈ کوارٹر میں جو خودکش بم حملہ ہوا تھا اس میں فیروز ایک گواہ تھا کیونکہ وہ اس مقدمے کے دو ملزمان کلیم اور زاہد سے واقف تھا۔ پولیس نے اس سلسلے میں فیروز خان کا بیان بھی قلمبند کیا تھا اور اس کے بعد ہی وہ لاپتہ ہوگیا۔

جسٹس بلال نازکی اور جسٹس جی چندریا پر مشتمل ایک ڈیویژن بنچ نے پچھلی سماعت میں پولیس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس والوں کو لائسنس یافتہ غنڈہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ پولیس کس طرح کام کرتی ہے۔

عدالت نے پولیس کو جمعہ یعنی 28 اپریل تک مہلت دی تھی کہ وہ فیروز کا پتہ لگائے اور اسے عدالت میں پیش کرے۔ پولیس نے اس کیلۓ پچاس ہزار روپے کے انعام کا اعلان کیا لیکن فیروز کا پتہ نہیں چل سکا۔ سورنجیت سین نے عدالت میں حاضر ہو کر یقین دلایا کہ پولیس فیروز کی تلاش میں مزید شدت پیدا کردے گی۔

اس سے ملتے جلتے ایک اور واقعہ میں ایک اور لاپتہ نوجوان فرحان حسینی کے والد سید صادق اللہ حسینی کا صدمے سے انتقال ہوگیا۔ نوجوان کی والدہ اقبال بیگم کی شکایت ہے کہ جب سے ان کا نوجوان بیٹا لاپتہ ہوا اور انہوں نے اس کی شکایت پولیس میں شکایت درج کروائی تب ہی سے پولیس انہیں سخت ہراساں کررہی تھی اور اسی دباؤ سے ان کا انتقال ہوگیا۔

اب یہ خاندان اپنی شکایت عدالت کے سامنے لے جانے کی سوچ رہا ہے کیونکہ ان کا خیال یہ ہے کہ ان کے بچے کو پولس نے ہی غائب کیا ہے۔

اِنفارمیشن ٹکنالوجی کے میدان میں بڑھتے ہوئے قدم
چلتے چلتے آخری خبر انفارمیشن ٹکنالوجی کے میدان سے جہاں سالانہ
کاروباری نتائج اور اعداد و شمار کا اعلان کردیا گیا ہے۔ ان کے مطابق سن دو ہزار چھ اور پانچ کے دوران ہندوستان نے ایک لاکھ کروڑ روپے کی مالیت کا سافٹ ویر برآمد کیا۔

ان میں سینتیس ہزار کروڑ روپے کے ساتھ کرناٹک پہلی پوزیشن پر پندرہ ہزار کروڑ روپے کے ساتھ مہاراشٹرا دوسری پوزیشن پر، چودہ کروڑ روپے کے ساتھ تمل ناڈو تیسری پوزیشن پر اور ساڑھے بارہ ہزار کروڑ روپے کے ساتھ آندھرا پردیش چوتھے نمبر پر رہا۔

سافٹ ویر برآمدات میں اضافے کی قومی شرح جہاں 36 فیصد رہی وہیں آندھرا پردیش میں یہ شرح تمام ریاستوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ 52 فیصد رہی۔ آندھرا پردیش کی حکومت نے آئندہ چار برسوں میں آئی ٹی برآمدات کو 69 ہزار کروڑ روپے تک پہنچانے کا نشانہ رکھا ہے۔ اس کے علاوہ آئی ٹی شعبے میں کام کرنے والوں کی تعداد کو ایک لاکھ 65 ہزار سے بڑھا کر تین لاکھ تک پہنچانا چاہتی ہے۔ ریاستی حکومت کے حوصلے اس بات سے بھی بلند ہوگئے ہیں کہ آئی ٹی شعبے کی دو بڑی کمپنیوں وپرو اور ٹی سی ایس نے حیدرآباد میں مزید توسیعی منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ ٹی سی ایس نے اپنے نئے کیمپس میں مزید چھ ہزار افراد کو اور وِپرو نے 30 ہزار افراد کو بھرتی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد