BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 September, 2006, 18:43 GMT 23:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیمی پر بغاوت کا مقدمہ ختم

سیمی کی قیادت پر مقدمہ ممبئی بم دھماکوں کے بعد بنایا گیا تھا
بہرائچ کی ایک مقامی عدالت نے ممنوعہ تنظیم سٹوڈنٹ اسلامک موومنٹ آف انڈیا یعنی سیمی کے سابق صدر شاہد بدر فلاحی اور دیگر گیارہ کارکنوں خلاف ملک سے بغاوت کا مقدمہ ریاستی حکومت کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے ختم کر دیاہے۔

ضلعی جج اجے کمار سنہا نے سرکاری وکیل انوار اسد خان کی درخواست پر غور کرتے ہوئے کہا کہ الزامات سیاسی اسباب کی بنا پر لگائے گئے تھے اور مقدمہ چلانےکے لیئے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں۔

سن دو ہزار ایک کے دوران اتر پردیش میں بی جے پی کے دورِ حکومت میں مذکورہ مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ان پر الزام تھا کہ شاہد بدر فلاحی اور ان کے ساتھیوں نے بہرائچ کے سر سید کالج میں گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔

منگل کو عدالت نے مذکورہ جلسہ کی تقریر کی آڈیو ٹیپ کے سنی۔ ساتھ ہی مخالف فریق کے دلائل بھی سنے۔

ایڈوکیٹ وچار منچ تنظیم کے صدر بھگوان بخش سنگھ سینگر اور سرپرست وجے کالیا نے مقدمہ مزید نہ چلانے کے فیصلے کی مخالفت کی۔

عدالت کے فیصلے پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے12 ملزمان میں سے ایک محمد انیس نے بی بی سی کو بتایا کہ حق و انصاف کی جیت ہوئی ہے۔

انہوں نےبتایا کہ ’ديگر الزامات سے بھی تمام لوگ باعزت بری ہوں گے کیوں کہ ہمیں نا حق پھنسایا گیا ہے‘۔

دوسری جانب بھگوان بخش سنگھ نے کہا کہ وہ ضلع جج کے فیصلے کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد