BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شمال و جنوب کا فرق، مفت ٹی وی اور پھلوں کا بادشاہ

دلی
دلی میں ڈاکٹروں نے پسماندگی کوٹے کے خلاف طویل ہڑتال کی
سماجی انصاف اور شمال و جنوب کا فرق
جنوبی اور شمالی ہند کے درمیان جو زبردست سیاسی، سماجی، تہذیبی اور لسانی فرق ہے اس کا ایک اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ پسماندہ طبقات کو اعلٰی تعلیمی اداروں میں ریزرویشن یا تحفظات کے جس موضوع پر شمالی ہند کی ریاستوں میں مخالفت کا طوفان مچا ہوا ہے اسی کو جنوبی ہند کی ریاستوں میں زبردست تائید حاصل ہے۔

دلی میں ڈاکٹروں نے اس کے خلاف طویل ہڑتال کی تو چار جنوبی ریاستوں آندھرا پردیش ، کرناٹک ، تمل ناڈو اور کیرالا میں انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کی شاخوں نے پسماندہ طبقات کو تحفظات فراہم کرنے کا فیصلہ جلد سے جلد نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ تمل ناڈو میں تو صورتحال اس حد تک مختلف ہے کہ وہاں کی حکومت نے تمام نجی تعلیمی اداروں میں بھی 69 فیصد تحفظات کا بل منظور کرلیا ہے۔ اس میں سے پچاس فیصد سیٹیں پسماندہ ذاتوں کے لیئے اور باقی 19 فیصد سیٹیں دلتوں اور قبائلیوں کے لیئے ہوں گی اور باقی ذاتوں اور فرقوں کے لوگ صرف 31 فیصد سیٹوں کے لیئے مقابلہ کریں گے تاہم اقلیتی تعلیمی اداروں کو اس قانون کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔ اس طرح سماجی انصاف کی کوششوں کے معاملے میں اگر شمالی ہند ایک طرف جارہا ہے تو جنوبی ہند کی سمت اس سے بالکل الگ ہے۔

مفت ٹیلی ویژن آ رہا ہے

ڈی ایم کے کے رہنما ایم کروناندھی
تمل ناڈو کا ذکر ہو اور مفت رنگین ٹیلی ویژن کی بات نہ ہو ایسا نہیں ہوسکتا۔ تمل ناڈو کے اسمبلی انتخابات سے پہلے ڈی ایم کے پارٹی نے غریب ووٹروں کو مفت رنگین ٹیلی ویژن دینے کا وعدہ کیا تھا چنانچہ اب برسراقتدار آنے کے بعد ڈی ایم کے کے رہنما ایم کروناندھی نے اس وعدے کو پورا کرنے کے لیئے عملی اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔ پہلے مرحلے میں یہ واضح ہوگیا ہے کہ مفت میں بانٹا جانے والا یہ ٹیلی ویژن 14 انچ کا ہوگا اور اس کی تقسیم کا کام آئندہ ستمبر سے شروع ہو جائے گا۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیئے کہ لگ بھگ 52 لاکھ خاندانوں میں تقسیم ہونے والے یہ رنگین ٹیلی ویژن حکومت کو کم سے کم قیمت پر دستیاب ہوں اور اس میں کوئی مالی بے قاعدگی نہ ہو حکومت نے عالمی سطح پر ٹیلی ویژن ساز کمپنیوں سے ٹینڈر طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سکندر آباد کے دو سو سال

سکندرآباد حسین ساگر جھیل کے کنارے آباد ہے
حیدرآباد میں یہ ہفتہ تاریخ کے کچھ اوراق کو پلٹنے اور خاص طور پر دولت برطانیہ سے اس شہر کے ایک خاص تعلق کی یاد تازہ کرنے کا ہے۔تین جون سے حیدرآباد کے جڑواں شہر سکندر آباد کی دوسری صد سالہ تقاریب شروع ہو رہی ہیں۔ دو سو سال قبل یعنی 3 جون 1806ء کو یہ شہر باضابطہ طور پر وجود میں آیا تھا اور اسے تیسرے نظام سکندر جاہ سے موسوم کیا گیا تھا۔ یہ شہر ان برطانوی فوجیوں اور ان کے خاندانوں کے لیئے حسین ساگر جھیل کے اس پار بسایا گیا تھا جو نظام دکن اور برطانیہ کے درمیان ایک سمجھوتے کے تحت وہاں آئے تھے تاکہ مراٹھوں کے حملوں سے حیدرآباد کو بچانے میں مدد دے سکیں۔ انگریزوں کی یہ آمد اور سکندر آباد کا قیام دکن میں ترقی اور جدید سہولتوں کی فراہمی کے ایک نئے دور کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا چنانچہ نظام سٹیٹ ریلوے کے تحت پہلا ریلوے اسٹیشن سکندرآباد میں 1874 میں قائم ہوا اور اس کے بعد ایک جدید ہسپتال وجود میں آیا جسے پہلے شاہ ایڈورڈ کے نام سے اور بعد میں گاندھی جی سے موسوم کیا گیا۔ اس وقت بننے والی بے شمار عمارتیں کلاک ٹاور ، سینٹ جانس اور سینٹ میریز چرچ آج بھی اس دور کی یادگار ہیں۔ ریاستی حکومت نے اس شہر کی سالگرہ تقاریب آئندہ ایک برس تک زور و شور سے منانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کا آغاز اس ہفتہ ایک رنگارنگ کارنیوال سے ہورہا ہے-

پھلوں کے بادشاہ کے دربار میں

ایک طرف تین کلو کا آم تو ایک طرف صرف 75 گرام کا
چلتے چلتے آخری بات پھلوں کے بادشاہ یعنی آم کی جس نے حیدرآباد میں اپنا ایک شاندار دربار لگایا ہے۔ عام طور پر مون سون کی شروعات کو آموں کے موسم کا اختتام سمجھا جاتا ہے لیکن اب کی بار ایک طرف رم جھم برسات جاری ہے تو دوسری طرف فضا آموں کی خوشبوؤں بھری ہوئی ہے۔ اس ہفتے محکمۂ باغبانی نے آموں کی ایک بڑی دلچسپ اور رنگارنگ نمائش منعقد کی جس میں پورے دو سو اکیس قسم کے آم رکھے گئے۔ نمائش میں اگر لنگڑا، دسہری حمایت اور بے نشان اپنے پرانے ذائقے کے ساتھ موجود تھے تو ان کے مقابلے میں کیسر، نونیتم، سورن لیکھا، پیدا اور چنا رسال غرض کہ ہر رنگ اور ہرخوشبو کے آم موجود تھے۔
نمائش میں 221 قسم کے آم موجود تھے
ایک طرف’سورا‘ تھا جس کا ہر پھل تین کلو کا تھا تو اس کے مقابلے میں سب سے چھوٹا آم ’چیکر اگتھی‘ تھا جس کا باریک پھل صرف 75 گرام کا تھا۔ ایک ہی چھت کے نیچے اتنے ڈھیر سارے آموں کی اقسام کی یہ نمائش اپنی طرح کا ایک انوکھا منظر تھا جو بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ نمائش آندھرا پردیش کے لیئے ایک خاص تجارتی اور اقتصادی اہمیت کی حامل تھی کیونکہ آندھرا پردیش پورے ملک میں آموں کی پیداوار میں سرفہرست ہے۔ ریاست میں چار لاکھ ہیکٹر رقبے پر آموں کی کاشت ہوتی ہے اور ہر سال تیس لاکھ میٹرک ٹن آم پیدا ہوتے ہیں۔
کرزئیدکن ڈائری
بش کے بعد بش کے حلیف اور بنگلور کا امیج
دکن ڈَائری
تامل ناڈو میں کلر ٹی وی کا انتخابی وعدہ
دکن ڈائری
سالِ نو پراگادی، حزب اختلاف کے بھی نجومی۔۔۔
نظام کے زیوراتدکن ڈائری
’نظام دکن‘ کی نجی زندگی سرخیوں میں
صدر بشدکن ڈائری
بش کادورہ: ’پانچ اندھوں کا ہاتھی‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد