’مسلمان گجرات سے سبق سیکھیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں ہندو نظریاتی تنظیم وی ایچ پی یعنی وشو ہندو پریشد نے کہا ہے کہ قومی گیت ’وندے ماترم‘ کی مخالفت ملک کے ساتھ غداری ہے اور حکومت کو چاہیئے کہ اس گیت کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ بعض مسلم حلقوں کواس گیت پراعتراض ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں اسے پڑھنے پر مجبور کیا گیا تو وہ اس کے خلاف سخت احتجاج کریں گے۔ وشو ہندو پریشد کے صدر اشوک سنگھل نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے ہر باشندے کے لیئے ’وندے ماترم‘ گانا لازمی ہے اور اگر کوئی اس کی مخالفت کرے تو ’وہ کسی دوسرے ملک میں اپنے لیئے جگہ تلاش کر لے۔ اس کی مخالفت آئین کی مخالفت ہے اور حکومت ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کرے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان غداری کی پالیسی پر چل رہے ہیں۔ ’ کہا جارہا ہے کہ اگر اٹھارہ کروڑ مسلمان ہتھیار اٹھالیں گے تو بھارت کا کیا ہوگا، تو کیا سوکروڑ ہندوؤں کی رگوں میں پانی بہتا ہے‘۔ بعض مسلم حلقوں کی طرف سے قومی ترانے وندے ماترم پر اعتراض ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس گیت کے پڑھنے پر کسی کو مجبور نہیں کیا جانا چاہیئے۔ جامع مسجد کے امام سید احمد بخاری کہتے ہیں کہ محبوب و معبود کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ ’ہم ملک کے وفاداراور اس سے محبت کرتے ہیں لیکن مسلمان اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت کو برداشت نہیں کرسکتا ہے‘۔ وی ایچ پی کے صدر اشوک سنگھل کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی اوقات میں رہنا چاہیئے اور ہندو انہیں ایک حد سے زیادہ برداشت نہیں کر سکتے۔ ’اگر مسلمان آرپار کی لڑائی کے لیئے تیار ہیں تو ہندو بھی تیار ہیں اورگجرات اس کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ گجرات فسادات کے بعد بھی مسلمانوں کو ان کی حیثیت کا اندازہ ہوگیا تھااور اس سے انہیں سبق حاصل کرنا چاہیئے‘۔ انہوں نے حکومت پر بھی اس بات کے لیے نکتہ چینی کی ہے کہ وہ مسلمان ووٹ بینک پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ یہ پورا تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب مرکزی حکومت نے وندے ماترم گیت پڑھنے کے لیئے تمام ریاستوں کو ایک نوٹس جاری کیا تھا۔ مسلمانوں کے اعتراض کے بعد حکومت نے یہ وضاحت کی کہ یہ کسی پر لازم نہیں کیا گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور وی ایچ پی کا کہنا ہے کہ حکومت نے مسلمانوں کے دباؤ میں یہ قدم اٹھایا ہے۔ بنگالی شاعر و مفکر بنکم چند چٹرجی کے قومی گیت وندے ماتر پر اس سے پہلے بھی کئی بار تنازعہ ہوا ہے۔ لیکن اب زیادہ تر لوگ اس سے بچتے ہیں۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ یہ ملک کا ایک ثقافتی مسئلہ ہے اور اور اسے مذہبی تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیئے۔ آئندہ سات ستمبر کو اس گیت کے سو برس پورے ہورہے ہیں اور اس موقع پر پورے ملک میں اس کی صد سالہ تقریب کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ | اسی بارے میں راج ببر پارلیمانی بورڈ سے معطل07 February, 2006 | انڈیا ہندوؤں کی مسلمانوں کودھمکی05 October, 2005 | انڈیا اڈوانی کا مستعفیٰ ہونے کا فیصلہ18 September, 2005 | انڈیا خوف میں گھِرے ایودھیا کے مسلمان 03 August, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||