سیمی پر بغاوت کا مقدمہ ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہرائچ کی ایک مقامی عدالت نے ممنوعہ تنظیم سٹوڈنٹ اسلامک موومنٹ آف انڈیا یعنی سیمی کے سابق صدر شاہد بدر فلاحی اور دیگر گیارہ کارکنوں خلاف ملک سے بغاوت کا مقدمہ ریاستی حکومت کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے ختم کر دیاہے۔ ضلعی جج اجے کمار سنہا نے سرکاری وکیل انوار اسد خان کی درخواست پر غور کرتے ہوئے کہا کہ الزامات سیاسی اسباب کی بنا پر لگائے گئے تھے اور مقدمہ چلانےکے لیئے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں۔ سن دو ہزار ایک کے دوران اتر پردیش میں بی جے پی کے دورِ حکومت میں مذکورہ مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ شاہد بدر فلاحی اور ان کے ساتھیوں نے بہرائچ کے سر سید کالج میں گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔ منگل کو عدالت نے مذکورہ جلسہ کی تقریر کی آڈیو ٹیپ کے سنی۔ ساتھ ہی مخالف فریق کے دلائل بھی سنے۔ ایڈوکیٹ وچار منچ تنظیم کے صدر بھگوان بخش سنگھ سینگر اور سرپرست وجے کالیا نے مقدمہ مزید نہ چلانے کے فیصلے کی مخالفت کی۔ عدالت کے فیصلے پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے12 ملزمان میں سے ایک محمد انیس نے بی بی سی کو بتایا کہ حق و انصاف کی جیت ہوئی ہے۔ انہوں نےبتایا کہ ’ديگر الزامات سے بھی تمام لوگ باعزت بری ہوں گے کیوں کہ ہمیں نا حق پھنسایا گیا ہے‘۔ دوسری جانب بھگوان بخش سنگھ نے کہا کہ وہ ضلع جج کے فیصلے کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔ | اسی بارے میں سیمی کے خلاف مقدمہ مؤخر 18 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے: ’سیمی‘ کی مذمت 13 July, 2006 | انڈیا دلی: ’اردو اور نیو میڈیا‘ سیمینار01 February, 2006 | انڈیا ممبئی: تفتیش لشکر سے آگے بڑھ گئی15 July, 2006 | انڈیا ممبئی: حملہ آوروں کا سراغ نہیں ملا18 July, 2006 | انڈیا ممبئی گرفتاریاں، سچ کیا ہے؟23 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے، مزید دو افراد گرفتار 25 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے:مسلم صحافی گرفتار31 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||