خوشی کے ساتھ ساتھ تکلیفیں بھی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صاحبو! اس ہفتے کی ڈائری کا آغاز ایک اچھی خبر سے۔ جنوب مغربی مونسون اپنےمقررّہ وقت سے تقریباً ایک ہفتہ قبل ہی ہندوستان کے انتہائی جنوبی سرے یعنی کیرالا کے ساحل سے ٹکراگیا ہے اور کیرالہ کے کئی ضلعوں میں جمعہ کے دن سے ہی بارش شروع ہوگئی ہے۔ اب بارش کے پیامبر مونسون کے گھنے بادلوں کی اگلی منزل ملک کا شمال مشرقی علاقہ ہوگا۔ کیرالا سے یہ مونسون کرناٹک اور پھر یکم جون تک آندھرا پردیش تک پہنچ جائے گا۔ حالانکہ عموماً کیرالہ میں داخل ہونے کے ایک ہفتے بعد ہی مونسون آندھرا پردیش پہنچتا ہے لیکن اب کی بار مونسون بارش سے آندھرا پردیش کے موسم کا رنگ پہلے ہی تبدیل ہوگیا ہے۔ مئی کا آخری ہفتہ جو شدید ترین گرمی کے لیئے مشہور ہے اب کی بار انتہائی خوشگوار ثابت ہوا ہے۔ لیکن حیدرآباد میں عوام کی مشکلات برابر جاری ہیں۔ صرف ان کا نام تبدیل ہوگیا ہے۔ لوگ پہلے گرمی سے پریشان تھے اور اب بارش کے اس پانی سے پریشان ہیں جس نے حیدرآباد شہر کی سڑکوں اور چوراہوں کو جھیلوں میں تبدیل کردیا۔ حالانکہ ہر برس موسم برسات سے عین قبل بلدی حکام اس بات کا بڑا شور مچاتے ہیں کہ اب کی بار انہوں نے بارش کے پانی کے نکاس کی پوری تیاری کرلی ہے، زیر زمین نالوں کو صاف کردیا گیا ہے اور کہیں پانی جمع نہیں ہوگا لیکن اس ہفتے پہلی بارش نے ہی حکام کے ان دعووں کی قلعی اتار دی ہے۔ صرف دو گھنٹے کی بارش سے شہر کے کئی حصے زیر آب آگئے۔ اہم چوراہوں پر کئی فٹ پانی جمع ہوگیا اور سڑکوں پر کئی کِلومیٹر تک ٹریفک جام نے عام زندگی درہم برہم کردی۔ اب اگر موسم برسات کی شروعات کا عالم یہ ہے تو بعد میں کیا ہوگا۔ ادھر حالانکہ محکمہ موسمیات نے پیش قیاسی کی ہے کہ گزشتہ برس کی طرح اب کی بار بھی مونسون معمول کے مطابق ہوگا اور بارش کی سطح نارمل ہوگی لیکن کچھ حلقے اس خدشہ کا اظہار کررہے ہیں کہ مانسون کے قبل از وقت آنے کا مطلب کہیں یہ تو نہیں کہ وہ ختم بھی قبل از وقت ہوجائے گا۔
بارش کی وجہ سے سڑکوں کی حالت زار پر ایک اور سنگین مسئلہ یاد آیا جو آج کل حیدرآباد میں ہر ایک کے ذہن پر چھایا ہوا ہے اور وہ موٹر سائیکل سواروں کے لیئے ہیلمٹ کا قانون نافذ کرنے میں ٹریفک پولیس کی زیادتیوں کا ہے۔ یوں تو پولیس کی زیادتیوں سے حیدرآباد کے عوام پہلے ہی سے سخت نالاں ہیں لیکن گزشتہ دنوں دو نوجوانوں کی موت کے بعد تو لوگوں کا غصہ لاوے کی طرح پھوٹ پڑا۔ یہ دو نوجوان سید شریف اور محمد محسن اس وقت بری طرح زخمی ہوگئے جب ٹریفک پولیس کے ایک جوان نے انہیں ہیلمٹ کے بغیر سواری پر روکنے کی کوشش کی لیکن وہ جب نہیں رکے تو کانسٹیبل نے مبینہ طور پر ان پر لاٹھی پھینک ماری اس کی چوٹ کی وجہ سے وہ گاڑی پر قابو کھو بیٹھے اور روڈ ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئے۔ دونوں کے سر پر سخت چوٹیں آئیں۔ پہلے سید شریف کی موت ہوگئی اور اس کے تین دن بعد محمد محسن کی بھی موت ہوگئی۔ اس پر پرانے شہر کے لوگ سڑکوں پرنکل آئے۔ سید شریف کے جلوس جنازہ میں تشدد پھوٹ پڑا اور پولیس نے بھی لاٹھی چارج کیا۔ حیدرآباد کی اہم مسلم سیاسی جماعت مجلس اتحاد المسلمین نے واقعہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور پولیس کمشنر اے کے موہنتی کے تبادلے کا مطالبہ کیا۔ حالات کو قابو سے نکلتا دیکھ کر حکومت نے دونوں متاثرہ خاندانوں کو 5 ، 5 لاکھ روپے کے معاوضے اور ایک ایک سرکاری ملازمت دینے کا اعلان کیا اور متعلقہ پولیس والوں کے خلاف دو نوجوانوں کی موت کا سبب بننے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ لیکن اس مسئلہ پر عوام اور حکومت کے درمیان کشیدگی ختم نہیں ہوئی۔ ہیلمٹ کے قانون سے عوام کی ناراضگی کے مدنظرحکومت نے اس مسئلہ پر عوام سے رائے لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے جبکہ پولیس نے ہیلمٹ نہ پہننے والوں سے ایسا سلوک کیا ہے۔ گزشتہ مہینے ہی پولیس کی لاٹھی لگنے سے ایک موٹر سائیکل راں کی ایک آنکھ چلی گئی تھی۔ ادھر ریاست کے انسانی حقوق کمیشن نے ان واقعات پر پولیس کمشنر کو نوٹس جاری کی ہے اور حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ کمشنر کے خلاف کارروائی کرے۔
حکومت نے یکطرفہ طور پر کارروائی کرتے ہوئے ہیلمٹ کے لزوم کو برخاست نہیں کرسکتی کیونکہ ریاست کی ہائیکورٹ نے گزشتہ اکتوبر میں ہیلمٹ کو لازمی کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ 70 لاکھ کی آبادی کے شہر حیدرآباد میں سڑک حادثوں میں اموات بڑھتی جارہی تھیں۔ گزشتہ برس حیدرآباد کی سڑکوں پر 1300 سے زیادہ اور پوری ریاست میں دس ہزار سے زیادہ اموات ہوئی تھیں۔ لیکن دوسری طرف ہیلمٹ کے مخالفین کہہ رہے ہیں کہ ہیلمٹ پہننے کے باوجود لوگ سڑک حادثوں میں مر رہے ہیں چنانچہ دو نوجوانوں کی ہلاکت کے ایک ہفتے کے اندر ایک شخص ہیلمٹ پہننے کے باوجود ایک ٹرک کے نیچے آکر کچلا گیا اور اس کی موت ہوگئی۔ اب ریاستی حکومت عدالت سے درخواست کرنا چاہتی ہے کہ وہ ہیلمٹ کو لازمی قرار دینے کی بجائے اختیاری قرار دے۔ جسے جان عزیز ہے وہ پہنے اور جسے نہیں وہ نہ پہنے۔ دیکھنا یہ ہے کہ عدالت کیا کہتی ہے۔ اب تمل ناڈو میں مسلمانوں کے لیئے ریزرویشن دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ آئی آئی یم اور آئی آئی ٹی جیسے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پسماندہ ذاتوں کو 27 فیصد ریزرویشن دینے کا جو فیصلہ حکومت ہند نے کیا ہے اس کی مخالفت میں دلی اور دوسری شمالی ریاستوں میں اونچی ذات کے طلباء مظاہرے اور ہڑتال کررہے ہیں لیکن جنوبی ہند میں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ تمل ناڈو میں سیاسی جماعتیں اس فیصلہ کو جلد سے جلد روبہ عمل لانے کا مطالبہ کررہی ہیں اور ریزرویشن کے مخالفین کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ حیدرآباد میں کمزور طبقات کے طلباء نے ریزرویشن کے حق میں مظاہرے کیئے ہیں۔ | اسی بارے میں ’نظام دکن‘ کی نجی زندگی سرخیوں میں26 March, 2006 | انڈیا پولیس فائرنگ میں ماہی گیر ہلاک27 March, 2006 | انڈیا دکن ڈائری: اگادی، حزب اختلاف کے بھی نجومی۔۔۔01 April, 2006 | انڈیا دکن ڈَائری: ووٹروں کے لیئے کلر ٹیلی ویژن08 April, 2006 | انڈیا بش کے حلیف کی آمد: دکن ڈائری15 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||