BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 10 September, 2006, 12:51 GMT 17:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی مسلمان پھر ’مشکوک‘ ہوگئے

مسلمانوں پر شکوک
بھارتی مسلمان اپنے ہی ملک میں مشکوک ہو گئے۔
میرا تعلق ہندوستان کی جنوبی ریاست حیدرآباد سے ہے۔ جب ہندوستان تقسیم ہوا اس وقت میں بچہ تھا اور حیدرآباد دکن ایک مسلم ریاست تھی۔

حیدرآباد کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ ایک مسلم ریاست ہونے کے باوجود یہاں کبھی ہندو مسلم فسادات نہیں ہوئے اور اس کی سب سے اہم وجہ وہاں کی روایت تھی جو ساڑھے پانچ سو سال میں ابھر کر سامنے آئی تھیں۔اس روایت کو برقرار رکھنے میں نظاموں کی وہ سوچ بھی اہمیت رکھتی تھی کہ انکی ایک آنکھ مسلما ن ہے اور دوسری ہند کی ہے تو وہ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مجھے ایک آنکھ سے زيادہ محبت ہے اور دوسری سے نہیں۔

اور جب بنگال تقسیم ہوگیا تو اس وقت جواہر لعل نہرو نےاس دن کو سب سے افسوس ناک قرار دیا تھا کیوں کہ ان کے خیال میں اس بٹوارے نے سیکولرازم کی مثال کو کئی حصوں میں تقسم کر دیا تھا۔

اور جب میں نے فلم انڈسٹری کی طرف رخ کیا تو وہاں بھی ماحول ایسا ہی ملا۔ یا پھر یوں کہیں کہ کچھ زيادہ ہی بہتر کیوں کہ فلم انڈسٹری ملک میں سیکولرازم کی ایک مثال پیش کر تی ہے جہاں انسانی رشتوں کے درمیان مذہب نہیں آتا ہے۔

لیکن اگر بات ہندی فلموں کی کریں تو میری نظر میں صرف دو فلمیں ایسی بنی ہیں جن میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہندوستان کے مسلمان پاکستان کی حمایت کرتے ہیں اور ان میں حب الوطنی کے جذبات پر سوال اٹھایا گیا۔ یہ سچ ہے کہ پاکستان میں کچھ عکسریت پسند بھی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہندوستان میں رہنے والے مسلمان ہندوستانی نہیں ہیں۔

لیکن جلد ہی لگان جیسی ایک فلم آئی جس نےہندوستان کی فلم انڈسٹری کی سیکولر امیج کو زندہ کیا۔اس فلم ميں سبھی برادریوں کی یکجہتی کو پیش کیا گیا۔

اگر ہم فلموں کی تاریخ کا ذکر کریں تو ان فلموں میں دو قسم کے عناصر تھے جس میں ایک تاریخی پہلو تھا اور دوسرا جدیدیت کا پہلو تھا اور فلموں میں جدیدیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فیملی سوشل تھیم کا ایک اہم مقام ہوتا تھا۔ لیکن ہندو اور مسلم ’فیملی سوشل‘ کو دکھاتے ہوئے فرق نظر آتا تھا۔

ایسی فلموں میں جب کسی ہندو کردار کو دکھایا جاتا تھا تو اس میں ہندوستانی روایات پر یوروپی اثرات اور انکی مخالفت کے درمیان تنازعہ نظر آتا تھا ۔

ان میں ہندوستانی روایت قوم پرستی تھی اور یوروپی روایت غلامانہ ذہنیت کا مظہر تھی جبکہ مسلم فیملی سوشل میں مسلمانوں کی تعریف ’ نواب ، کباب اور شراب ‘ سے کی جاتی تھی۔

اس دور میں محبت کی مختلف داستانوں پر مبنی کئی فلمیں بنی ہیں جس کا سلسلہ فلم ’ چودویں کے چاند‘ تک جاری رہا۔

لیکن جب ملک میں ادب کی دنیا میں ترقی پسند تحریک کی شروعات ہوئی تو انڈسٹری میں بھی نئے نئے ادیب آئے اور فلموں کی سکرپٹ اور کہانی میں زبردست تبدیلی آنے لگی۔

یہ آزاد ہندوستان سے ذرا پہلے کا دور تھا اور ملک دو حصوں میں تقسیم ہونے والا تھا۔ملک میں جب پاکستان مخالف نعرے لگ رہے تھے لیکن اس وقت بھی فلم انڈسٹری نے اپنے سیکولر کردار کو نہیں چھوڑا۔

لیکن جب ملک تقسم ہوا تو ہندوستان میں موجود اکثریت کے ذہن میں ایک سوال ضرور پیدا کر دیا کہ مسلمانوں کے پاس ہندوستان میں رہنے کے ساتھ ساتھ پاکستان جانے کا بھی ایک راستہ کھلا ہوا ہے۔

لیکن جب بنگلہ دیش وجود میں آيا تو ہندوستانی مسلمانوں کو پوری طرح سے اپنا لیا گیا اور انہيں ایک عام ہندوستانی شہری کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔

لیکن انیس سو نوے کی دہائی میں ایک بار پھر ہندو اور مسلم کے درمیان خلیج پڑ گئی جب بابری مسجد کو منہدم کر دیا گیا۔اس واقعہ کے بعد ہی مسلمانوں کے ذہن میں یہ بات گھر کرگئی کہ ان کے آباواجداد کی سزا انہیں دی جا رہی ہے۔ اسی کے سبب مسلم دائرے میں آ گئے۔

اسی کے بعد گودھرا اور اس کے بعد ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات نے ان کے خدشات کو مضبوط کر دیا۔

اسی دوران جب ہندوستان میں مسئلہ کشمیر پر بحث چھڑی ہوئی تھی تو امریکہ میں نائن الیون کا واقعہ پیش آیا۔ کشمیر میں سے پنڈتوں کو نکالا گیا اور آزادی کے جنگ کو بھی فرقہ وارنہ رنگ دے دیاگیا۔

اور اب حالات یہ ہیں کہ جب بھی کوئی دہشت گرد حملہ ہوتا ہے تو سب سے شک مسلمانوں پر کیا جاتا ہے۔

اس کی حالیہ مثال ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں ہونے والے بم دھماکے ہيں اور سب نے یہی شک ظاہر کیا کہ کہ حملہ آور شہر کے مسلم علاقوں میں چھپے ہوئے تھے۔

جب کوئی مذہبی رہنماء یہ نعرا لگاتا ہے کہ ان کا مذہب خطرے میں ہے تو عام انسان بھی اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگتا ہے۔ اور اسی کی گھبراہٹ بھی بڑھ جاتی ہے۔

مسلمانوں کو غیر محفوظ ہونے کا احساس ہونا لازمی ہے کیوں کہ نائن الیون کے بعد حملوں میں جو نام سامنے آيا تو وہ ایک مسلم تنظیم تھی۔اس خوف کو اسی وقت ہی اقلیتوں کے ذہن سے نکالا جا سکتا ہے جب وہ خود کو ان لوگوں سے علیحدہ کر ليں جن کے خیالات ان سے نہیں ملتے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد